Chitral Times

Feb 5, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عالمی دن برا ے افراد باہم معذوری – ازقلم : محمد عبدالباری‎

شیئر کریں:

عالمی دن برا ے افراد باہم معذوری – ازقلم : محمد عبدالباری

دسمبر کے ابتدائ ہفتے میں خصوصا 3 دسمبر کو پوری دنیا میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے بارے میں مختلف تقریبات منعقد ہوتے ہیں۔ اس موقعہ پر کیوں نہ ہم بھی اسی عنوان پر گفت و شنید کریں۔

انتہائ معذرت خواہ ہوں کہ 3 دسمبر کے دن شدید مصروفیات ہونے کی وجہ سے آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکا۔
ایک معاشرہ صرف اس وقت مہذب کہلا سکتا ہے جب اس کے بچے صحت مند اور بہتر فضا میں پرورش پا کر باشعور شہری بن جاتے ہیں۔ بچے کسی بھی قوم اور معاشرے کی امانت ہوتے ہیں ان کی تعلیم و تربیت ان کے والدین سمیت معاشرے کے دیگر افراد کی بھی ذمہ داری ہے۔

اللہ رب العزت کی شان ہے کہ کچھ بچے پیدائشی طور پر ذہنی یا جسمانی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایسے افراد کے بارے میں ایک غلط خیال پایا جاتا ہے کہ معذور افراد کو گناہوں کی سزا خیال کیا جاتا ھے۔ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے اس بات کا نہ تو کوئی شرعی جواز ہے اور نہیں کوئی سائنسی جواز ہے۔ البتہ مختلف معذوریوں کے مختلف وجوہات ہیں جن کو مختصر خلاصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔

1۔ اگر پیدائش سے پہلے بچے کی صحیح پرورش نہ ہو تو یہ معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔
2۔ زچگی کے دوران غلط ادویات کا استعمال کرنا۔
3۔ غلط طریقہ علاج کی وجہ سے بھی بچے کے صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
4۔ نا سازگار معاشرتی حالات بھی معذوری کے سبب بن سکتے ہیں۔
5۔ پیدائش کے دوران بچہ گرنے یا چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی بچہ معذوری کا شکار ہو سکتا ہے۔
6۔ پیدائش کے بعد شدید قسم کی بیماری بھی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔
7۔ بچوں کو مناسب غذا میسر نہ آنے کی وجہ سے معذوری ہو سکتی ہے۔
8۔ والدین اگر منشیات کے عادی ہیں تو بھی بچے کے صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور بچہ معذور بھی ہوسکتا ہے۔
9۔ بچے کی پیدائش کے دوران کسی قسم کی غلطی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔
10۔ پیدائش کے دوران آکسیجن کی کمی بھی معذوری کی وجہ بن سکتی ہے۔

ان سب کے علاوہ اور بھی بہت سارے وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بچہ معذوری کا شکار ہو سکتا ہے ان سب کا یہاں تذکرہ کرنا ممکن نہیں ہے۔
دور جدید میں ایسے افراد کو “خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد” کا لقب دیا گیا ہے۔

یہ خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد انتہائی پیار اور شفقت اور محبت کے حقدار ہیں۔ دنیا بھر میں ان افراد پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ان کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جاتے ہیں الاقوامی سطح پر ان خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی فلاح و بہبود کے لئے لیے کئی مرتبہ اجلاس منعقد ہوچکے ہیں اور وقتا فوقتا ہوتے رہتے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بھی خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف قوانین ترتیب دیے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے 1973 کے اہین میں خصوصی بچوں کو مکمل حقوق دئیے ھیں اور وہ بھی عام بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں اقوام متحدہ کی ہدایت پر پاکستان میں بھی 1981 میں معذور بچوں کا عالمی سال منایا گیا جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے 24 دسمبر 1981 کو آرڈیننس نمبر 11/1981 جاری کیا اس آرڈنینس کو جاری کرنے کا بنیادی مقصد معذور افراد کو روزگار مہیا کرنا اور ان کی فلاح وبہبود و بحالی تھا۔ پاکستان میں معذور لوگوں کی بحالی فلاح وبہبود ملازمت اور ان کی ذات سے متعلق مختلف معاملات کو حل کرنے کے اس آرڈنینس کا اجرا ایک انقلابی اور قابل تحسین قدم تھا۔ اس کے بعد ان قوانین میں مختلف قسم کے اور مختلف وقتوں میں ردوبدل ہوتے رہے اب تک تقریبا بہت زیادہ قوانین ان خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے بنائے گئے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ ان قوانین پر اب تک پچاس فیصد بھی عمل درآمد ممکن نہیں ہوا ہے۔

شہری علاقوں میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے پھر بھی بہت سارے سہولیات میسر ہیں، ان کی تعلیم و تربیت کے لیے لیے بہت سارے ادارے تعمیر کیے گئے ہیں۔ مگر دیہی علاقوں میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد پر بالکل بھی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ دیہی علاقوں میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ دیہی علاقوں میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کو یوں ہی گلیوں میں چھوڑا جاتا ہے ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے انہیں تکلیف پہنچایا جاتا ہے ان کے بنیادی حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے ان کی بگڑتی ہوئی کوئی صحت کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے ان کو گھروں میں قید رکھا جاتا ہے انہیں آزاد معاشرے سے محروم رکھا جاتا ہے۔ حلانکہ خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد انتہا درجے کے پیار، محبت، اور شفقت کے مستحق ہیں۔

اگر ان کی مکمل تربیت کی جائے اور ان کے حقوق مکمل طور پر ان کے لیے میسر ہوں تو یہی افراد بھی معاشرے کے بہترین رکن ثابت ہو سکتے ہیں۔
خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی تعلیم و تربیت بڑا کھٹن صبر آزما اور محنت طلب کام ھے یہ فریضہ وھی شخص کر سکتا ھے جس کو اللہ پسند کر لیتا ھے جس کے دل میں ہمدردی اور رحم کا جذبہ اور خوف خدا موجود ھو۔ خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچوں کو سنبھالنا بہت مشکل ھوتا ھے بعض اوقات بچے کے منہ سے رال ٹپک رھی ھوتی ھے اور کبھی وہ رونے اور چیخنے لگتا ھے اور کلاس روم میں ان کو کنڑول کرنا نہایت مشکل ھو جاتا ھے ایسے میں اساتذہ کرام خاص طور پر خواتین اساتذہ اپنے مادرانہ جذبہ ہمدردی کے ذریعے ان بچوں پر کنٹرول کرتی ھیں اور جب وہ نارمل ھوتا ھے تو پھر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ھوئے خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچوں سے مختلف سرگرمیاں کرواتی ھیں تدریسی معاونات کے ذریعے ان کو مصروف رکھنے کے کوشش کرتی ھیں

کلاس روم میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچوں کو روزمرہ استعمال کی اشیاء کی تربیت دی جاتی ھے باتھ روم جانے کی ٹریننگ ،سلیقے سے اٹھنا بیٹھنا دوستوں اور دیگر اجنبی افراد کے ساتھ ملنا،بڑوں کا ادب ،اسلام و دعا اور اس طرح کی چھوٹی چھوٹی چیزیں سکھائی جاتی ہیں جس سے وہ سوسائٹی اور معاشرے میں تھوڑا بہت خود کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں اور وہ اپنی معذوری کی وجہ سے کسی دوسرے کے لئے نقصان دہ نہیں رہتا۔۔بلکہ مناسب تربیت کے بعد ایسے بچے معاشرے کے لیے فائدے مند ثابت ھو رھے ھیں خصوصی بچوں کو کھیلوں کی تربیت لازمی دینی چاھیے سکول میں زیادہ سے زیادہ ھم نصابی سرگرمیوں کو انعقاد کرنے اشد ضرورت ھے۔
حکومت وقت سے خصوصا خیبر پختون خواہ کی حکومت سے دردمندانہ گزارش ہے کہ خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی فلاح و بہبود کیلئے موثر اقدامات اٹھائیں، مختلف مقامات خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی تعلیم و تربیت کے لئے اسکول کھول دیا جائے، اور جہاں ایسے ادارے اگر موجود ہئں تو کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے ۔

جتنے بھی سرکاری اسکول خیبر پختون خواہ میں موجود ہیں تمام میں کم ازکم ایک ایک اسپیشل ایجوکیٹر بھرتی کئے جائیں تاکہ خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچے بھی عام بچوں کے ساتھ مل کر تعلیم حاصل کر سکیں۔
تمام نصابوں میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے متعلق کم ازکم ایک سبق لازمی طور پر شامل کیا جائے، تاکہ معاشرے کے لوگوں کو آگاہی حاصل ہو سکے۔
چترال یونیورسٹی میں شعبہ براے خصوصی تعلیم و تربیت کا انعقاد بھی وقت کی اشد ضرورت ہے۔

میں اپنے تمام دوستوں ، بہنوں، بھائیوں اور بزرگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت اور بحالی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ امان میں رکھے آمین۔

 


شیئر کریں: