Chitral Times

Feb 5, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لواری ٹنل سے ہیوی گاڑیوں کے گزرنے پر پابندی کے حوالے  دیر انتظامیہ اور دیر ٹرانسپورٹ یونین کی غیرقانونی کوشش کا نوٹس لیا جائے۔ تجاراینڈ ٹرانسپورٹ یونین چترال 

شیئر کریں:

لواری ٹنل سے ہیوی گاڑیوں کے گزرنے پر پابندی کے حوالے  دیر انتظامیہ اور دیر ٹرانسپورٹ یونین کی غیرقانونی کوشش کا نوٹس لیا جائے۔ تجاراینڈ ٹرانسپورٹ یونین چترال

چترال( نمایندہ چترال ٹایمز )چترال کی ٹرانسپورٹ یونین، تجار برادری سیاسی وسماجی تنظیموں نے دیر اور چترال کے چار اضلاع میں منافرت،لاقانونیت اور بدنظمی پھیلانے کے لئے دیر ٹرانسپورٹ یونین کی طرف سے لواری ٹنل پرچترال میں داخل ہونے والی ہیوی گاڑیوں کوروکنے اور مال اُتارنے کے لئے اپردیر کی ضلعی انتظامیہ اور عدلیہ کاسہارا لینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کور کمانڈر پشاور،جی او سی ملاکنڈ، آر پی او ملاکنڈ اور کمشنر ملاکنڈ سے فوری کاروائی کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ دیر ٹراسپورٹ یونین کی غیر قانونی کوشش اور سرگرمی کا نوٹس لیا جائے۔اس سلسلے میں اپردیر انتظامیہ نے جو سرکلرجاری کیا ہے اس میں دیر ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندے کا حوالہ دیکر لکھا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ یونین کے مطالبے پر چترال جانے والی ٹرانسپورٹ کو لواری ٹنل پر روکاجائے گا اور سامان کو ان لوڈ کیا جائے گا،اور یہ قدم دسمبر کے مہینے میں اُٹھایا جارہا ہے تاکہ چترال کو اشیائے خوردنوش،تیل،گیس اور دیگر ضروریات کے سامان کی ترسیل بندکرکے یہ کام دیر ٹرانسپورٹ یونین کے حوالے کیا جائے۔

 

تجاریونین کے صدر بشیر احمد، ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران،ٹرانسپورٹ یونین کے محمد یوسف،سیمنٹ اور سریا کے کاروبار سے منسلک حیات الدین،اعجاز احمد ودیگر نے اس سلسلے میں مشترکہ لائحہ عمل طے کرکے بڑے پیمانے پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ایک اخباری بیان میں چترال کے عوامی نمائندوں نے سوال اُٹھایا ہے کہ ٹرانسپورٹ یونین نے اگر کسی عدالت سے حکم حاصل کیا ہے تو چکدرہ،تیمرگرہ اور بٹ خیلہ میں دیر آنے والے ٹرکوں کو خالی کیوں نہیں کیا جاتا؟یہ کیسا عدالتی حکم ہے جوصرف چترال کو آٹا،سیمنٹ،سریا اور گندم لانے والی ٹرکوں پرلاگو ہوتا ہے؟عدالت نے دیر ٹرانسپورٹ یونین کی درخواست پر فیصلہ دینے سے پہلے چترال کے نمائندوں کے موقف کوکیوں نہیں سنا؟ نیز ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دیر نے دیر ٹرانسپورٹ یونین کولیکر میٹنگ کرتے وقت چترال انتظامیہ کواندھیرے میں کیوں رکھا؟یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ چترال پُرامن علاقہ ہے دیر ٹرانسپورٹ یونین افراتفری پھیلاکر امن وامان کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔

 

انھوں نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ این ایچ اے روڈ صرف لواری ٹنل سے آگے شروع ہوتی ہے اگر ہیوی ٹریفک پر پابندی عاید کرنا ہی ہے تواس پر عمل درآمد  چکدرہ پل سےہی ہونی چاہیے۔  مگر دیر انتظامیہ کی یہ عجیب منطق سمحھ سے باہر ہے کہ ہیوی ٹرک پشاور یا چکدرہ سے لواری ٹنل پہنچنے تک این ایچ اے سڑک کو کویی نقصان نہیں پہنچتا صرف لواری ٹنل سے اگے چترال کی طرف جب روان ہونگے تب نقصان پہنچنے کا حدشہ ہے ۔ جوکہ افسوسناک اور ایک مخصوص طبقے کو فایدہ پہنچانے کی ناکام کوشش ہے۔  جسکی جتنی بھی مذمت کی جایے کم ہے۔

انھوں نے مذید کہا کہ گزشتہ سال بھی یہی پریکٹس دیرانتظامیہ کی طرف سے دہرایا گیا تھا جوکہ افسوسناک ہے ۔ انھوں نے خبردار کیا کہ دیر انتظامیہ اپنی اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کرے بصورت دیگر اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جاییگا۔

chitraltimes ac dir upper letter regarding ban on heavy vehicles in lowari tunnel

chitraltimes lowari tunnel dir site truck stop to cross tunne

File Photo : Lowari tunnel Dir side 


شیئر کریں: