Chitral Times

Jan 27, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیکیورٹی معاملات پر سیاسی بیان بازی قوم کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے، دہشت گردی و تخریب کاری جہاں بھی ہو قابل مذمت ہے،.صوبائی وزرا کی پریس کانفر

Posted on
شیئر کریں:

سیکیورٹی معاملات پر سیاسی بیان بازی قوم کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے، دہشت گردی و تخریب کاری جہاں بھی ہو قابل مذمت ہے،خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی حالات کا دیگر صوبوں کیساتھ تقابلہ عقل و فہم سے باہر ہے، ڈیورنڈ لائن کیساتھ جُڑے خطرات کو پختونخوا کے حالات سے علیحدہ دیکھنا درست نہیں، امپورٹڈ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کی طرح سیکیورٹی کے حالات بھی مخدوش ہوئے، مفتاح اسماعیل کو لکھے گئے خط میں واضح الفاظ میں سیکیورٹی خدشات کا ذکر کیا، وفاقی حکومت سیاسی بیان بازی کے پیچھے اپنی ذمہ داریوں سے چُپ رہی ہے، پختونخوا کے عوام نے اپنی جانوں کی قربانی دیکر ملک بھر کے 90 فیصد دہشت گردی کے واقعات بھُگتے ہیں، ایسے بیانات سے شہدا کے اہل خانہ کی دل آزاری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، اتنے واقعات و شہادتوں کے بعد بھی میرا جوان اپنے چیک پوسٹ پر سینہ تھان کر چوکنا کھڑا ہے: صوبائی وزرا کی پریس کانفرس

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر برائے اعلٰی تعلیم کامران بنگش نے مشیر وزیر اعلی برائے داخلہ بابر سلیم سواتی و مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کے ہمراہ صوبے کی سیکورٹی صورتحال پر وفاقی وزراء کی بیان بازی کے ردعمل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی معاملات پر سیاسی بیان بازی قوم کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے، دہشت گردی و تخریب کاری جہاں بھی ہو قابل مذمت ہے،

خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی حالات کا دیگر صوبوں کیساتھ تقابلہ عقل و فہم سے باہر ہے، ڈیورنڈ لائن کیساتھ جُڑے خطرات کو خیبرپختونخوا کے حالات سے علیحدہ دیکھنا درست نہیں، امپورٹڈ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کی طرح سیکیورٹی کے حالات بھی مخدوش ہوئے، مفتاح اسماعیل کو لکھے گئے خط میں واضح الفاظ میں سیکیورٹی خدشات کا ذکر کیا، وفاقی حکومت سیاسی بیان بازی کے پیچھے اپنی ذمہ داریوں سے چُپ رہی ہے، پختونخوا کے عوام اپنی جانوں کی قربانی دیکر ملک بھر کے 90 فیصد دہشت گردی کے واقعات بھُگتے ہیں، ایسے بیانات سے شہدا کے اہل خانہ کی دل آزاری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، اتنے واقعات و شہادتوں کے بعد بھی میرا جوان اپنے چیک پوسٹ پر سینہ تھان کر چوکنا کھڑا ہے۔

 

صوبائی وزرا نے بتایا کہ امپورٹڈ حکومت نے ہمارے سی ٹی ڈی کے بارے میں جو باتیں کی ہیں وہ قابل مذمت ہیں۔ صوبے کے سیکیورٹی حالات بہتر بنانے کیلئے خیبرپختونخوا حکومت ہر وقت کوشاں ہے۔پولیس و دیگر اداروں کی استعداد بڑھانے کیلئے حکومت نے خاطر خواہ اقدامات اُٹھا ئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام کو بھی ملک کے دیگر شہریوں کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ ایک دور تھا جب قبائلی اضلاع سمیت دیگر حساس اضلاع میں جانے کیلئے این ا و سی چاہیے ہوتی تھی۔ امپورٹڈ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کی طرح سیکیورٹی کی حالات بھی مخدوش ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بارڈر سے جُڑے خطرات وفاق کے زیر انتظام ہیں وہ اپنے تحفظات و شکایات کا خود جواب دیں۔ عدم فنڈنگ سے متعلق کئی دفعہ وفاقی حکومت کو آگاہ کیا گیا۔

 

مفتاح اسماعیل کو لکھے گئے خط میں واضح الفاظ میں سیکیورٹی خدشات کا ذکر کیا تھا۔ فنڈز کی عدم فراہمی سے سیکیورٹی سے متعلق ضروری اخراجات بارے بھی آگاہ کیا تھا۔ وفاق کیلئے خیبر پختونخوا کب سے اتنی اہمیت کا حامل ہونے لگا۔ خیبر پختونخوا کی پولیس ملک کی مثالی پولیس ہے اور محکمے میں اصلاحات کے سب شاہد ہیں۔ صوبائی کابینہ ارکان نے پولیس کی کارکردگی کے بارے میں میڈیا کو بتایا کہ ہمارے و دیگر صوبوں کی پولیس کی خودمختاری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ہم نے پولیس ایکٹ میں پولیس کو مکمل بااختیار ادارہ بنادیا ہے۔ہم نے ساڑھے تین سال میں پولیس کا بجٹ دُگنا کیا ہے۔ سی ٹی ڈی کا بجٹ بھی تین سال میں تقریبا دوگنا کردیا گیا۔ آج بھی سی ٹی ڈی کیلئے ضروری پروکیورمنٹ کیلئے ایک ارب روپے کی اصولی منظوری دیدی گئی۔

 

وفاق نے قبائلی اضلاع کے ایم این ایز کو ایک ایک ارب بجٹ دیکر فاٹا کے 55 ارب روپے ہڑپ کئے ہیں۔ ساتوں ریجنز میں سی ٹی ڈی کے دفاتر تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ وزیراعلی محمود خان خود پولیس اصلاحات و خودمختاری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔بنوں میں ہونے والے آپریشن پر وفاقی وزرا کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی کابینہ ارکان نے بتایا کہ خواجہ آصف پختونخوا و اسلام آباد کو الگ الگ پاکستان سمجھتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ شہدا کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کریں، آپ تنقید میں لگے ہیں۔ہم سب ایک پاکستانی ہیں، ملک کو لاحق خطرات پر سیاسی بیان بازی کہاں کی عقلمندی ہے۔


شیئر کریں: