Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صنفی بنیادوں پر تشدد عالمی مسئلہ ہے۔ لیکن بعض ممالک اور علاقوں میں تشدد انتہائی تشویشناک مسئلہ کی صورت اختیار کر گیا ہے.شازیہ سلطانہ

شیئر کریں:

صنفی بنیادوں پر تشدد عالمی مسئلہ ہے۔ لیکن بعض ممالک اور علاقوں میں تشدد انتہائی تشویشناک مسئلہ کی صورت اختیار کر گیا ہے- شازیہ سلطانہ

چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز ) صنفی بنیادوں پر تشدد کے خلاف پوری دنیا میں آگہی 25پھیلانےکی غرض سے ہر سال نومبر سے 10دسمبر تک سولہ دنوں پر مشتمل مختلف آگہی و احتجاجی پروگرامات منعقد کئے جاتے ہیں ۔ یہ پروگرامات ان تین بہنوں کی یاد میں منائے جاتے ہیں ۔ جنہیں امریکہ میں بیہمانہ تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔ اس سلسلے ہر سال نئے تھیم کے ساتھ تشدد مذمت کرنے کے حوالے تقریبات منعقد کئے جاتے ہیں ۔ جبکہ اس سال کا تھیم یونائیٹڈ یعنی (متحد) رکھاگیاہے ۔ جس کا مقصد خواتین کو صنف کی بنیاد پر اپنے اوپر ہونے والے تشدد کو روکنےکیلئے متحد ہونےکی اشد ضرورت ہے ۔

 

اس سلسلے میں ایک تقریب آغاخان رورل سپورٹ پروگرام آفس چترال میں منعقد ہوا ۔ جس میں تشددکی شکار خواتین اور تشدد کی وجہ سے جان بحق ہونے والی خواتین کے ساتھ بھر پور ہمدردی کا اظہار کیا گیا ۔ اس پروگرام کی آرگنائزر شازیہ سلطانہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہا ۔ کہ صنفی بنیادوں پر تشدد عالمی مسئلہ ہے۔ لیکن بعض ممالک اور علاقوں میں تشدد انتہائی تشویشناک مسئلہ کی صورت اختیار کر گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 1991 سے باقاعدہ طور پر ہر سال 16 دن تشدد کے خلاف آگہی کیلئے مخصوص کئے گئےہیں ۔جس میں تشدد زدہ خواتین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

 

انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں بھی خواتین پر دباو ہے۔ اس لئے وہ اپنی مرضی اوررائے کا آزادانہ طور پر اظہار نہیں کر سکتیں ۔ کچھ لوگ اچھے ہیں ۔لیکن مجموعی طور پر چترال کی خواتین کو اپنی رائے کی آزادی کا مسئلہ درپیش ہے ۔ کم عمری میں شادی، بغیر پوچھے والدین کی طرف سے جبرا ضلع سے باہر شادی، لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کو کم تر جاننا ، ذہنی تشدد اور جسمانی تشدد اس کی واضح مثالیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ ان تشد د سے دلبرداشتہ ہو کر بعض خواتین اور بچیاں خود کشی کرنےپر مجبورہو جاتی ہیں ۔

 

انہوں نے کہا ۔ کہ یہ آگہی و ہمدردی مہم گذشتہ اکتیس سالوں سے جاری ہے۔ اور ان سولہ دنوں کے دوران مختلف مرحلوں میں آگہی فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جن میں ٹاک شوز ، پینل ڈسکشن وغیرہ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس تقریب میں سول سوسائٹی کے نمایندگان ، لوکل سپورٹ آرگنائزیشن ، سوشل ویلفئیر ، میڈیا اور آرٹ سے تعلق رکھنے والے نمایندگان شریک ہیں ۔ اور پینل ڈسکشن ویمن رپورٹنگ سنٹر پریس کلب چترال میں کی جائے گی ۔ قبل ازین شرکاء نے کیک کاٹ کر مہم کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا ۔ اور پلے کارڈ اٹھاکر صنفی و گھریلو تشدد سمیت خواتین پر ہر قسم کے جبر کے خاتمے کی حمایت کا اظہار کیا گیا ۔ اس موقع پر ریجنل پروگرام منیجر اے کے آر ایس پی اخترعلی اور دیگر اسٹاف بھی موجود تھے ۔

chitraltimes akrsp meeting on gender based voilation 2


شیئر کریں: