Chitral Times

Jan 28, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا کے وفاقی حکومت کے ذمے 189 ارب روپے بقایا ہیں،محمود خان ، پنجاب، کے پی، جی بی اور آزاد کشمیر حکومتوں کی وفاق کیخلاف پریس کانفرنس

Posted on
شیئر کریں:

خیبرپختونخوا کے وفاقی حکومت کے ذمے 189 ارب روپے بقایا ہیں،محمود خان

 

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وفاقی حکومت کے ذمے 189 ارب روپے بقایا ہےں، جب سے رجیم چینج سازش کے تحت حکومت اقتدار میں آئی ہے خیبرپختونخوا کیلئے مالی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں اور صوبے کا جو حق بنتا ہے وہ روکا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کو تنبیہہ کی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے بقایا جات ادا کردےں ورنہ قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا اور اس دھرنے میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین بھی شرکت کریں گے۔ پیر کے روز اسلام آباد میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان اور آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اورپنجاب کے وزرائے خزانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ جب سے یہ امپورٹڈ حکومت اقتدار میں آئی ہے خیبرپختونخوا کو دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہی ہے اور قدم قدم پر صوبائی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابقہ فاٹا کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان اضلاع میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے لیکن وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے فنڈز پر بھی کٹ لگا دیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں کرنٹ سائیڈ پر 85.9ارب درکار ہیں لیکن 60 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 55ارب روپے مختص کئے گئے ہیں مگر اب تک صرف 5.5 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2022-23میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عارضی طور پر بے گھر افراد (Temporary Displaced Persons)کیلئے ایک پیسہ بھی مختص نہیں کیا گیا جبکہ مالی سال 2021-22 میں اس مد میں 17 اب روپے مختص تھے جن میں سے صرف 5.1 ارب روپے جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ موجودہ وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے صحت کارڈ کے فنڈز بھی روک دئیے ہیں جوسالانہ 4.5 ارب روپے بنتے ہیں اور اب خیبرپختونخوا حکومت اپنے خزانے سے ضم اضلاع کے صحت کارڈکے اخراجات برداشت کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کا جو حصہ بنتا ہے وہ بھی نہیں دیا جارہا جبکہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں 61 ارب روپے وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادا ہیں اور اس مد میں اب تک ایک پائی بھی ادا نہیں کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے وہ ترقیاتی منصوبے بھی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سے نکال دئیے ہیں جو عمران خان کے دور حکومت میں شامل کئے گئے تھے اور جو منصوبے شامل بھی ہےں تو ان کے لئے انتہائی کم رقم مختص کی گئی ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں وفاقی حکومت سے پوچھتا ہوں کہ کیا خیبرپختونخوا اس ملک کا حصہ نہیں؟ اگر نہیں ہے تو بھی بتایا جائے اور اگر ہے تو پھر صوبے کا جو حق اور حصہ بنتا ہے وہ ادا کیا جائے، میں صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ ہوں اور صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے تمام تر آئینی اور قانونی فورمز استعمال کروں گا۔ میں کوئی اضافی رقم نہیں مانگ رہا، صوبے کا حق مانگ رہا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے 10 ارب روپے کا اعلان کیا گیا تھا مگر اس مد میں ایک پیسہ تک جاری نہیں کیا گیا۔ صوبہ چلانے کے لیے وفاقی حکومت کسی بینک سے قرضہ لینے کی اجازت بھی نہیں دے رہی۔ وفاقی حکومت کو مالی مسائل حل کرنے کے لیے خطوط بھی لکھے ہیں مگروفاقی حکومت کوئی دلچسپی نہیں لے رہی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 1300ارب روپے کا بجٹ پیش کیا اور اس میں وہ تمام منصوبے شامل ہیںجن کا عوام کی زندگی پر براہ راست اثر ہے، صوبائی حکومت عوام پر براہ راست سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے صوبہ کے بقایاجات ادا نہ کیے تو خیبر پختونخوا کے عوام اسلام آباد کا رخ کریں گے اور اپنا حق لے کر رہیں گے۔

 

پنجاب، کے پی، جی بی اور آزاد کشمیر حکومتوں کی وفاق کیخلاف پریس کانفرنس

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ )پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر حکومتوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا کہ ہمارے فنانشل مسائل ہیں، بار بار کہا مگر حل نہ ہوئے۔ 1.3ٹریلین کا بجٹ اس بار خیبر پختونخوا میں دیا ہے۔ یہ عمران خان کے کہنے پر اتنا زیادہ بجٹ رکھا۔ بدقسمتی سے وہ پیسے ہمیں نہ مل سکے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ ہمیں دیوار سے لگادے۔محمود خان کا کہنا تھا کہ آج وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کھل کر اپنی عوام کی آواز بلند کررہا ہوں۔ وفاق سے کہہ رہے ہیں ہمیں ہمارا فنڈ دے دیں۔ یہ ہمارا حق ہے ہم آپ سے بھیک نہیں مانگ رہے ہیں۔ ایکس فاٹا کا فنڈ ابھی تک ہمیں نہیں مل سکا۔ ہمیں فنڈ نہیں مل رہے تو ہم خاک ترقیاتی کام کرینگے؟ یہ کہتے ہیں خیبرپختونخوا کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں تو ہمارے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے جب یہ دے ہی نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے پراجیکٹ سارے واش آوٹ ہوگئے۔ این ایچ پی کے 61 بلین وفاق پر بقایا جات ہیں۔ 189 بلین کے ہمارے کل ملاکر وفاق پر بقایا جات ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا خیبرپختونخوا پاکستان کا حصہ نہیں؟ اگر ہمارا حق نہیں دیا تو قومی اسمبلی کے باہر دھرنا دیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبے میں اپوزیشن کو بھی کہا ہے، وہ بھی احتجاج کے لیے تیار ہے۔ پختونخوا کے تمام عوام کو یہاں لاکر احتجاج کریں گے۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشیدنے پریس کانفرنس میں وفاق کے خلاف شکایات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بلاک ایلوکیشن 18 ارب کا تھا۔ ہماری حکومت کا پورٹ فولیو 48 ارب تک گیا۔ گلگت بلتستان کا بجٹ 40 ارب سے 25 ارب کردیا گیا ہے۔ تاریخ میں ایسی دشمنی اس خطے کیساتھ نہیں ہوئی۔ جو بھی سیاسی حکومت آئی انہوں نے گلگت بلتستان سے ایسی دشمنی نہیں کی۔ انہوں نے آتے ہی ہمارا ترقیاتی بجٹ کاٹا۔خالد خورشید نے مزید کہا کہ آج 6 مہینے ہوگئے ہیں، اے ڈی پی کے 2 ارب 80 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ہم ہر سال قدرتی آفت کا سامنا کررہے ہیں۔ 2 ارب میں ہم کیسے صوبہ چلائیں۔اسکردو شہر میں 21 سے 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے۔ اس سال ہمارے پاس پیسے نہیں کہ ڈی جی سیٹ چلائیں۔ ہم نے ریونیو اتھارٹی بنائی، انہوں نے مخالفت کردی۔ ہم بجلی اور گندم کہاں سے پوری کریں گے؟۔انہوں نے کہا کہ سیلاب میں 3 ارب روپے کا اعلان کیا گیا، جو لسٹ میں نے دیکھی اس میں گلگت بلتستان شامل ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا 40 ارب روپے دینگے۔ اس وقت گلگت کے اندر 40 مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ہم لوگوں کیساتھ احتجاجی مظاہروں پر جارہے ہیں۔

 

پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری نے کہا کہ 167.4بلین روپے پنجاب کے ہیں، جو وفاق نہیں دے رہا۔ اعلانات ہوتے رہے لیکن سیلابی صورتحال میں پنجاب میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا۔ عمران خان کے ٹیلی تھون کے ذریعے 14 ارب روپے دے گئے۔ سندھ کے بھائیوں اور بلوچستان کے بھائیوں کا سیلاب میں نقصان ہوا، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت کا صوبوں کیساتھ تعاون بہت کم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم الگ الگ ملک میں رہتے ہیں۔ مالی معاملات میں ہمیں وفاق سے کوئی سپورٹ نہیں مل رہی۔وزیر خزانہ آزاد کشمیر عبدالماجد خان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا تھا ہم آتے ہی معیشت کو اوپر لے جائیں گے۔ عمران خان کی حکومت میں 6 ہزار ارب ایف بی آر نے اکھٹا کیا۔ انہوں نے ہمارا شیئر ہر صورت میں دینا ہی دینا ہے۔ انہوں نے آتے ہی سب سے پہلے کشمیر کو نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پہلی بار لائن آف کنٹرول پر بیٹھے عوام کو ہیلتھ کارڈ کا منصوبہ شروع کیا، انہوں نے آتے ساتھ اسے بھی ختم کردیا۔ نالہ لئی کے لیے 70 ارب دے سکتے ہیں مگر ریاست کشمیر کے لیے 26 ارب حکومت کے پاس نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی وجہ سے آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ وفاقی حکومت سے پولیس کی اپیل کی، وہ بھی نہیں دی گئی۔ 30 سال بعد پرامن بلدیاتی انتخابات کا کریڈیٹ پی ٹی آئی کی حکومت کو جاتا ہے۔

 


شیئر کریں: