Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سرکاری تعلیمی اداروں میں نظام تعلیم ۔ تحریر صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

سرکاری تعلیمی اداروں میں نظام تعلیم ۔ تحریر صوفی محمد اسلم

پاکستان میں تین قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں۔ سرکاری و  پرائیوٹ سکول  اور دینی مدارس ۔ آج ہم سرکاری سکولوں میں رائج نظام تعلیم پر بحث کرینگے۔

سرکاری سکولوں میں اکثر بیشتر وہ لوگ اپنے بچوں کو داخلے کرتے ہیں جنہیں پرائیورٹ  سکولوں میں رسائی نہیں یا فیس ادا نہیں کرسکتے    یا انہیں تعلیم سے وابستگی نہیں یا  بچے تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ پاکستان میں تقریبا 70فیصد لوگ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلے کرواتے ہیں۔ اس سے یہ بات صآف ظاہر ہے مذکورہ بالا لوگوں کے تعداد بہت زیادہ ہیں۔

 

پاکستان   میں 50%  کے بچے اور بچیاں پرائمری سکول پاس کرتے ہیں اور  سال 2017کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں میں پرائمری سکولوں  کے بچوں کی تعداد اس طرح ہے پنچاب میں 5465564 ،خیبر پختونخواہ میں 228023، سندہ 2398592جبکہ بلوچستان میں 488659پڑھتے ہیں  اور  کو 2020 وائس آف امریکہ میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 17فیصد  جبکہ سال 20217 Global Village Space نامی ایک ویب سائیٹ میں  سال 2018 کو شائع شدہ مضموں کے  مطابق 1.5میلین بچے سکول نہیں جاتے ہیں ۔ ایک ویب سائیٹ انڈیپنڈنٹ  اردو  مطابق 2021میں خیبر پختونخواہ سرکاری سکولوں کی کل تعداد 27ہزار 638ہیں  اور ان سکولوں میں بچوں کی تعد 48لاکھ سے زائد ہے۔اسی طرح Global Village Space نامی ایک ویب سائیٹ میں شائع شدہ مضموں کے مطابق خیبرپختونخواہ میں 40,000 سے زائد اساتذہ کو خالصتاً میرٹ پر بھرتی کیا گیا ہے،15000 سے زائد اساتذہ کو انڈکشن ٹریننگ پروگرام سے گزارا جائے گا۔80,000 سے زائد اساتذہ کو انگریزی کے ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کرنے کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ اس وقت 45,000 اساتذہ انگریزی زبان سیکھنے کے لیے صوتیات کے استعمال کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ آج کل اساتذہ کرام  سلکشن بھی کسی حد تک درست ہورہی ہے۔   سرکاری سکولوںمیں  کلاس رومز،اسٹاف روم، لائبریری، لیبارٹری، فری نصابی کتابیں، واش رومز، فرنیچرز، اسپورٹس کے سامان، بچلی اور پانی کی سہولیات مہیا کرنے کی بھی کوشش   کی جارہی ہے ۔

 

بچے بھی نئی دور کے مطالبات اور چیلنجز سے واقف ہیں۔ اگے بڑھنے کی جسمانی و زہنی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ماحول بھی کسی حدتک تک درست ہے۔ ایک ہی پرائمری سکول پاس کرنے  والے سالانہ بچوں کی تعداد کم وبیش ٪67ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے٪50مڈل اور میٹرک  پاس کرتے ہیں ، کالج داخلہ نہیں کرتے ان میں سے دینی علوم ،ملازمت   حاصل کرنے والے بچے شامل ہیں ، اسی طرح بچے کالج اور یونیورسٹی پہنچتے پہنچتے ٪10/15 رہ جاتے ہیں بلکہ دیہاتی علاقوں میں اس سے بھی کم ہیں۔زیادہ تر لوگ اس  کمی کی وجہ معاشی مشکلات بتاتےہیں جو کسی حد تک درست بھی ہے۔ سرکاری کالج اور یونیورسٹیوں میں معیار داخلہ بہت اونچا رکھنے کی وجہ بھی ہے جوکہ سرکاری سکولوں کے  بچوں کی معیار سے بہت بلندہے بتایا جاتا ہے۔ اگر داخلہ مل بھی جائے تو پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں اس کی وجہ ان سکولوں سے فارغ ہونے والے بچوں کیلئے کالج اور یونیورسٹی کے نصاب کو پڑھنا بہت مشکل ہوتاہے خاص کرکے سائینس اورسوشل سائینس،کامرس کے کتابیں جو  کہ انگریزی میں چھپے ہوتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ سرکار اور سوسائٹی کی طرف سے عدم تعاون،توجہ  اور حوصلہ آفزائی کی فقدان بھی شامل ہیں۔

 

سرکار سرکاری سکول بناتا کیوں ہے جبکہ سرکاری سکولوں سے بچے کالج اور یونیورسٹی پہنچتے پہنچتے ختم ہوتے ہیں۔رہتے ہیں تو پرائیویٹ اور پبلک سکولوں کے بچے۔کیا سرکاری سکولوں کی تعمیر سرکار اس نیت سے کرتا ہے کہ بچے پڑھ لکھ کر ملک وقوم کی خدمت کرے۔ مجھے انکے رویوں اور ان کے سرکاری سکولوں سے عدم توجہ اور عدم دلچشپی  نہیں لگتا ہے کہ ایسا ہے بلکہ ان سکولوں کی تعبیر عوامی دباؤ، سرکاری ملازمتوں اور سرکاری فنڈز کو اپنے حلقوں میں لانا اور عوام کو خوش کرکے ووٹ حاصل کرنا ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی سیاسی رہنما،  بیوروکریٹک یا بڑی عہدے پر فائز سرکاری ملازم اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلے نہیں کرتے اورنہ کوئی وزیر یا مشیر ان سکولوں کا دورہ کرنا ہے  دورہ کرتے ہوئے نظر اتے ہیں اور نہ نہ کوئی انسپکشن  کے معقول پالیسی بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔کوئی سرکاری سطح پر تعلیمی سرگرمیوں پر مشتمل بڑے فنگشن یا تعلیمی و آدبی مقابلے ان سکولوں میں نہیں ہوتے ہیں۔ البتہ سال میں ایک دفعہ اسپورٹس، قرات اور نعت خوانی کے مقابلے ڈسٹرکٹ لیول پر ہوتے ہیں جوکہ پھر بھی بہتر ہے۔

 

بڑی تعداد میں لوگ اپنے بچوں کو ان سرکاری سکولوں میں داخلہ کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ آئے روز بڑھتی ہوئی غربت ہے نہ کہ  ان اداروں میں  معیار کی بہتری ۔ اس مہنگائی کے دور میں ہر فرد روز بروز  غریب ہوتا جارہاہے اور پرائیویٹ یا پبلک  سکولوں میں فیس بڑھتے جارہے ہیں اور لوگ سرکاری سکولوں کو ترجیح دیتے  کیونکہ یہ ادارے مفت پڑھاتا ہے ۔اس وجہ سے سرکاری سکولوں میں بچوں کی تعداد سالانہ بڑھتے جارے ہیں ۔ ایک کلاس روم میں کم از کم  50/60بچے پڑھتے ہیں ۔ 40منٹ کیلئے  ایک کلاس میں ایک استاد پڑھاتا ہے۔ ترقی یآفتہ ممالک میں18 بچوں کیلئے ایک استاد مقرر ہوتا ہے۔ اسی حساب سےایک کلاس کے 50/60بچوں کیلئے 3کلاس رومز اورایک سبجکٹ کیلئے  3اساتذہ ہونا ضروری ہے ۔ 50 بچوں کو ایک استاد کیسے کنٹرول کرپائے گا، ان کو پڑھانا انکے ہوم ورکس چیک کرنا اور تربیت کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے، وہ بھی دن میں 6/7کلاس لے کر۔ مطلب صبح 7  سے دوپہر کے 2 بجے تک مسلسل پڑھانا خاص کرکے پرائمری لیول کے بچوں کو۔

 

پاکستان میں تعلیمی نظام کو متاثر کرنے والے بہت سے عوامل ہیں مثلاً معیاری تعلیم تک رسائی کا فقدان، کرپشن، ٹارگٹ کلنگ، غربت،عوامی سطح پر تعلیم کی طرف عدم دلچسپی، ناکآفی سرکاری سرمایہ کاری اور تعلیمی اداروں کی کمی ہیں۔

سرکاری سطح پر مندرجہ زیل اقدامت ضروری ہے تاکہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جاسکے۔

 

  • تمام پاکستانیوں کے لیے یکساں نصاب ہونا چاہیے۔
  • نصاب بین الاقوامی سکول،کالج اور یونیورسٹی کے نصاب سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
  • حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی عملے میں اعلیٰ ماہر اور تجربہ کار لوگوں کو بطور استاد تعینات کرے۔
  • پرائمری لیول پر کم از کم 18 سٹوڈنٹس کیلئے ایک استاد مقرر کرے اور ہر استاد دن میں زیادہ سے ذیادہ  ذیادہ 4کلاسس پڑھائے۔
  • پاکستان کے کم ترقی پذیر علاقوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
  • اداروں میں طلباء کے لیے مزید اسامیاں ہونی چاہئیں۔
  • اساتذہ کو پڑھائی کے جدید طریقہ کار کا ٹریننگ دے۔
  • ااستادکے ٹیچنگ کے معیار کو ریگولر مانیٹر کرے۔
  • تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد مناسب ملازمتوں کی دستیابی ہونی چاہیے۔
  • پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہونی چاہیے۔
  • چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہونا چاہیے۔
  • ڈسٹرکٹ لیول پر منٹرینگ سسٹم بنائےکہ وہ اساتذہ کے ٹیچنگ اوربچوں کے تعلیمی امپرومنٹ  چیک کرے
  • تعلیم میں بدعنوانی سے بچنے کے لیے سخت قوانین کا ہونا ضروری ہے۔

چند مزید اصلاحات وتجاویز ذیل ہیں ۔

  • سوسائٹی میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر  کرنے کیلئے مہم جوئی کرے۔
  • سرکاری اور سیاسی شخصیات کو پابند کرے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلہ کرے۔
  • ۔ کلاس رومز کو اپس میں جبکہ یوسی سی،وی سی، تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول پر سکولوں کو مختلف فیلڈز پر جیسے، ادب، آی کیو، اسپورٹس، تقریر وغیرہ پر مقابلے کروائے اور ہر بچے کو کسی نہ کسی شعبے میں حصہ لینے کیلئے حوصلہ افزائی کرے۔
  • سیاسی و سرکاری اور ادبی شخصیت کو بچوں کی حوصلہ آفزائی کیلئے مدعو کرے۔
  • قابل بچوں کیلئے اسکالرشپ کا اہتمام کرے۔

اگر ان نکات پر عمل کیاجائے تو انے والا دن انتہائی خوشگوار ہوسکتا ہے۔ بچوں میں خود اعتمادی اور اگے بڑھنے کی جستجو پیداہوگا۔ اور یہی بچے پاکستان کے ترقی میں بڑا کردار ادا کرینگے۔

وماعلینا الاالبلاغ

 


شیئر کریں: