Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محنت و مشقت ۔ تحریر ۔ صوفی محمد اسلم 

شیئر کریں:

محنت و مشقت ۔ تحریر ۔ صوفی محمد اسلم 

مکڑی حشرات الارض میں سے ایک ہے جسے سب سے بے ضرر اور کمزور سمجھا کیا جاتا ہے۔ مکڑی کے ایک ہی صلاحیت ہے، جال بننا، اس کے زندگی کا دارومدار بس اسی جال پر ہے۔ اگر اس صلاحیت کو مکڑی سے منفی کی جائے تو یہ نہ دشمن سے محفوظ رہے گا اور نہ اپنے لئے خوراک کا بندوبست کرپائےگا۔ اس لئے قدرت نے اسے یہی صلاحیت دی ہے تاکہ وہ اپنی بقا کی جنگ خود لڑسکے۔

وہ جال تیار کرتا ہے اور پھر انتظار میں رہتا ہے تاکہ کوئی مکھی اس جال میں پھس جائے اور اس کے خوراک کا بندوبست ہوجائے اور اسی طرح جب کوئی دشمن آس پاس منڈلانے لگے تو یہ جال انٹینہ بنکر اسے اطلاع دیتی ہے اور اسی طرح وہ اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔مکڑی اس صلاحیت کو بہترین انداز میں بروئے کار لاتا ہے جو کوئی اور نہیں کرسکتا ۔ وہ جانتا ہے کہ یہی صلاحیت جس کو بہتر استعمال کرسکتا ہے ۔

مکڑی کی زندگی کا مقصد جال بنا نہیں ہے بلکہ زندگی کے تلخ حالات میں زندہ رہنا اور اپنے وجود کو قائم رکھنا ہے۔ جو بھی مخلوق اپنے صلاحیتوں کو پہچانے اور بقا کی جدوجہد  میں کمزوری دکھائے ہیں وہ مٹ چکے ہیں ۔قدرت نے ہر مخلوق کو ایسے کم وبیش صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ تاکہ وہ بہتر زندگی گزارسکے ۔

اسی طرح  انسان بھی ایک مَلٹی ٹیلنٹڈ مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لاکھوں صلاحیتوں سے نوازا ہےاور ایک سے بڑھ کر ایک صلاحیت عطاء کیا۔ ہر فرد میں اللہ تعالی نے کم از کم ایک صلاحیت ایسا رکھا ہے جسے وہ دوسروں سے بہتر انداز میں استعمال کرسکتا ہے۔ مگر وہ مخفی ہوتی اسے پہچاننے کی ضرورت ہے اور اس میں نکھار پیدا کرنا پڑتا ہے ۔  جس کے لوگ تعلیم حاصل کرتے، محنت کرتے ہیں اور مختلف ٹریننگ میں حصہ لیتے ہیں۔ تاکہ اس میں بہتری لایا جا سکے اور زندگی کے دوڑ میں استعمال کرسکے۔

جس طرح ایک مکڑی کو رب العزت بیٹھے بیٹھائے رزق نہیں دیتا ہے اسے بھی مشقت اٹھا نا پڑتا ہے اور انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اللہ کے رازق ہونے پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ کے عطاء کردہ صلاحیتوں کو حتی الوسع بہتر انداز میں بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہے۔تو انسان کے ایسے عادات کو کیسے اللہ پسند  کرگا کہ لامحدود  صلاحیتوں کے باوجود دوسروں کے سامنے بھکاری کی کشکول لیکر کھڑا رہے۔

آج ہم دوسرے اقوام سے پیچھے ہیں اس کی وجہ ہم خود ہیں۔نہ ہم اپنے زندگی کے مقصد کو پہچان سکے اور نہ اپنے وجود میں مخفی وہ صلاحیتوں کوچمکا سکے۔ہمارے سب سے بڑی غلطی یہ ہم تن آسانی اور وقت کے ناقدر نشاسی کے دلدل میں پھس چکے ہیں۔ ہم عجیب فلسفے پر چل رہے ہیں ہم اپنی ذہانت کے استعمال کو فضول سمجھتے ہیں،  ایجادات کو شیطان کا آلہ سمجھتے ہیں، محنت و مشقت کو دنیا داری اور جس کی بات سمجھنے میں نہ آئے اسے لیبرل، غور فکر کرنے والے کو پاگل اور ہمارے جیسے نہ سوچھنے والے کو کافر اور یہ سب کچھ ہونے کے باوجود خود کو سپر پاور سمجھتے ہیں ۔ جب کوئی آفت آتی ہے تو ہمارے نظر ان لوگوں کے پیسوں پر ہوتی ہے جو دن رات محنت کرکے پیسے جمع کرتے ہیں۔ جب کوئی امدادی سامان لیکر اتے ہیں تو لاچار اور بھکاری بن کر پیش ہوتے ہیں۔ کسی کمزور کو کچھ دینا تو دور کی بات اسکی جائز حق کو چھین کر طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان سب کے باوجود عظیم قوم ہونے کے دعویدار ہیں۔

اگر واقعی ہمیں عظیم قوم بننا ہے تو اللہ کے عطاء کردہ صلاحیتوں کو پہچانا ہوگا اور تن اسانی کی لت سے باہر نکلنا ہوگا، محنت و مشقت کرنا ہوگا، وہی اوصاف اپنانا ہوگا جو دوسرے قوم اپنائے ہیں۔ امداد کے نام پر خیرات کو رد کرنا ہوگا، دوسروں کے جیب پر نظر رکھنا اور انکے چوکٹ پر جانا ترک کرنا ہوگا۔ تعلیم اور محنت و مشقت کو اپنا شیوہ بنانا ہوگا۔ تب جا کے ہم ان کے صف پر کھڑے ہو سکتے ہیں اور یہی خیری راستہ ہے۔

وماعلینا الاالبلاغ


شیئر کریں: