Chitral Times

Feb 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اقراء ایوارڈ سال 2022ء کا خوبصورت ترین پروگرام – تحریر: قاضی محب الرحمن

شیئر کریں:

اقراء ایوارڈ سال 2022ء کا خوبصورت ترین پروگرام – تحریر: قاضی محب الرحمن

سال 2022ء اپنے اختتام کے آخری عشرے میں داخل ہوچکا ہے۔2022ء ملک پاکستان کے لئے ہر لحاظ سے آزمائش کا سال رہا۔
پورا ملک قدرتی آفات اور سیلاب کے بے رحم موجوں کی لپیٹ میں رہا اور وادی چترال بھی بے حد متاثر ہوا۔لوگ بے گھر ہوئے۔ لیکن خدمت خلق کے جذبے سے سرشار کچھ شخصیات ایسی بھی ہیں جو ایسی حالات میں لوگوں کے لئے ندا غیبی ثابت ہوتی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک معتبر نام قاری فیض اللہ چترالی کا ہے۔علاقہ موڑکہو کے انتہائی نیک اور پارسا خاندان میں پیدا ہونے والے فیض اللہ آج خدمت کا استعارہ بن چکا ہے۔آپ کے والد گرامی مولانا یوسف مرحوم اور دادی قاضی اویر کی ہمشیرہ دونوں مستجاب الدعوات اور نیک ہستیاں تھی۔زمانہ طالب علمی ہی سے بڑے بڑے علماء،صلحاء اور جبال العلم اساتذہ کے ساتھ نہ صرف خصوصی تعلق قائم کیا بلکہ ان کی ایسی خدمت کی جس کو ہم صرف سوچ ہی سکتے ہیں۔یوں والدین، اساتذہ اور بڑے بڑوں کی دعاؤں کے ساتھ قاری صاحب نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔خلقِ خدا کی خدمت کا بیڑہ ایسا اُٹھایا کہ بڑے بڑے این جی اوز،فاؤنڈیشن اور ادارے بھی وہ کام نہیں کرسکے جو اس عظیم شخصیت نے اکیلے سرانجام دیا ہے۔

 

chitraltimes qari faizullah visit flood hit area of upper chitral1
حال ہی میں اقراء ایوارڈ اور تقسیم انعامات کے عنوان سے منعقدہ پروگرام بھی آپ کی تعلیمی خدمات کا ایک تسلسل ہے۔جو 2003 ء سے تاحال جاری ہے۔چترال کے میٹرک پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کے لئے سالانہ تقریباً 3 لاکھ روپے کے انعامات اور اقراء ایوارڈ آپ کا عظیم کارنامہ اور علمی تاریخ کا ایک روشن چیپٹر ہے۔جس سے نوجوانوں میں مقابلے کا رُجحان جنم لیا اور اعلیٰ سے اعلیٰ نمبر لینے والوں کا جال بچھ چُکا۔اور یہی طلبہ و طالبات مقابلے کے امتحانات آسانی سے پاس کرتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں اور ملک و ملّت کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ اس سلسلے کا انیسواں پروگرام تھا اس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایک ایسے اسٹوڈنٹ کو بھی پہلی پوزیشن کا انعام اور اقراء ایوارڈ سے نوازا گیا جو کہ اس سال میٹرک کا امتحان دے کر ایک جان لیوا مرض کی وجہ سے وفات پائی تھی اور یہ شہزادہ بختیار الدین کی صاحبزادی شہزادی زینب تھی۔اور ان تمام پروگرامات کی خاص بات یہ ہے کہ قاری صاحب خود کسی پروگرام میں شریک نہیں ہوا ہے۔یہ پروگرامات ان کے معتمد خاص،حسنِ چترال مولانا خلیق الزمان خطیب شاہی مسجد چترال انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ سرانجام دیتے آرہے ہیں اور چترال کی تمام کمیونٹی،انتظامیہ اور خصوصی طور پر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی راہنمائی اور مشاور ت سے اس کا انعقاد کرتے ہیں۔

chitraltimes dr bakhtiar received zainab award

اس دفعہ قاری صاحب دسمبر میں چترال میں تھے اور اس پروگرام سے چار پانچ دن پہلے تک چترال میں موجود تھے اور پروگرام کے تمام انتظامات بھی مکمل تھے۔ میں نے خطیب صاحب سے کہا کہ قاری صاحب کی موجودگی میں اگر یہ پروگرام منعقد کی جائے تو اس کا حُسن دوبالا ہوگا تو خطیب صاحب نے کہا کہ قاری صاحب نہیں مان رہے ہیں اور اس کا مزاج بھی ایسا نہیں ہے۔یہ اس کے خلوص کی ایک بیّن دلیل ہے۔

یہ تو قاری صاحب کی وہ خدمات ہیں جو ہم سب کو معلوم ہیں کہ تقریباً 50 لاکھ روپے اس مد میں قاری صاحب نے دئے ہیں۔اس کے علاوہ ماہانہ کئی طلبہ کو جیپ خرچ دینا،کرایہ دینا اور سمسٹر کی فیسیں بھرنے کی ایک لاتعداد فہرست ہے جو صرف انہی کو اور ان کے خدا کو معلوم ہیں۔اقراء کے عنوان پر چترال کے طول و عرض میں 100حلقات(مدرسے) قائم کئے ہیں جو دینی تعلیم علاقے کے لوگوں کی دہلیز پر مفت میں میسر ہیں۔ان مدارس کے اساتذ ہ کو ماہانہ تنخواہیں دینا بھی قاری صاحب کی تعلیمی خدمات کا ایک تسلسل ہے۔ماہانہ کئی بے سہارا اورغریب خاندانوں کے گھروں کی رونق کو بحال رکھنے لئے راشن پیکیج فراہم کرنا،سالانہ سردیوں میں تقریباً 10000 ہزار افراد کو پہننے کے لئے سویٹر کا انتظام کرنا،علاج معالجے کی مد میں لاکھوں خرچ کرنابھی آپ کی خدمات کی فہرست کا حصّہ ہیں۔حالیہ سیلاب میں 3 کروڑ روپے تعاون کا اعلان کیا اور 150 گھروں کی تعمیر کا فیصلہ کیا اور عملی طور پر کام بھی جاری ہے اور برفباری سے پہلے تقریباً 50 گھراور 4 مدرسے اور 4 مساجد کی تعمیر بھی کر چُکے ہیں۔

chitraltimes qari faizullah chitrali flood hit area visit2
قاری صاحب کی انہی علمی،سماجی اور دینی خدمات پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے سال 2022ء کو قاری صاحب کے نام کرتا ہوں اور ڈپٹی کمشنرچترال، گورنر خیبر پختونخواہ،وزیر اعلیٰ کے پی کے،وزیر اعظم پاکستان اور صدرپاکستان سے قاری صاحب کی عظیم تعلیمی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں ان کو” ستارہ امتیاز” سے نوازنے کی اپیل کرتا ہوں۔

chitraltimes qari faizullah chitrali flood hit area visit


شیئر کریں: