Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تعلیمی انقلاب اور فضائی آلودگی – میری بات؛ روہیل اکبر

Posted on
شیئر کریں:

تعلیمی انقلاب اور فضائی آلودگی – میری بات؛ روہیل اکبر

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے بانی ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے قوم کو تعلیمی انقلاب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تعلیمی انقلاب کے لئے ملک بھر میں 25 ہزار مراکز علم قائم کرنے کا اعلان کیاتو مجھے اپناناقص تعلیمی نظام یاد آگیا جو سوائے کلرک،چپڑاسی اور خاک روب پیدا کررہا ہے نہیں یقین تو ابھی گذشتہ روز آنے والا سی ایس ایس امتحان کا نتیجہ صرف ایک نظر دیکھ لیں مگر اس سے پہلے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کردوں کہ جسکے حکم پر ہمارے بھائی اور سینئر صحافی ارشد شریف قتل کیس کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ارشد شریف کی ایف آئی آر اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں سرکار کی مدعیت میں درج کی گئی ہے ایف آئی آر میں 3افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں خرم، وقار احمد اور طارق احمد شامل ہیں اسکے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے ارشد شریف کی میڈیکل رپورٹ کو غیر تسلی بخش بھی قراردیا ہے۔23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر ارشد شریف کو سر پر گولی مار کرشہیدکیا گیا تھاجسکے بعد تسلسل سے کینیا پولیس کے موقف میں تضاد پایاجاتا رہا جبکہ لندن میں میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی کے سنسنی خیز انکشافات بھی سامنے آئے اس پر فلحال پاکستان میں کوئی کاروائی ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی لیکن لندن پولیس نے اس پر کام شروع کردیا ہے

 

وہاں کے باخبر زرائع نے بتایا ہے کہ اسی ڈر سے میاں صاحب اٹلی گئے تھے جہاں پر انہیں ڈی پورٹ کرنے کے حوالہ سے بتایاگیا تو وہ ارشد شریف کیس میں تعاون کی یقین دہانی کی ضمانت پر واپس لند ن آئے ہیں اب انکی کوشش ہوگی کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے جلد پاکستان پہنچ جائیں شہید ارشد شریف ایک نڈر اور حق گو صحافی تھے انہوں نیحق کی آواز اٹھاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ارشد شریف ایک انتہائی پیشہ ورانہ صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم شخصیت اور ملن سار انسان تو تھے ہی ساتھ ساتھ ایک شاندار بہادر انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حق گو صحافی بھی تھے جنہوں نے کبھی حق گوئی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور ہمیشہ ظلم اور ناحق کے خلاف آواز بلند کی شہید ارشد شریف کی صحافت مستقل میں شعبہ صحافت میں قدم رکھنے والے نوجوان طلبہ وطالبات کیلئے ایک نمونہ اور بہترین مثال ہے اگر سپریم کورٹ مقدمہ کے اندارج کا حکم نہ دیتی تو شائد یہ ایف آئی آر بھی درج نہ ہوتی امیدہے سپریم کورٹ اس کیس پر نظر بھی رکھے گی اور جلد از جلد اسے اپنے انجام تک بھی پہنچائے گی

 

اب آتے ہے اپنے نظام تعلیم کی طرف جسکے لیے ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ فکری و ذہنی انتشار سے نجات کے لئے ہر گھر کو مرکز علم بنانا ہوگا سیاسی و سماجی زوال کی بڑی وجہ منفی و غیر ذمہ دارانہ رویے ہیں جائز و ناجائز کی تمیز کھو دینے والی قومیں محکوم بن جاتی ہیں اخلاقی تربیت کے بحران کی وجہ سے نیکی وبدی کی تمیز ختم ہو گئی اس وقت قوم کو تعلیم و تربیت کردارو اخلاق کے انقلاب کی ضرورت ہے فحاشی،عریانی، بدعنوانی کو برائی نہ سمجھنا سب سے بڑا بحران ہے اور اس حوالہ سے انہوں نے مراکز علم کے نصاب کے لیے تعلیمی ماہرین و مذہبی سکالرز پر مشتمل کمیٹی بنا دی جس میں سب سے زیادہ فعال کردار خرم نواز گنڈا پور کا ہوگا کیونکہ وہ پاکستانی معاشرے کو بخوبی سمجھتے ہیں انہیں علم ہے کہ خرابی کہاں پر ہے اور اسکا علاج کیسے کرنا ہے کیونکہ ہمارا سرکاری و غیر سرکاری نظام ڈگریاں تو ضرور بانٹ رہا ہے مگر شعور اور علم نہیں دے رہا اگر یہ دونوں چیزیں ہوتی تو پھر حالیہ سی ایس ایس کا نتیجہ یوں نہ نکلتا جیسے نکلا ہے یہ ہماری وہ کلاس ہے جو اپنے آپ کو بڑی فنے خان سمجھتی ہے کمزور اور نالائق تو اس امتحان کے قریب بھی نہیں پھٹکتا مقابلے کے اس امتحان میں زیادہ تر ڈاکٹر،انجینئر،ایم اے،ایم ایس سی اور اپنے آپ کو عام طالبعلموں سے ذرا ہٹ کر سمجھنے والے ہی داخلہ بھجواتے ہیں۔

 

2022 کے مقابلہ کے اس امتحان میں کامیابی کا تناسب 1.94فیصد رہا سی ایس ایس 2022 امتحان کیلئے 32 ہزار 59 امیدواروں نے داخلہ بھیجا اور 20 ہزار 262 امیدواروں نے امتحان دیا جن میں سے393 امیدوار پاس ہوئے اور 19869امیدوار فیل قرار پائے پچھلے سال کی بھی صورتحال کچھ ایسی ہی تھی 2021 کے امتحان میں 39650 نے داخلہ بھیجا 17240 امیدواروں نے امتحان دیا اور 2021 میں سے 365 امیدوار امتحان میں پاس ہوئے انٹرویو کے بعدصرف 349 امیدوار اہل قرار پائے تھے یہ ہمارے تعلیمی نظام کا خلاصہ تھا آخر میں ایک بات یہ بھی بتانی تھی کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان سر اٹھانے کو تیار کھڑا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ کراچی بندرگاہ پر درآمدی پیاز،ادرک اور لہسن کے سیکڑوں کنٹینرز حکومت کی طرف سے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں اگر اس میں مزید تاخیر پیدا کی گئی تو پیاز، لہسن اور ادرک کی قلت کا خدشہ ہے ان کنٹینرز کو مارکیٹ تک پہنچنے کے لیے کمرشل بینک زرمبادلہ نہ ہونے کو جواز بناکر دستاویزات کلیئر نہیں کررہے اس وقت کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر پیاز کے 250، لہسن کے 104 اور ادرک کے 63 کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی مجموعی مالیت 55 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ ہے بندرگاہوں پر پھنسی درآمدی پیاز، لہسن اور ادرک بازاروں تک نہ پہنچی تو ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا

 

لاہور کے تاجروں ناصر انصاری اور فاروق آزاد کے مطابق مارکیٹ میں پیاز کی قیمت پہلے ہی 230 روپے فی کلو ہے، کنٹینرز بروقت ریلیز نہ ہوئے تو اس کی تھوک قیمت میں 50 سے 80 روپے کلو تک اضافے کا خدشہ ہے چلتے چلتے آخر میں ایک اور خبر بھی دینی تھی کہ ہمارا لاہور باغو اور بہاروں کا شہر جسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا اپہلے نمبر آگیا ہے تعلیم میں نہیں،عقل و حکمت میں ہیں خوبصورتی میں نہیں،امن و سکون میں نہیں سی ایس ایس پاس کرنے والوں میں بھی نہیں بلکہ فضائی آلودگی میں پہلا نمبر حاصل کرلیا ہے اسی آلودگی سے دنیا بھر میں ہر سال 70لاکھ افراد جبکہ پاکستان میں 1لاکھ 28ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں طبی ماہرین ڈاکٹر فیاض بٹ اور ڈاکٹر محی الدین کا کہنا ہے کہ اس موسم میں سب سے زیادہ متاثر دمے کے مریض ہوتے ہیں سانس کی بیماریاں اور الرجی کے کیس بڑھ رہے ہیں مریض فوری طور پر اینٹی بائیوٹک استعمال نہ کریں بلکہ موسمی پھلوں اور ان کے جوس کا استعمال کریں یہ قوتِ مدافعت بڑھاتے ہیں۔


شیئر کریں: