Chitral Times

Feb 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ریکوڈیک روشن مستقبل – میری بات;روہیل اکبر

Posted on
شیئر کریں:

ریکوڈیک روشن مستقبل – میری بات;روہیل اکبر

بلوچستان حکومت اور بیرک گولڈ کارپوریشن کے درمیان 8 ارب ڈالر کا ریکوڈک منصوبے کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا جس پر وفاق کے نمائندے نے بھی دستخط کردئیے یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بیرونی سرمایہ کاری کا معاہدہ ہے جس کی مجموعی لاگت 8 ارب ڈالر ہے اس معاہدہ پر دستخط کے بعد پاکستان پر بین القوامی عدالت کی جانب سے عائد 6.5 ارب ڈالر کا جرمانہ بھی غیر موثر ہو گیا، معاہدہ 16 دسمبر 2022 سے نافذ العمل ہوگا اور معاہدے کے تحت کمپنی کام کا فوری آغاز کرے گی اس معاہدے پربیرک گولڈ کارپوریشن کے نمائندے حکومت پاکستان کی جانب سے وفاقی نمائندے اور بلوچستان حکومت کے نمائندے نے دستخط کیے ہیں ریکوڈیک مائن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک بند مائننگ آپریشن ہے جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے ریکوڈک قصبے کے قریب واقع ہے ریکوڈک دنیا میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک ہے جس کے تخمینہ کے مطابق یہاں 5.9 بلین ٹن خام دھات کے ذخائر ہیں جن میں 0.41 فیصد تانبے اور سونے کے ذخائر 41.5 ملین اونس ہیں ریکوڈک کا علاقہ ٹیتھیان میگمیٹک آرک کا حصہ ہے جو وسطی اور جنوب مشرقی یورپ (ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، یونان) ترکی، ایران اور پاکستان کے ہمالیہ کے علاقے سے ہوتا ہوا میانمار، ملائیشیا، انڈونیشیا اور پاپوا نیو گنی تک پھیلا ہوا ہے

reco dak project pakistan baluchistan

اس میں مختلف درجات کے تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں بیلٹ کے مشرقی اور وسطی حصے عالمی معیار کی معدنیات کی فراوانی کے لیے مشہور ہیں جیسے کہ گراسبرگ، انڈونیشیا میں باتو حجاؤ، پاپوا نیو گنی میں اوکے ٹیڈی اور ایران میں سر چشمہ جبکہ مشرقی یورپ میں یہ عالمی معیار کے پورفیری/ایپتھرمل کلسٹر کی میزبانی کرتا ہے سربیا میں مجڈانپیک اور حالیہ پیش رفتوں میں اسکوریز اور اولمپیا یونان، اور ترکی میں چاپلر شامل ہیں ریکوڈک کا علاقہ پہاڑوں کے چاغی آتش فشاں سلسلہ میں بہت سے کٹے ہوئے بقیہ آتش فشاں مراکز میں سے ایک ہے جو کوئٹہ تفتان ریلوے لائن اور افغانستان کے ساتھ سرحد کے درمیان بلوچستان کے اس پار مشرق و مغربی لائن میں گزرتا ہے پہلے حکومت پاکستان نے یہ معاہدہ 25فیصد پر Tethyan Copper Company Limited (”Tethyan”) TCC نے حاصل کیا تھا ٹیتھیان گروپ جنوب مغربی پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کی پہاڑیوں میں ریکوڈک تانبے سونے کے ذخائر کو تیار کرنے کا کام شروع کرنے ہی والا تھا کہ معاملہ عدالت چلا گیا .

 

اس وقت ریکوڈک میں معدنی وسائل کا تخمینہ 5.9 بلین ٹن ہے جس کا اوسط کاپر گریڈ 0.41% اور اوسطاً گولڈ گریڈ 0.22 گرام فی ٹن ہے۔ گروپ کا اس وسیلہ کا 37.5 فیصد حصہ 2.2 بلین ٹن بنتا تھا ٹیتھیان نے منصوبے کے حوالے سے فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کی اور اگست 2010 میں اسے حکومت بلوچستان کو جمع کروادی 15 فروری 2011 کو ٹیتھیان نے بلوچستان کے معدنی قوانین کے مطابق مائننگ لیز کے لیے حکومت بلوچستان کو ایک درخواست جمع کرائی 15 نومبر 2011 کو حکومت بلوچستان کی طرف سے ٹیتھیان کو مطلع کیا گیا کہ حکومت نے کان کنی کی لیز کے لیے اس کی درخواست مسترد کر دی ہے ٹیتھیان نے اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی ثالثی کے لیے درخواست دیدی اور ٹیتھیان ثالثی کی کارروائی میں کامیاب ہوگیاآئی سی ایس آئی ڈی ٹربیونل نے پاکستان اور ٹی سی سی کے درمیان تنازعہ اس وقت اٹھایا تھا جب مؤخر الذکر نے 8.5 بلین ڈالر کا دعویٰ کیا تھا جب بلوچستان کی مائننگ اتھارٹی نے 2011 میں صوبے میں کئی ملین ڈالر کی مائننگ لیز کے لیے اس کی درخواست مسترد کر دی تھی ٹیتھیان کی ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق ریکوڈک مائننگ پراجیکٹ تقریباً 3.3 بلین ڈالر کی لاگت سے عالمی معیار کے تانبے اور سونے کی اوپن پٹ مائن بنانا اور چلانا تھااور بلوچستان حکومت کے ساتھ اس کے 1998 کے معاہدے نے اسے کان کنی کے لیز کا حق بھی دیااور پھر درخواست مسترد ہونے کے بعد یہ منصوبہ نومبر 2011 میں رک گیاجبکہ پاکستانی حکام کا کہناتھا کہ حکومت کی جانب سے کان کنی کی لیز اس لیے ختم کی گئی تھی کہ اسے غیر شفاف طریقے سے سر انجام دیا گیا تب تک کمپنی ریکوڈک میں $220 ملین کی سرمایہ کاری کر چکی تھی.

 

آسٹریلوی کان کنی کمپنی نے 2012 میں عالمی بینک کے ثالثی ٹربیونل سے مدد طلب کی اور اس نے 2017 میں پاکستان کے خلاف فیصلہ سنایا ٹربیونل نے منسوخ شدہ لیز کے نقصانات کا حساب لگانے کے لیے ایک فارمولہ استعمال کرنے کا انتخاب کیا جولائی 2019 میں ٹریبونل نے آسٹریلوی کمپنی کو کان کنی کی لیز سے انکار کرنے پر پاکستان کے خلاف مجموعی طور پر 5.97 بلین ڈالر کافیصلہ دیاجو تقریباً 6 بلین ڈالر کا ایوارڈ جس میں ہرجانہ اور سود شامل تھاجو پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً دو فیصد کے برابربنتا ہے جسکے کے فوراً بعد TCC نے ایوارڈ کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کر دی تھی نومبر 2019 میں پاکستان نے ایوارڈ کو چیلنج کیا اور اسے منسوخ کرنے کے لیے کارروائی شروع کی مارچ 2021 میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے اعلان کیا کہ انہوں نے 8 نومبر 2019 کو ICSID کی جانب سے 12 جولائی 2019 کو پیش کیے گئے ایوارڈ کی منسوخی کے لیے درخواست دائر کی تاہم پاکستان کو منسوخی کی کارروائی شروع کرنے پر عارضی روک دیا گیا تھا جس کے بعد حکم امتناعی کی تصدیق کے لیے سماعت اپریل میں ویڈیو لنک پر ہوئی 16 ستمبر 2020 کو ٹربیونل نے بالآخر پاکستان کے حق میں فیصلہ سنایا ریکوڈیک میں کل معدنی وسائل 5.9 بلین ٹن ایسک ہیں جن کا اوسط تانبے کا گریڈ 0.41% اور گولڈ گریڈ 0.22 گرام فی ٹن ہے۔ اس سے، ڈپازٹ کے معاشی طور پر قابلِ استعمال حصہ کا حساب لگایا گیا ہے 2.2 بلین ٹن، جس میں اوسطاً کاپر گریڈ 0.53% اور گولڈ گریڈ 0.30 گرام فی ٹن ہے، جس کی سالانہ پیداوار کا تخمینہ 200,000 ٹن تانبا اور 250,000 اونس سونا ہے۔ 600,000 ٹن کنسنٹریٹ میں موجود ہے ریکوڈک پر معاہدے اور منسوخی عمران خان سے پہلی کی حکومتوں کے کارنامے تھے جنہیں پی ٹی آئی نے بڑی محنت سے ختم کرنے کے بعد 50فیصد پر دوبارہ کیے بلاشبہ حماد اظہر کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوسکا جو ہمارے روشن مستقبل کی وضح دلیل ہے۔


شیئر کریں: