Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ خود کفا لت کا خواب ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ خود کفا لت کا خواب ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اخبا ر ات میں خبر لگی ہے کہ ما ہرین نے اگلے دو سالوں کے لئے مزید مہنگا ئی کی پیش گوئی کی ہے ما ہرین کا کہنا ہے کہ دو سالوں کے بعد کسی اور مہنگا ئی کی لہر نہیں آئے گی تا ہم مہنگا ئی کی مو جودہ صورت حال بر قرار رہیگی مہنگا ئی کیا ہے اس کی جا مع تعریف کسی ما ہر معا شیات نے نہیں کی اس کی سب سے بہتر تعریف ایک بھارتی گاوں میں رہنے والی 90سالہ خاتون نے کی ہے خاتون سے سوال پو چھا گیا مہنگا ئی کے بارے میں تم کیا کہنا چا ہتی ہوں؟ اُس نے کہا زمین سے پیداوار آتی ہو، گھر میں ما ل مویشی پا لے جا تے ہوں، سبزی، مر غی، انڈے، پھل گھر کی پیداوار سے آتے ہوں تو کوئی مہنگا ئی نہیں ہے 80سال پہلے میں 10سا ل کی تھی میں ایک سیر، گندم جوار یا ایک مر غی یا در جن انڈوں کے عوض جتنی چائے،

 

چینی بازار سے لا تی تھی آج 80سال بعد میری 10 سالہ پو تی انہی جنسوں کے بدلے اُس مقدار میں سودا لیکر آتی ہے خا تون کی بات میں کوئی فار مو لہ نہیں کوئی فلسفہ نہیں خا تون کا تجربہ ہے اور سیدھی سی بات ہے اگر بازار کے نر خ آسمان کو چھو رہے ہیں تو گھریلو پیداوار کی قیمتیں بھی اس حساب سے بڑھ چکی ہیں مہنگا ئی سے تنگ آنے والے مما لک نے خود کفا لت اور خود انحصا ری کے مختلف طریقوں کوازما لیا ہے اور یہ تجربے کامیاب ہو چکے ہیں خو د کفا لت اور خود انحصاری کے حوالے سے ہمارے بزر گوں کا طرز عمل بہت کا میاب تھا ہمارے بزر گوں نے امریکہ، آسٹریلیا، پنجا ب اور سندھ سے آنے والا گندم یا آٹا نہیں دیکھا تھا، ان کے زما نے میں چینی یا کھانڈ گھروں میں نہیں لا ئی جا تی تھی،

 

ان کے زما نے میں ڈالڈا کا رواج نہیں تھا بنا سپتی گھی اور کو کنگ آئیل با زار سے لا نے کا کوئی دستور نہیں تھا، باسمتی، اری۔6، ڈگرہ، دوبار، سلہ چاول کے لئے بازار جا نے کا کوئی رواج نہیں تھا شیمپو، صابن، ٹیشو پیپر اور دیگر چیزوں کا نا م کسی نے نہیں سنا تھا مہینے میں 10جو ڑے کپڑے بنا نے کا دستور نہیں تھا، سال میں ایک جو ڑا کپڑا بنا یا جا تا تھا پاوں میں جو تے بھی ایسے ہی ہو تے تھے مندر جہ بالا 10جملے پڑ ھ کر ہمیں حیر ت ہو تی ہے تعجب ہو تا ہے کہ پھر لو گ کیسی زند گی گذار تے تھے؟ ان کی زند گی خود کفالت اور خود انحصا ری کی زند گی تھی، شانگلہ، کا لا م، براول بانڈہ، چترال اور ڈی آئی خا ن کے دیہات میں لو گوں کی چھوٹی چھوٹی زمینا ت تھیں ان زمینات پر گندم، جوار، باجرہ، جو، مٹر، لو بیا، اور سات اقسام کی دیگر دالیں کا شت کی جا تی تھیں سبزیوں کی محدود پیداوار ہو تی تھی جس میں کچھ حصہ خشک کر کے سر دیوں کے لئے بھی ذخیرہ کیا جاتا تھا، چھوٹے پیما نے پر مویشیاں پا لی جا تی تھیں، اون سے کپڑے، کمبل اور بالوں سے نمدے بنا ئے جا تے تھے

 

چمڑے سے جو تے بنا تے تھے اور چر بی سال بھر سالن میں کا م آتی تھی 1940ء میں بازار سے صرف نمک اور چائے خریدا جا تا تھا اس لئے ایک بکر ا، دنبہ یا بیل فرخت کیا جاتا تو سال بھر کی ضروریات کے لئے کا فی ہو تاتھا جوار، جو اور با جرے کی روٹی صحت مند غذا تصور کی جا تی تھی جدید سائنسی اور طبی تحقیق سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نصف صدی پہلے بیما ریاں کم تھیں، لو گ صحت مند تھے آج بھی معدے، پھیپھڑے، جگر اور گردے کی بیما ریوں کے لئے جو، با جرہ اور اور جوار کو بطور خوراک تجویز کیا جا تا ہے ہمارے بزر گوں کے پا س علم نہیں تھا ڈگر یاں نہیں تھیں مگر عقلمند ی بہت تھی، ہو شیا ری بہت تھی، سلیقہ شعاری بہت تھی، کفا یت شعاری بہت تھی تجربہ بہت تھا عالمی سطح پر گذشتہ کئی دہا ئیوں سے غربت کو نا پنے کے لئے ڈالر میں روزانہ کما ئی کو معیار بنا یا گیا تھا اب معیشت دانوں کا خیال ہے کہ اگلی دہا ئی سے ڈالر کا پیما نہ ختم ہو گا غر بت کو ملکیتی زمین کے پیما نے سے نا پا جا ئیگا، جس کے پاس زمین نہیں ہو گی گویا اس کے پا س پیداوار کا کوئی ذریعہ نہیں وہی سب سے زیا دہ غریب ہے.

 

آج با زار پر انحصار کرنے والے صارفین مہنگا ئی کا رونا رو رہے ہیں مگر جن کے پا س پیداوار کے ذرائع ہیں ان کو مہنگا ئی سے زیا دہ فر ق نہیں پڑتا یہی خود کفا لت ہے گھریلو پیداوار پر انحصار شہری کو بھی خود کفیل بنا تا ہے ملک اور قوم کو بھی خو د کفیل بتا تا ہے بازاری معیشت کا کوئی اعتبار نہین، ایک جھٹکے میں شہری کو آسمان سے زمین پر دے مار تا ہے قوم اور ملک کو بھی کنگال کر دیتا ہے۔


شیئر کریں: