Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسماعیلی امام ہزہائی نس پرنس شاہ کریم الحسینی آغاخان چہارم کا 86ویں سالگرہ – محمد افضل چترالی

شیئر کریں:

اسماعیلی امام ہزہائی نس پرنس شاہ کریم الحسینی آغاخان چہارم کا 86ویں سالگرہ – محمد افضل چترالی

سوچا کہ آج کے موضوع پر ذاتی تحریر کرنے کے بجائے سید آصف جاہ جعفری کی کتاب “دنیائے اسلام کا خاموش شہزادہ ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان” سے کچھ اقتباسات ان کے 86ویں سالگرہ کے مناسبت سے آپ کی خدمت میں پیش کروں-

 

مصنف لکھتے ہیں کہ میں ایک بات واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تخلیق اور تحریر خالصتاً ہز ہائنس پرنس کریم آغاخان چہاروم سے میری محبت اور عقیدت کے شدت سے عمل میں آئی ہے اور اس کیلئے میں نے ڈھیروں کتابوں اور ذاتی مشاہدوں سے استفادہ کیا ہے- اگرچہ میں خود اسماعیلی نہیں ہوں, میں ایک سید مذہبی گھرانے میں پیدا ہوا ہوں- پڑھنا میری عادت بن گئی اور اب میں وہ کچھ لکھنا چاہتا ہوں جو کچھ محسوس کرتا ہوں- میرا ایمان ہے کہ جب تک سورج طلوع ہوتا رہیگا امامت جاری رہیگی- جب تک چاند اپنی ٹھنڈک بکھیرتا رہے گا, انسانوں کی فلاح کیلئے رُشد و ہدایت کی خوشبو پھیلتی رہے گی, جب تک آسمان کی چادر پر ستارے جگمگاتے رہیں گے انسانوں کے سروں پر امامت کا سایہ قائم رہیگا- جب تک زمین رزق فراہم کرتی رہیگی امام زمان کا پیغام سماعتوں میں نیکیوں کی سمت چلنے کا رس گھولتا رہے گا- مگر اس میں اس رسی کو مضبوطی سے تھامنا شرط ہے جو ہمیں خدا کی جانب لیجاتی ہے-

chitraltimes his highness prince karim aga khan 86
آپ 13 دسمبر 1936 کو اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت شہر جنیوا میں پیدا ہوئے- آپ کے دادا امام سر سلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کو پرنس کریم آغاخان کی تعلیم و تربیت بالخصوص دینی تعلیم کا بے حد احساس تھا- 1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو پرنس کریم الحسینی اور ان کے چھوٹے بھائی پرنس امین محمد کو والدہ محترمہ پرنسسز تاج الدولہ کے ہمراہ نیروبی (افریقہ) روانہ کر دیا گیا- اس مقصد کیلئے قادر علی کو بھی نیروبی روانہ کر دیا گیا- یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہزہائنس پرنس کریم نے ابتدا ہی سے دینی تعلیم کے حصول میں جس قدر خود کو محو رکھا اس عمر میں یہ ساری باتیں, یہ ساری مثالیں ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں- 1943 میں ہزہائنس پرنس کریم آغاخان کو عربی زبان و بیان اور قرآن پاک پر ایسا عبور حاصل ہوگیا کہ انہوں نے سات سال کی عمر میں عیدالفطر کے موقع پر نیروبی کے اندر مسلمانوں کے ایک عظیم الشان اجتماع امامت کی اور لاکھوں فرزندان توحید نے ان کی معصوم امامت میں نماز عید ادا کی-

عربی, فارسی اور اردو زبانوں پر ان کا مطالعہ نہایت وسیع تھا- دینی علوم, قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام پر بھی انہیں عبور حاصل تھی, یہی وجہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ ہزہائنس پرنس کریم آغاخان چہاروم بھی وہ تمام علوم سے بہرہ ور ہو جائیں جن کی آنے والے زمانوں میں ضرورت پیش آئیگی- چنانچہ انہوں نے برصغیر کے بہترین اور لائق علماء کرام کو شاہ کریم الحسینی کی تعلیم و تربیت کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ کر دیا- پرنس کریم آغاخان نے اردو, اسلامی تاریخ اور عربی کی تعلیم علیگڑھ کے مشہور استاد مصطفی کامل سے حاصل کی- اردو سے پرنس کریم آغاخان کے لگاؤ کے والہانہ پن کا اندازہ اس وقت ہوا جب 13 مئی 1983 کو گلگت ائیر پورٹ پر راقم الحروف نے انگریزی میں ایک سوال کیا تو ہزہائنس نے راقم کو اردو میں تفصیل سے جواب دیا, ایسی سلاست اور روانی تھی کہ لطف آگیا- اس کے علاوہ انہیں فرانسیسی, سپینی, عربی, اطالوی, فارسی اور انگریزی پر بلا کی- قدرت حاصل ہے- چونکہ آپ کا رحجان ابتداء ہی سے اسلامی تہذیب و تمدن, تاریخ روایات کی طرف زیادہ تھا اسی لئے ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کیلئے اسلامک ہیسٹری کا ہی انتخاب کیا-

آپ کے دادا جان اور اسماعیلیوں کے 48ویں امام سر سلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کے وصیت کے مطابق ان کے پوتے پرنس کریم آغاخان چہاروم بحیثیت 49ویں امام ان کا جانشین مقرر کیا گیا اور امام اول حضرت علی علیہ السلام کے بعد اسماعیلی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی امام نے اپنے بیٹے کی جگہ پوتے کو امام مقرر فرمایا اس طرح 11 جولائی 1957 کو پرنس کریم آغاخان اپنے دادا جان کی جگہ بیس سال کی عمر میں امامت پر تخت نشین ہوئے- وصیت نامے میں اس یقین کا اظہار کیا گیا تھا کہ سائنسی ترقی کے سبب جو انقلاب رونما ہوئے اور ہو رہے ہیں ان کے پیش نظر مجھے یقین کامل ہے کہ اسماعیلی کمیونٹی کی فلاح و نجات کیلئے ایک ایسا نوجوان ہی ہمارا صحیح جانشین ہو سکتا ہے جو موجودہ تقاضوں کے مطابق موجودہ حالات میں جدید و قدیم تعلیم و تربیت سے بہرہ ور ہوگا- صرف ایسے زیرک متین اور ذہین نوجوان کی امامت و قیادت ہی جماعت میں زندگی کی نئی روح اور ولولہ انگیزی پیدا کر سکتی ہے- جو بڑی بڑی انقلابی تبدیلیاں آرہی ہیں جن میں ایٹمی سائنس کی دریافتیں بھی شامل ہیں کے حوالے سے جماعت اور دیگر انسانیت کیلئے نوجوان اور متحرک رہنما اشد ضروری ہے-

 

آپ لکھتے ہیں کہ ہزہائنس پرنس کریم آغاخان نے اپنی جماعت اور مسلمانوں کیلئے پوری دنیا میں فلاحی, اقتصادی, تعلیمی, صحت عامہ, امداد باہمی کے منصوبے, بنک, بیمہ کمپنیاں, صنعت کاری اور سیاحت قابل زکر منصوبے متعارف کروائے ہیں- صحت عامہ کے تین سو منصوبے پاکستان, بنگلہ دیش, تنزانیہ, کینیا اور ہندوستان میں قائم کئے گئے ہیں-

1967 میں آغاخان فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا اور یہ ادارہ نسلی اور نظریاتی امتیاز سے بالا تر بین الاقوامی سطح پر کام کررہا ہے اور تیسرے دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے دفاتر اور ادارے موجود ہیں- اگر بغور جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہزہائنس پرنس کریم آغاخان کی ساری زندگی سفر اور خدمت کا استعارہ ہے- انہوں نے ملکوں ملکوں گھوم کر جو مشاہدہ اور تجربہ کیا اور سائنسی دنیا کو جس جس زاویہ سے دیکھا اس کا اندازہ ان کی عملی زندگی اور گفتگو سے با آسانی لگایا جاسکتا ہے- آپ کے پیروکار انتہائی پرامن مذہبی رجحانات کے حامل ہوتے ہیں, جنہیں بنیادی تعلیم یہی دی جاتی ہے کہ مسلمانوں کو امن پسند رہنا اور درگزر کی روش اپنانا چاہیئے-

 

آپ اپنی کتاب کے آخر میں لکھتے ہیں کہ اس مختصر مطالعے کے بعد یہ بات بڑے واضح ہوکر ہمارے سامنے آتی ہے کہ پرنس کریم آغاخان چہاروم کو جو سوچ اور محبت ورثے میں ملی ہے وہ عام انسانوں سے ماورا ہے- ہم اپنے چاروں طرف پھیلے ہوئے ماحول کو دیکھیں, افراد کو دیکھیں, سیاستدانون کے روئے کو پرکھیں, تاجرانہ انداز فکر کی طرف نگاہ اٹھائیں یا دولت مندوں کے جذبوں کو دیکھیں تو ہمیں انسانی خدمت کا ایسا کوئی پیکر نظر نہیں آتا جو بغیر کسی مقصد و مطلب کے انسان کی فلاح کیلئے اس طرح آنکھیں بند کرکے اداروں پر ادارے بناتا چلا جا رہا ہو- وہ کسی علاقائی بنیاد کو تسلیم نہیں کرتے, وہ تو انسانیت کو لا محدود تصور کرتے ہیں اور یہی باتیں انہیں عام انسان سے الگ تھلگ کرتی ہیں-

آخر میں جناب آصف جاہ جعفری صاحب کی کتاب سے چند خوبصورت اقتباسات آپ تک پہنچاتے ہوئے ان کا شکریہ ادا نہ ناانصافی ہوگی اور اسماعلیون کے امام الوقت پرنس شاہ کریم الحسینی کو ان کے 86وین سالگرے کی مبارک باد پیش کرتے ہیں

chitraltimes his highness prince karim aga khan 86 2


شیئر کریں: