Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میں نے گولین گول 106 میگا واٹ بجلی گھر،بائی پاس روڈ،قرضوں کی معافی اورلواری ریل ٹنل کو روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے کی منظوری دلوایی،جبکہ پی ٹی آیی رہنما دن دوبجے سے پہلے اُٹھتے ہی نہیں – سلیم خان 

شیئر کریں:

میں نے گولین گول 106 میگا واٹ بجلی گھر،بائی پاس روڈ،قرضوں کی معافی اورلواری ریل ٹنل کو روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے کی منظوری دلوایی،جبکہ پی ٹی آیی رہنما دن دوبجے سے پہلے اُٹھتے ہی نہیں – سلیم خان

عوامی نمائندے اگر دوپھر دو بجے تک سوئیے رہیں تو وہ کیا خاک عوام کی خدمت کریں گے۔ پی پی پی رہنما سلیم خان

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) سابق صوبایی وزیر اور پیپلز پارٹی کے سینیر رہنما سلیم خان نے کہا ہے کہ تحصیل چیرمین چترال امان الرحمن کے میرے خلاف بیان دیکھ کر حیرت ہوئی۔ گزشتہ 9 مہینوں سے وہ تحصیل کے چیئرمین ہیں مگر ابھی تک غلطی سے بھی تحصیل کونسل چترال کا اجلاس طلب نہیں کرسکا۔ وہ کیا خاک عوام کے مسائل حل کریں گے۔ وہ دن 2 بجے سے پہلے اٹھتے نہیں جب اٹھتے تو کسی سے ملنا گوارا نہیں کرتے ہیں گرم چشمہ، کریم آباد اور ارکاری سے آئے ہوئے لوگ روانہ پانچ پانچ گھنٹے گرم چشمہ میں ان کے گھر میں چنار کے نیچے بیٹھ کر تھک ہار کر واپس جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ارکاری سے آئے ہوئے ایک خاتون انتہائی مایوس ہو کر فریاد کررہی تھی کہ میں تین دنوں سے روانہ اس چنار کے درخت کے نیچے بیٹھ کر واپس اپنے رشتہ دار کے گھر جاتی ہوں مگر آمان الرحمن اپنے گھر پر موجود ہو کر بھی ہم سے نہیں ملتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ دنوں کریم آباد سے آئے ہوئے معززین کا ایک وفد چار گھنٹے ان کے گھر کے باہر انتظار کرکے بھی ان سے نہ مل سکے۔ کیا عوامی نمائندے ایسا ہوتے ہیں۔ایک اخباری میں سلیم خان نے کہا ہے کہ میں جب منسٹر اور ایم پی اے تھا تو میرے گھر کے اور دفتر کے دروازے سب کیلئے کھلے ہوتے تھے صبح 7 بجے سے لیکر رات 12 بجے میں ضلع اور صوبے کے عوام کو آسانی سے ملتا تھا۔ بیلا تفریق سب کی خدمت کرتا تھا۔ ضلع چترال کے اندر اربوں روپے کے ترقیاتی کام کر چکا ہوں ۔

 

انھوں نے مذید کہا کہ بحیثیت وزیر بہبود آبادی ضلع لویر اینڈ اپر چترال میں14 فلاحی مرکز اور ایک ہسپتال بونی میں قائم کرچکا ہوں، اس کے علاؤہ چترال بائی پاس روڈ 85 کروڑ، چیو پل سے شاشا تک 30 کلو میٹر گرم چشمہ روڈ کی بلیک ٹاپنگ لاگت 40 کروڑ، میگا واٹر سپلائی اسکیم ٹاؤن چترال کیلئے لاگت 32 کروڑ، دروش گرلز ڈگری کالج لاگت 40 کروڑ ، دروش میگا واٹر سپلائی اسکیم لاگت 25 کروڑ۔ وفاقی حکومت کے ذریعے گولین گول میں 106 میگا واٹ بجلی گھر، 6 ہائیر سیکنڈری سکولز، 16 ھائ سکولز, 15 مڈل سکولز 25 پرائمری سکولز۔ 25 بڑے ابنوشی کے اسکیمیں، 3500 نوجوانوں کو روزگار، ملازمین کیلئے غیر پرکشش ایرایا الاؤنس اور فائر ووڈ الاونس کی منظوری، چترال کے 2ارب روپے کے قرضوں کی معافی۔ لواری ریل ٹنل کو روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے کی منظور ی، لاگت کو 8 ارب سے 22 ارب تک اپنے حکومت سے کہہ کر منظوری دلوائ کئ روڈز کی تعمیر و مرمت، کئ مساجد اور مدرسوں کے تعمیر و مرمت کیلئے فنڈز کی فراہمی، دو یونیورسٹوں کے کمپسس اور چترال کے کالجوں میں ہاسٹلز کی تعمیر۔ آئ ٹی لیب و کلاس رومز کی تعمیر اور دیگر کروڑوں روپے کے چھوٹے منصوبے مکمل کیے۔ مگر افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ ساڑھے نو سالوں کے صوبائی حکومت میں ان لیڈران، ان کے وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم نے چترال میں کونسے منصوبے مکمل کیے، انھوں نے مذید کہا کہ چترال گرم چشمہ روڈ کی بلیک ٹاپنگ و ٹینڈر کی منظوری۔ چترال تا کیلاش ویلی روڈ کی بلیک ٹاپنگ اور چترال بونی شندور روڈ کی کشادگی و بلیک ٹاپنگ کے منصوبوں کو میں نے اور شہزادہ افتخار الدین نے اے ڈی پی میں شامل کیے تھے وہ بھی ان کے وزیراعظم اور وزیر مواصلات مراد سید نے ڈراپ کرکے فنڈز سوات منتقل کردیا، یونیورسٹی آف چترال میں ان دس سالوں میں انہوں نے ایک کلاس روم تک نہیں بنا سکے، چترال کے تین جگہوں میں گیس پلانٹ لگانے کیلئے فنڈز منظور ہو کر زمین بھی خرید گئ تھی جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو وہ فنڈ بھی ختم کرکے گیس پلانٹ الیکشن مہم میں خان صاحب نے گلگت بلتستان کو دیئے۔

امان الرحمن اپنے آپ کو لٹکوہ کا بیٹا کہہ کر لٹکوہ کے لوگوں کا ووٹ لیا۔ مگر منتخب ہوتے ہی لٹکوہ کو بھول گئے۔ لٹکوہ کے آلو کے پیداوار پر ٹیکس لگوایا۔ جس کو کورٹ کے آڈر کی وجہ سے نافذ نہیں کرسکے۔ جب چترال میں سیلاب آنے کی وجہ سے کئی لوگوں کے مکانات اور کھڑی فصلیں تباہی ہوئیں تو موصوف کینیڈا کے سیر سپاٹوں میں مصروف تھا۔

سلیم خان نے مذید کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مشیر وزیر زادہ بھی جھوٹے اعلانات کرکے چترال کے عوام سے روز جھوٹ بولتے ہیں گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے 60 کروڑ روپوں کے ہوائی اعلانات کرکے بے غیر فنڈز کے ٹینڈرز لگوائے۔ جن کیلئے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے چترال کے غریب ٹھیکہ داران اب مقروض ہو چکے ہیں۔ جو بھی بھرتیاں چترال میں ہوتے ہیں اکثریت ڈاؤن ڈسٹرکٹ سے آڈر لیکر آتے ہیں آخر پی ٹی آئی کے یہ درجن بھر لیڈران اپنی مرکزی اور صوبائی حکومت کے ذریعے کونسے کارنامے چترال میں انجام دے چکے جن کو لیکر یہ پھر عوام کے سامنے آئیں گے یہ سب اپنے لیڈر عمران خان کی طرح اقتدار کیلئے حواس باختہ ہوچکے ہیں مگر چترال کے عوام اتنے بےوقوف بھی نہیں ہیں کہ ان کو دوبارہ ووٹ دیں.جبکہ میں اب بھی چترال کے عوام کے اندر ہوں ان کے مسائل کے حل کیلئے ہر فورم میں آواز بلند کرتا ہوں


شیئر کریں: