Chitral Times

Jan 28, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اندھیر نگری چوپٹ راج –  قلم کی آواز – مولانا عبدالحی چترالی 

شیئر کریں:

اندھیر نگری چوپٹ راج –  قلم کی آواز – مولانا عبدالحی چترالی

 

اردو کا یہ مشہور محاورہ تو سنا ہی ہوگا  ’’اندھیر نگری چوپٹ راج، ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھاج۔‘‘ اس کا بڑا با معنی پس منظر جو کسی اور وقت قارئین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ سر دست یوں سمجھ لینا چاہیے کہ آج کل چترال بازار میں سڑکوں کے حالات اور چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی واحد سڑک کی زبوں حالی پر اگر کوئی محاورہ صادق آتا ہے تو شاید اس سے بہتر کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا ۔ کم از کم مجھے تو اس محاورے میں اپنے چترال کا موجودہ پورا منظر نامہ کھل کر سامنے محسوس ہوتا ہے۔

مہنگائی کے ہاتھوں پریشان شہری اپنی زندگی سے بے زار نظر آتے ہیں۔ اس عفریت کی وجہ سے نہ کاروبار پہلے جیسا رہا اور نہ ہی ملازمت کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ سچی بات ہے کہ عام آدمی کی   دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ چکے ہیں۔ ایسے میں  ٹھیکیداروں اور قومی اداروں کی لوٹ مار ، بے حسی ، ہٹ دھرمی ، اور نکما پن اس پر مستزاد ہے۔

کل  چترال بازار بائی پاس روڈ کی بیوٹیفیکشن پراجیکٹ کے تحت مرمت کا کام چل رہا تھا. جب بازار کے ایک معزز اور مخلص دوکاندار نے اس کام میں ناقص مٹیریل کے استعمال، غلط منصوبہ بندی، کام کے معیار میں عدم شفافیت پر سوال اٹھایا تو وہی ہوا جو آئے دن ہوتا ہے۔  الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق ٹھیکیدار نے کام کا معیار بہتر بنانے کے بجائے اپنے مزدوروں کو لے کر موصوف دوکان دار صاحب پر حملہ آور ہونے کی ناکام کوشش کی. جس پر تجار یونین کے صدر بشیر صاحب نے ٹھیکیدار کی ہٹ دھرمی اور نکمے پن کے خلاف اپنے دکانداروں اور دیگر عوام کو لے کر چترال کے جملہ سیاسی قائدین کی معیت میں نا صرف آواز بلند کی بلکہ روڈ بلاک کر کے انتظامیہ کو یہ واضح پیغام بھی دیا کہ عوامی طاقت کے سامنے نہ کسی  بے حس عوامی مجرم کی چل سکتی ہے اور نہ ہی آئندہ انتظامیہ کی غفلت قابل برداشت ہوگی.

صدر تجار یونین کے بروقت کامیاب ردعمل اور بھر پور عوامی احتجاج کو دیکھ کر انتظامیہ بھی حرکت میں آئی، ڈی سی صاحب نے ایکشن لیتے ہوئے مذکورہ ناقص تارکول کو اکھاڑ کر دوبارہ صحیح طریقے سے کام کرنے کا حکم صادر فرمایا اور کام کی نگرانی کیلئے ایک کمیٹی بھی بنائی جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔

تجار یونین کے صدر محترم بشیر صاحب کا یہ احسن اور جرات مندانہ اقدام قابل ستائش ہے. اس طرح تجار برادری اور مفاد عامہ کی ہر آواز پر وہ چترال کے جملہ کاروباری شخصیات کو  اپنا دست بازو اور ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے پائے گا. اس طرح کی عوام دوست آواز بلند کرنے والے مرد آہن کو ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں اور تاریخ کے اوراق پر یاد رکھا جاتا ہے.

چمرکن سے جغور کے مقام تک اس روڈ پر مرمت کا کام اگست کے مہینے میں شروع کیا گیا تھا۔ اس سڑک کو معیاری تعمیر کرنے کے دعویدار ٹھیکے دار صاحب روڈ کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کے بعد  ایک طویل مدت سے ایسا غائب تھا ہو گئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

مختلف لوگوں نے اس روڈ کے حوالے سے بار بار انتظامیہ کو اس ناانصافی، جبر استبداد اور عوام دشمن اقدام کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ ساری کوششیں بے سود اور لاحصل ثابت ہوئیں.
اب اس روڈ پر مرمت کا کام دوبارہ آنکھ مچولی کی طرح شروع کیا گیا لیکن یہ کام بھی ناقص ہے ابھی سے اس سڑک پر بچھائی گئی تارکول اکھڑنے لگی ہے. اور جگہ جگہ کھڈے اندھوں تک کو نظر آرہے ہیں جس کو دیکھ کر کون انکار کر سکتا ہے کہ صرف خانہ پوری کا عمل جاری ہے۔

افسوس اس بات پر ہے کہ یہ سب کچھ ضلعی انتظامیہ کے اعلی ترین بلکہ سپر ترین ضلعی انتظامی آفیسر ڈی سی صاحب کے دفتر شاہی سے چند منٹ کے فاصلے پر موجود ضلع چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد راستہ چترال ٹو پشاور روڈ پر ہو رہا ہے ..

ہماری حیرت میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ کیا ضلعی انتظامیہ اس قدر بے بس ہے کہ وہ ایک ٹھیکیدار سے باز پرس نہیں کرسکتی ہے، یا انتظامیہ کے لوگ اس روڈ پر برقعہ اوڑھ کر سفر کرتے ہیں کہ ان کو اس سڑک کی پانچ مہینے سے جو حالت زار ہے وہ نظر نہیں آرہی.

ٹھیکیدار کو بھی سوچنا چاہیے کہ میری وجہ سے خلق خدا کو جو تکلیف پہنج رہی ہے کل اس کا حساب بھی دینا ہوگا. یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ یہ قومی دولت ہے۔  اس میں ہر غریب و امیر کا حصہ ہوتا ہے جس کا حساب دینا بھی کتنا مشکل ہے۔  مال حرام سے آدمی وقتی طور پر نشہ دولت سے مست تو ہو سکتا ہے لیکن بڑھاپے میں جس وقت اولاد کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت وہ گھاس ڈالنے کو بھی کوئی تیار نہیں ہوتا۔

چترال ٹو پشاور روڈ این ایچ اے کی ہے جو وفاقی حکومت کا ادارہ اور آج کل یہ مولانا اسعد محمود صاحب کی وزارت کے دائرہ اختیار میں ہے. ہمارے عوامی نمائندے مولانا عبد الاکبر صاحب اور ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن صاحب کا کام ہے کہ وہ اس وزارت کے زریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے مگر ان سے یہ توقع رکھنا بھی بے سود ہے۔ اگر نا امیدی کفر نہ ہوتی تو شاید قسم کھا کر کہا جا سکتا ہے لوگ ان جیسے کرداروں سے سب سے پہلے نا امید ہوتے۔

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ حکومتی اراکین یہاں سے آنکھیں بند کرکے گزرتے ہیں یا بے حسی کی چادر ان کے دل و  دماغ کو ڈھانپ لیتی ہے؟


شیئر کریں: