Chitral Times

May 28, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مزے تے ہن آن گے – میری بات; روہیل اکبر

Posted on
شیئر کریں:

مزے تے ہن آن گے – میری بات; روہیل اکبر

پنجابی کی ایک سپر ہٹ فلم وحشی گجر میں میڈیم نورجہان کی آواز کا جادو اس گانے پر تو سر چڑھ کر بول رہا تھا جو اداکارہ آسیہ پر فلمایا گیا یہ گانامزے تے ماہیا ہن آن گے میڈیم کے سپرہٹ گانوں میں سے بھی ایک ہے اور پنجابیوں کی واحد آواز ایف ایم 95 پنجاب رنگ ہے(جسے ایک انتہائی خوبصورت محنتی اور پیاری خاتون صغراں صدف نے اپنی مختصر ٹیم کے ساتھ ایک دلکش اور عوامی ریڈیو بنا دیا ہے) جس نے اس دھرتی کی ماں بولی کو پاکستان کے دل لاہور سے اٹھا کر پوری دنیا میں پھیلا رکھا ہے یہاں پر میں نے اکثر میڈیم نورجہاں کے اس گانے کی فرمائش بھی بہت زیادہ سنی اس گانے میں شروع کا مصرعہ ہے ” تیرے آن دے گھڑاک بڑے ہون گے تو مجھے پی ڈی ایم کے آنے کا وقت یاد آجاتا ہے تحریک عدم اعتماد سے لیکر عمران خان کو گھر بھجوانے تک کیا کیا کھڑاک نہ ہوتے رہے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے غریب عوام کی خدمت کے لیے اور ملک میں برداشت سے باہر ہوتی ہوئی مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ اور دھرنہ بھی دیا تھا اور ان کے وعدے تھے کہ اقتدار میں آکر مہنگائی ختم کردینگے لیکن ہوا کیا بلکل الٹ مہنگائی آسمانوں کو چھونے لگی اور لوگ زمین میں جانے لگے

 

نہیں یقین تو پھر زرا یہ رپورٹ تسلی سے پڑھیں جو پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ میں اختراعات اور انضمام کے سربراہ ارشاد خان عباسی نے ویلتھ پاک کے فورم پر بتائی اور پھر گانے کے دوسرے بول کا مزہ لیں۔پاکستان میں عسکریت پسندوں کی تخریبی سرگرمیوں، پڑوسی ملک افغانستان میں تنازعات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے خوراک کی حفاظت کو پہلے ہی چیلنجز کا سامنا توتھا ہی لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے صورتحال کو مزید خراب کررکھا ہے اوراس وقت دنیا بھر میں تقریبا 193 ملین افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے ترقی پذیر ممالک میں خوراک کی حفاظت کو سب سے اہم عوامل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے عالمی بھوک انڈیکس کے مطابق پاکستان 116 ممالک میں 92 ویں نمبر پر ہے ہم نے 2015 میں غربت میں 50 فیصد کمی کی جو کہ 57 سے 24.3 فیصد ہو گئی لیکن کوویڈ 19 وبائی امراض اور حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے یہ 2022 میں دوبارہ بڑھ کر 35.7 فیصد ہو گئی مہنگائی نے حالیہ برسوں میں خوراک کی حفاظت پربہت زیادہ سنگین اثر چھوڑا توساتھ ہی آسمان کوچھوتی مہنگائی نے عوام کو بنیادی سہولتوں سے بھی محروم اورانتہائی موسمی حالات، خشک سالی اور بے قاعدہ بارشوں نے بھی خوراک کی پیداوار کو کم کر دیاہے

 

کھادوں کی کمی بھی کم پیداوار کا باعث بنی جس سے خوراک کی طلب اور رسد متاثر ہوئی جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی متاثرکن حد تک بڑھ گئی صرف نومبر 2022 کے مقابلے میں پاکستان میں خوراک کی قیمتوں میں 31.20 فیصد اضافہ ہوا ہے حالانکہ ہم ایک زرعی ملک ہیں اور زراعت معیشت کا ایک لازمی جز ہے ہم قومی آمدنی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بہت زیادہ زراعت پر انحصار کرتے ہیں پاکستان جیسا زرعی ملک غذائی تحفظ اورغربت ختم کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے لیکن اسکے لیے کسانوں کو بیجوں، کھادوں اور کیڑے مار ادویات سمیت ان پٹ تک آسان رسائی حاصل ہونی چاہیے تاکہ بہتر بیجوں کے نتیجے میں کسانوں کو زیادہ پیداوار اور منافع ملے جس سے ان کا معیار زندگی بہتر ہو گا ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ابھرتی ہوئی معیشتیں افراط زر کی بدترین سطح کا تجربہ کرتی ہیں اور ہمیں اس ماحول سے اگر نکلنا ہے تو پھر ہر قسم کی معاشی فیصلہ سازی کے لیے ایک مستحکم قیمتوں کا تعین ہونا ضروری ہے جو معاشی ترقی کا باعث بنتا ہے اور غریب اور مقررہ آمدنی والے شہریوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے

 

اصل میں یہی معاشرے کے سب سے کمزور طبقے ہیں جنہیں تب ہی سہولیات میسر ہونگی جب پاکستان کو پیداواری سرمایہ کاری اور بچت کے منصوبوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور موجودہ حکومتی پی ڈی ایم کے آنے کا مقصد بھی تو یہی تھا لیکن ابھی تک سوائے تنگی کے اور کچھ نہیں ہے اور حکمران مزے سے پروٹوکول انجوائے کررہے ہیں وزیرخارجہ جنکے ابھی سے وزیراعظم کے نعرے لگ رہے ہیں حکومتی خرچے پر دشمنوں کو للکار رہے ہیں اور یہاں والے بھی سرکاری خزانے سے اندر والوں کے خلاف برسرپیکار ہیں اوپر بڑے بڑوں نے سینگ پھنسائے ہوئے ہیں اور نیچے غریب کا کھیت برباد ہورہا ہے آپ لڑیں شوق سے عدالتیں بھی ہیں اور قانون بھی جو راستہ بناتا اور بتاتا بھی ہے یہ اقتدار کی جنگ ہے اور اس میں تو سب کچھ چلتا ہے جو نہیں بھی چلنا چاہیے اسے بھی سوشل میڈیا پر چلادیا جاتا ہے اب دن بدن ہماری سیاست میں تیزی آنا شروع ہوچکی ہے پنجاب اسمبلی میں کیا ہونے جارہا ہے

 

عوام کے دکھ اور درد کو مزید کم کرنے کے لیے پی ڈی ایم زخموں پر لگانے والا کونسا مرحم بیچیں گے ایک بات اب واضح ہے کہ یہ جو مرضی کرلیں اب عوام کا ان پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے کیونکہ انہی کے دور میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہیں خاص کر بیرون ممالک بیٹھے ہوئے ہمارے سفارتی عملہ کا بہت ہی برا حال ہے جدہ سے پاکستان کال کرنے کے بھی پیسے انکے موبائل میں نہیں ہوتے جوں جوں پی ڈی ایم کے ساتھ ترقی کا سفر شروع ہے ویسے ہی عوام کو مشکلات اور پریشانیوں کا بھی شدت سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہر گذرتے ہوئے دن کے بعد آنے والے دن میں یہ پریشانیاں آکاش اور امر بیل کی طرح بڑھتی ہی جارہی ہیں یہ وہ کمبل ہے جسے ہم چھوڑنا چاہتے ہیں مگر یہ اب ہمیں چھوڑ نہیں رہا اور اب تو مقابلہ کرنے کی بھی سکت نہیں رہی کیونکہ مہنگائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والوں نے اپنی خاطر نیب قوانین کی جڑ ہی مار دی اور پھر جب قانون ہی نہ ہو تو پھر ڈر کیسا اور خوف کہاں کا اور رہی بات عوام کی تو وہ واقعی اب میڈیم کے گانے ” مزے تے ماہیا ہن آن گے “کا مزہ لیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
69451