Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مشرقی پاکستان سے آزاد ہو کر کیا ملا؟ –  قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

Posted on
شیئر کریں:

مشرقی پاکستان سے آزاد ہو کر کیا ملا؟ –  قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

بنگلہ دیش ایک ایسا سانحہ ہے جو ہمیشہ دو قومی نظریہ کے تحت بننے والی مملکت کی بدترین مثال کے طور پر یاد کیا جاتا رہے گا پاکستان کے معاشی حالات و سیاسی عدم استحکام کو لے کر بنگلہ دیش سے موازنہ کرنا اب فیشن بن گیا ہے۔ ظاہر کیا جاتا ہے کہ جیسے بنگلہ دیش میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں اور مغربی پاکستان سے علیحدہ ہونے کے بعد وہاں غربت ختم ہو گئی ہو۔ اس حقیقت کو سامنے نہیں لایا جاتا کہ بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام و بدترین حالات آج ایک بدترین مثال بن چکے ہیں، بنگلہ دیش کے معاشی اعداد و شمار کا موازنہ پاکستان کی نحیف اور بحران زدہ معیشت سے کرکے خود کو طاقت ور معیشت ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش اور سماجی ترقی کے گن گانے اور اسے رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کے پیچھے ایک ایسی پراپیگنڈہ مہم ہے، جس کا واحد مقصد قیام پاکستان کے اسباب کو غلط ثابت کرتے ہوئے اس نظریہ کو درست ٹھہرانا ہے کہ دو قومی نظریہ کو دریا برد کردیا گیا۔

 

بنگلہ دیش میں محنت کشوں کا بدترین استحصال نام نہاد ترقی کا اصل نقاب ہے جو اتر چکا ہے، کم ترین اجرتوں پر محنت کشوں کا لہو نچوڑا جاتا ہے، غربت کے ہاتھوں لاچار اور انتہائی بے بس محنت کشوں کو کڑی شرائط پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی معاشی ترقی میں معاشی اشاریے تو اوپر جاتے ہیں اور حکمران طبقات میں دولت کے انبار بڑھتے جا رہے ہیں، لیکن معاشرتی حالات میں عوام کی اکثریت بدترین زندگی کی تنزلی کا شکار ہیں۔ 2015 میں منسٹری آف فنانس کی ایک غیر مطبوعہ سٹڈی کے مطابق بنگلہ دیش میں کالے دھن کی معیشت کا حجم جی ڈی پی کے چالیس تا پچاس فیصد سے لے کر 83 فیصد تک تھا۔ بنگلہ دیش کے اخبار ڈیلی سٹار میں چھپنے والے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے 4 کروڑ افراد خط غربت جبکہ ڈھائی کروڑ افراد انتہائی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بنگلہ دیشی ٹکے کی قدر میں 25فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

 

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، طاقت و ریاستی جبر سے مخالفین کو دبانے کے لیے پوری قوت صرف کی جاتی ہے، نوجوان نسل استحصال، غربت اور احساس محرومی کو بخوبی سمجھ چکے ہیں، وہ طبقاتی نظام کے خلاف صف آرا ہیں۔ ریاست کی انتقامی سیاست و قوت پاکستان کے لیے جد وجہد کرنے والوں کے خلاف صرف کرنا وتیرہ رہا ہے۔ سیاسی مخالفین کو غداری کے نام پر انسانیت سوز تشدد اور پھانسیوں کی سزائیں ثابت کرتی ہیں کہ بنگلہ دیش کا قیام پاکستان مخالف بھارت کے ہندو توا کے نظریے کے تحت عمل میں لایا گیا۔بنگلہ دیش کے آزادی کے نام پر موجودہ حالات کا موازنہ کریں تو اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی استحصال، غربت اور محرومی کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا، آزادی کا شوشا چھوڑ کر مسلمانوں کی گردنیں کاٹیں گئیں، آج بھی لاکھوں پاکستانیوں کو صرف اس وجہ سے شناخت نہیں دی گئی کیونکہ انہوں نے پاکستان کے بھارت سے ہجرت کی تھی اور سانحہ دسمبر میں انہیں اسی محبت کی پاداش میں آج تک جبر و استحصال کا شکار کیا جاتا ہے، آج تیسری نسل وہاں پروان چڑھ رہی ہے جنہیں انسانی و سماجی حقوق اور شناخت حاصل نہیں۔

 

بنگلہ دیشی حکومت کے خلاف لاکھوں افراد سخت احتجاج کرکے نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گلاب باغ سپورٹس گراؤنڈ میں ’شیخ حسینہ ایک ووٹ چور ہے“ کے نعرے لگائے گئے۔ بنگلہ دیش سیاسی بدحالی کی شکار ایک غیر متوازن حکومت ہے، پارلیمانی جمہوریت ہونے کے باوجود آج بھی اس میں بغاوت اور پر تشدد رویوں کا رجحان پایا جاتا ہے اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت اکھنڈ ہندوستان کے لیے روز اول سے کوشش کرتا رہا ہے۔1947میں تقسیم ہندوستان کے بعد 30برس سے بھی کم عرصے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہ میں کئی سیاسی عوامل کار فرما رہے تو بھارت نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے سے گریز بھی نہیں کیا۔ مشرقی پاکستان کو الگ ہونا ہوتا توبھارت۔پاکستان کی دوسری جنگ65میں ہی الگ ہو جاتا، تیسری جنگ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، لہٰذا ان عوامل کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جہاں بھارت نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا تو پاکستانی حکمرانوں نے بھی زمینی حقائق کو سمجھنے کے بجائے انتشار بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر یحییٰ خان نے اپنے اقتدار کے صرف دو برسوں میں تین ایسی پالیسیاں نافذ کیں جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان بالآخر الگ ہو گیا۔

 

مشرقی پاکستان میں ہر سال برآمدی تجارتی کا حجم 31ارب روپے تھا جس کی آمدنی صدر نے واپس لے لیں، جس سے عوام میں بے چینی بڑھی۔ دوسری امتیازی پالیسی میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ بنگالیوں کو اہم عہدوں و اداروں میں نظر انداز کئے جانا تھا، جس سے بنگالیوں میں معاشی عدم تحفظ کا احساس محرومی بڑھا۔ تیسری امتیازی پالیسی میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کی جنگ اور مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کے رجحان نے رہی سہی کسر پوری کردی۔عوام کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال بڑھ گیا اور بھارت نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش کی بنیاد رکھ دی۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ دشمن، کمزوری کی طاق میں تھا اور اسے مداخلت کا موقع اندرون خانہ انتشار و خلفشار سے ملا۔ نومبر1970میں 20ویں صدی کا سب سے بڑا سمندری طوفان انباس، مشرقی پاکستان سے ٹکرایا، پانچ لاکھ افراد اپنی قیمتی جانوں سے گئے، حکومت قدرتی آفات سے نمٹنے میں فعال کردار ادا نہیں کرسکی، جس نے مغربی پاکستان کے خلاف مخالف جذبوں کو بڑھا دیا۔25مارچ1971کے آپریشن سرچ لائٹ نے مزاحمتی تحریک کو وقتی طور دبادیا۔طویل کریک ڈاؤن کے بعد سیاسی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔

 

ماضی کے مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے حالات کا موازنہ کرنا چاہیے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئے گی کہ دہائیاں گذر چکی ہیں لیکن بنگلہ دیش کے حالات، نہیں بدلے۔ بھارت کی جانب سے مداخلتوں پر آج بھی بنگلا دیشی عوام کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش بننے کے 14دن نہیں بلکہ 30برس کی تاریخ کو دیکھنا ہوگا۔ بھارت اقرار کر چکا کہ اس نے مسلح جارحیت کرکے پاکستان میں فوجی، سیاسی مداخلت کی تھی۔ بنگلہ دیش کا بھارت میں ضم نہ ہونا آج بھی دو قومی نظریہ کی فتح ہے۔ بنگلہ دیش کے کئی دہائیوں کے بدترین سیاسی و معاشی حالات ثابت کرتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا نام بدل کر بنگلہ دیش رکھ لینے سے وہاں کے عوام کو آج بھی حقیقی آزادی نہیں ملی۔


شیئر کریں: