Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ  کے تحت پہلے مرحلے میں مختلف ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں تعمیراتی سرگرمیوں کا اجرا کر دیا گیا ہے۔وزیراعلیِ

Posted on
شیئر کریں:

سٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ  کے تحت پہلے مرحلے میں مختلف ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں تعمیراتی سرگرمیوں کا اجرا کر دیا گیا ہے۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ(سی آئی پی) کو عوامی مفاد کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ منصوبے کی تکمیل سے بڑے شہروں میں عوام کو شہری خدمات کی فراہمی خصوصاً پینے کے صاف پانی، نکاسئی آب اور صفائی ستھرائی اور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ سے متعلق مسائل کو دائمی طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔علاوہ ازیں عوام کو مقامی سطح پر تفریحی سہولیات کی فراہمی اور اور شہروں کی خوبصورتی میں بھی یہ منصوبہ اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سلسلے میں جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت پہلے مرحلے مختلف ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں تعمیراتی سرگرمیوں کا اجرا کر دیا گیا ہے جن کی معیاری اور تیز رفتار تکمیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی آئی پی ایک کھرب روپے سے زائد مالیت کا منصوبہ ہے جس کا مقصد شہری خدمات کی فراہمی کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اسٹریم لائن کرنا ہے۔

 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے کورونا وبا، سیلابی صورتحال اور امپورٹڈ حکومت کی طرف سے پیدا کردہ مالی مشکلات جیسے چیلنجز کے باوجود عوام کی فلاح و ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ضم اضلاع سمیت صوبے کے تمام ریجنز میں ترقیاتی سرگرمیاں منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہیں جن کی تکمیل کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے ضلع ایبٹ آباد اور کوہاٹ کے حالیہ دوروں کے دوران سی آئی پی کے تحت سات مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کا باضابطہ اجرائ کیا جو مجموعی طور پر 23 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع ایبٹ آباد میں جن منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ان میں 10.5 ارب روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی سسٹم کی بحالی اور نئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا قیام، 82 کروڑ روپے کی لاگت سے شیروان ایڈونچر فیملی پارک اور کرکٹ گراوئنڈ کی تعمیر اور 35.5 کروڑ روپے کے تخمینہ لاگت سے پرانے بازار ایبٹ آباد کی اپ لفٹنگ شامل ہیں۔

 

اسی طرح ضلع کوہاٹ میں جن منصوبوں پر کام کا آغاز کیا گیا ان میں 6 ارب 73 کروڑ روپے کے تخمینہ لاگت سے کوتل ٹاوئن شپ میں سیوریج سسٹم کی بحالی اور نئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا قیام، 4 ارب 65 کروڑ کے تخمینہ لاگت سے واٹر سپلائی سسٹم کی بحالی، 21.28 کروڑ روپے کے تخمینہ لاگت سے بزنس ڈیویلپمنٹ اینڈ کمیونٹی سنٹر برائے خواتین کا قیام اور 17 کروڑ روپے کی لاگت سے سپورٹس کمپلیکس کوہاٹ میں تفریحی پارک اور دیگر متعلقہ سہولیات کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔ اس موقع پر منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے وزیر اعلیٰ نے انکشاف کیا کہ سی آئی پی کے تحت کوہاٹ میں انٹیگریٹڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے قیام کا منصوبہ بھی تقریباً تیار ہے جس پر کام کا جلد اجرائکیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ سی آئی پی کے پہلے مرحلے میں صوبے کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کو شامل کیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت اگلے مرحلے میں اس منصوبے کو دیگر بڑے شہروں تک توسیع دینے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ اصل مقصد شہریوں کو ان کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے اوراس مقصد کے لیے صوبائی حکومت خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے۔


شیئر کریں: