Chitral Times

Feb 5, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شہزادہ کریم  آغا خان چہارم کا فلسفہء زندگی – تحریر : سردار علی سردارؔ

شیئر کریں:

شہزادہ کریم  آغا خان چہارم کا فلسفہء زندگی – تحریر : سردار علی سردارؔ

شہزادہ کریم آغاخان چہارم 13 دسمبر 1936 ء کو سوئیٹزرلینڈ کے مشہور شہر جینوا میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی ولادت کے اہم دن کے موقع پر دنیا بھر کے اسماعیلی مسلمانوں نے کئی دنوں تک جوش و جذبے اور عقیدت و محبت کے ساتھ خوشیاں منائیں۔ آپ کے دادا جان سر سلطان محمد شاہ آغاخان سویم کو آپ کی ولادت پر دنیا بھر کے لوگوں نے مبارک بادی اور نیک خواہشات کے پیغامات  بھیجے۔آپ کی دادی لیڈی علی شاہ نے آپ کا نام کریم رکھا اور آپ کی تربیت و پرورش میں   اہم  کردار ادا کیا۔ آپ کو شروع ہی سے دینی تعلیم دینے کے لئے  خاص انتظام کیا گیا  اور  آپ کو ابتداہی سے عربی ، فارسی ، قرآن ، حدیث اور تاریخِ اسلام جیسے اہم مضامین میں تعلیم دی گئی جن پر اسے دسترس حاصل ہوا۔آپ اپنے اسکول کی تعلیم کے دوران اول درجے کے طالب علم رہے۔ یہی وجہ تھی کہ 1959ء کو آپ نے بی اے انرز کی ڈگری تاریخ میں حاصل کی۔

 

سید آصف جاہ جعفری اپنی کتاب ” دنیائے اسلام کا خاموش شہزادہ ” میں رقمطراز ہیں کہ ” آپ کا رجحان ابتدا ہی سے اسلامی تہذیب و تمدن ، تاریخ و روایات کیطرف زیادہ تھا ، اس لئے آپ نے معارف اسلامیہ میں بہت دلچسپی لی” آپ  مذید لکھتے ہیں کہ ” ہز ہائ نس پرنس کریم آغاخان چہارم ہار ورڈیونیورسٹی امریکہ میں ذہین ترین طالب علموں میں شمار کئے جاتے تھےاور اُن کے بارے میں یہ بات بہت مشہور تھی کہ وہ اپنا تمام وقت تعلیمی حصول اور مطالعے میں منہمک رہنے  میں گزارتےتھے” ۔

 

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی تعلیم کے دوران بہت ہی سادہ زندگی گزارنے کے عادی تھے اور دورانِ سفر بھی یونیورسٹی کے عام طالب علموں کی طرح بس میں ہی سفر کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ آپ کی اس سادہ زندگی کو دیکھ کر ہمیشہ آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کے تمام اساتذہ  آپ کے مزاج کے ٹھراؤ،سادگی  اور آپ کےتبخر  علمی، سوچ اور  افکار کی بلندی کی وجہ سے آپ کا بے حد احترام  کرتے ہوئے آپ کے بارے میں یہ رائے رکھتے تھے کہ شہزدہ کریم اپنی بلند ہمتی اور فکرو ادراک کی وجہ سے دنیا کا عظیم  انسان بننے کا شرف رکھتے ہیں۔آپ کے دادا جان سر سلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کی دور بین نگاہیں آپ کو جدید دنیا میں امتِ مسلمہ اور خصوصاََاسماعیلی جماعت کی قیادت کا خواب دیکھ رہی تھیں۔یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنے پوتے کریم کو حصولِ علم کے لئے بہتر تربیت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا ۔

 

آپ کے دادا جان سر سلطان محمد شاہ  آغاخان چہارم کا وژن اُس وقت پورا ہوا جب گیارا جولائی 1957ء کو ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران اپنے دادا جان کی  وفات کے بعد آپ تحتِ امامت پر جلوہ افروز ہوئے۔ اور عالمِ انسانیت  خصوصاََ امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لئے سرگرمِ عمل ہوئے۔خداوندِ تعالیٰ نے اپنے کمال مہربانی سے آپ پر جو جو مہربانیاںاور نوازشات کی بارشیں کی تھیں اُن کو انہوں نے عالمِ انسانیت کی اعلیٰ قدروں کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا۔

 

آپ کے ارشادات ، تقاریراور فرامین کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں سائینسی تبدیلیوں، بدلتے حالات اور مادی دنیا کی چمک دمک کے اثرات کی وجہ سے دین اور دنیا میں جو تضادات نظر آتے ہیں کو حل کرنے کے لئے آپ نے  جو حکمت عملی دنیا کے سامنے رکھا  وہ یقیناََ ایک ہمہ گیر نظریہ ء زندگی اور حالات کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ آپ نے 12 مارچ 1976ء   کو   کراچی  میں سیرت کانفرنس سے  خطاب کرتے ہوئے  فرمایاکہ ” آنے والے وقت میں مسلم معاشرہ کیسا ہوگا ؟  اور ہمارا یقین ہے کہ اس کا جواب غیر یقینی ہے تو پھر قرآن ِ پاک اور اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ﷺکے اسوہء حسنہ کے سوا اور ہم کہاں تلاش کرسکتے ہیں؟۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں تمام دنیا کے مسلمانوں کے پاس تاخیر کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اسلام  اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اور قرآنِ پاک اس کی آخری کتاب ہے اور محمد ﷺ  اس کے آخری پیغمبر ہیں۔ یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی نوازشات ہیں کہ ان سرچشموں سے ان سوالات کے لیے حاصل کئے ہوئے جوابات ہمارے لئے اس بات کی ضمات ہیں کہ ہم نہ تو اب اور نہ ہی مستقبل میں کبھی گمراہ ہوں گے”۔

 

شہزادہ کریم کے یہی وہ ایمان افروز اور بلند خیالات ہیں جنہیں وہ تختِ امامت پہ آنے کے بعد دنیا کے مختلف سربراہوں، سیاست  دانوں، علماء و مشائح، دانشوروںاور کاروباری حضرات سے ملاقات کرکے اظہار فرمائے اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کوششیں کیں  ۔ آپ نے ہمیشہ دین و دنیا دونوں پر  برابرتوجہ دی ہے کیونکہ اسلام دنیوی ترقی کو نظر انداز نہیں کرتا اور ایسا بھی نہیں ہے کہ روحانی زندگی کو ترک کرکے صرف دنیا کے پیچھے تگ و دو کیا جائے ۔

 

ڈاکٹر فرہاد دفتری اپنی کتاب  A Short History of the Ismail میں لکھتے ہیں کہ ” موجودہ اسماعیلی امام اپنے دادا کی جدید سازی کی پالیسیاں جاری رکھی ہیں اور ان میں بنیادی وسعت پیدا کی ہے اور اپنی طرف سے بھی اپنی جماعت کے فائدے کے لئے بہت سے نئے پروگراموں اور اداروں کو ترقی دی ہے۔ عین اسی وقت آپ نے اپنی توجہ طرح طرح کے سماجی ، ترقیاتیاور ثقافتی مسائل کی جانب مبذول کی جو مسلمانوں اور تیسری دنیا کے ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔1997 ء تک جب کہ اسماعیلیوں نے ان کی امامت کی چالیسویںسالگرہ منائی تھی ، آغاخان چہارم نے نہ صرف اسماعیلی امام کی حیثیت سے بلکہ ایک ایسے مسلمان رہنما کی حیثیت سے بھی ،جن کی جدیدیت کے تقاضوں اور پیچیدگیوںپر گہری نظر ہو اور طریقِ اظہار اور تشریحات کی گوناگونی کے ساتھ اسلامی تہذیب و تمدن کی بہتر سمجھ کو ترقی دینے کے لئے خود کو وقف کیا ہو ، کارناموں کا ایک دلکش ریکارڈ  قائم کیا “۔اسماعیلی تاریخ کا ایک مختصر جائزہ۔ مترجم ،ڈاکٹر عزیز اللہ نجیب ص ۔355

 

آپ نے  اپنے ہمہ گیر نظریہء  زندگی کو لیکر  اُمت کی فلاح و بہبود  کے لئے  مختلف ادارے قائم کئے جن میں آغاخان  فاؤنڈیشن  1967 ء میں قائم ہوا جو غیر جماعتی بنیادوں پر دنیا کے مختلف ممالک میں صحتی ، معاشی اور اقتصادی حالات کی بہتری کے لئے کام کررہا ہے اور اسی فاؤنڈیشن کی سرپرستی  میں   AKRSP  جو شمالی علاقہ جات اور چترال میں  دہی سطح  پر ذات پات ،رنگ و نسل  اور مسلک و عقیدہ سے بالاتر ہوکر انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کررہا ہے۔

 

آپ نے دکھی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے آغاخان ہیلتھ سروس کا نظام متعارف کیا  جو شمالی علاقہ جات اور چترال کے دور افتادہ علاقوں میں ہیلتھ سنٹرز کی صورت میں اہم کردار ادا کررہا ہے جہاں زچہۤ  و بچہۤکی صحیح نگہداشت کے علاوہ لوگوں کو  مختلف اوقات میں سیمینار اور ورکشاپ  کے ذریعے صحت کے متعلق   ہیلتھ ایجوکشن  بھی دی جاتی ہے۔ آپ نے اپنے دادا جان کی وصیت کے مطابق پاکستان سے گہری محبت رکھتے ہیں جس کا واضح ثبوت آغاخان یونیورسٹی  اور ہسپتال ہے جو کراچی میں 1971 ء کو قائم ہوا ۔یہ  شہزادہ کریم آغاخان  کا ہم پر بڑا  احسان اور کرم ہے کہ ہماری نسلیں یہاں حصولِ علم سے فیضیاب ہوکر مسلمانوں کی تعلیم و تربیت میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں گی۔

 

11 نومبر 1985 ء کو  صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیالحق  کی معیت میں آغاخان یونیورسٹی کا افتتاح کرتے ہوئے  آپ نے فرمایا کہ ” موجودہ درپیش چیلنج  کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام ممالک میں تعلیم کا فروغ  اور علم کے اعلی ٰ  ترین مدارج طے کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں اگر کوئی یونیورسٹی اپنا اعلیٰ علمی اور تحقیقی معیار قائم کرنا چاہتی ہے تو ایسے بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں جدید تقاضوں کے مطابق علمی اور تخلیقی  کردار ادا کرنا ہوگاکیونکہ دنیا کے مختلف خطوں میں آباد تقریباََ ایک ارب مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں قیادت درکار ہے اور یونیورسٹیاں بہترین انداز میں یہ کردار ادا کرسکتی ہیں”۔

 

آپ کے ان پرحکمت اور ایمان افروز خیالات کے مطابق آغاخان یونیورسٹی دورِ جدید میں انسانیت کے اعلیٰ خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ علمی اور تحقیقی کام میں سرگرمِ عمل ہے اور ہر سال کئی ڈاکٹرز،ماہرینِ تعلیم   اور نرسیز  جدید علم سے بہرہ ور ہوکر عملی زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔پرنس  کریم آغاخان کی  پوری زندگی کا  اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آپ کی پوری زندگی علم کو فروغ دینے اور جہالت کے خلاف کام کرتے ہوئے گزری ہے ۔شمالی علاقہ جات اور چترال کی یخ بستہ وادیاں اب وہ نہیں رہیں جو گزشتہ کئی عشروں سے نظر آتی تھی۔ آغاخان ایجوکشن سروس کی ان پسماندہ     علاقوں میں علم کے فروغ میں بے بہا خدمات چپہ چپہ اور قریہ قریہ  نظر آتی ہیں کیونکہ یہ علاقے ہز ہائی نس کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ گلگت سے لیکر چترال کے کونے کونے تک  آغاخان اسکول تعمیر ہوچکے ہیں جہاں قوم کے بچےۤ اور بچیۤاں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق حصول علم میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ بچوۤ ں کی  بہتر تعلیم کے حصول کے لئے  اب کراچی جانے کی ضرورت نہیں  رہی کیونکہ چترال کے دور افتادہ اور پسماندہ  علاقوں  میں آغاخان ہائیر سکنڈری اسکول قائم ہوچکے ہیں جہاں سے فارع التحصیل  طلبہ و طالبات پاکستان اور پاکستان سے باہر  اعلی ٰ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے داخلہ لینے میں کامیاب  ہو رہے ہیں اور ہر سال کئی ڈاکٹرز، انجنئیرز اور  بہترین ماہرین ِ تعلیم انہیں اداروں کی زیرِ سائیہ  زیورِ تعلیم سے  آراستہ ہوکر  عملی زندگی میں اپنا  مثبت کردار انجام دے رہے ہیں۔ اور یہ سب پرنس کریم آغاخان کا اپنے آباواجداد کی طرح علم سے دوستی اور محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کا اظہار انہوں نے امامت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد آج تک  گلشن علم کے ارتقا میں برسرِ پیکار ہیں۔ اور وہ کس قدر انسانیت کی قدر، ترقیاور خوشحالی چاہتے ہیں یہی  اس کی زندگی کا مقصد اور فلسفہء حیات ہے۔

کیا خوب فرمایا جمشید خان   دکھی نے  ۔

گلشن کے ارتقا میں بڑا  اُ ن کا ہاتھ ہے

سچ پوچھئے تو جانِ گلستان ہیں شاہ کریم۔

 


شیئر کریں: