Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے ہیں جن کا مقصد دیگر صوبوں پر غذائی انحصار کو کم سے کم کرنا ہے۔ وزیراعلیِ  محمود خان

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی حکومت نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے ہیں جن کا مقصد دیگر صوبوں پر غذائی انحصار کو کم سے کم کرنا ہے۔ وزیراعلیِ  محمود خان

پشاور( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے ہیں جن کا مقصد دیگر صوبوں پر غذائی انحصار کو کم سے کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جس نے اپنی فوڈ سکیورٹی پالیسی اور ایکشن پلان کا اجراءکیا ہے جس کے تحت قلیل المدتی ، وسط المدتی اور طویل المدتی اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال منصوبہ بھی پائپ لائن میں ہے جس کی تکمیل سے جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بنایا جائیگا۔ پیر کے روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے فصلوں کی بہتر پیداوار کو یقینی بنانے اور کاشتکاروں کی معاونت کے لیے صوبے میں کسان کارڈ کا اجراءبھی کیا ہے جو صوبائی حکومت کا ایک منفرد اقدام ہے۔

 

گذشتہ چار سالوں کے دوران صوبائی حکومت نے تمام شعبہ جات میں خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صرف بندوبستی اضلاع میںزراعت و لائیو سٹاک کے شعبے میں جو اقدامات اٹھائے گئے ان میں 4185 ایکڑ اراضی کو زراعت کیلئے بروئے کار لایا گیا ہے۔ 2500 کسانوں کو ایڈوانس ٹیکنالوجی کے حوالے سے تربیت دی گئی ہے۔228 ٹراوٹ اینڈ کارپ فش فارم قائم کئے گئے ہیں جبکہ 14 لاکھ فش سیڈز فراہم کئے گئے ہیں۔ صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے ایگرکلچر و لائیوسٹاک پروگرام کا اجراءکیا گیا ہے جبکہ صوبے میں پہلی لائیوسٹاک یونیورسٹی کے قیام پر بھی پیشرفت جاری ہے۔ اسی طرح شعبہ جنگلات و ماحولیات شروع دن سے صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ صوبے کے گرین رقبے میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ دس ارب پودے لگانے کے قومی منصوبہ کے تحت صوبے میں مزید ایک ارب پودے لگائے جارہے ہیں۔

 

اس کے علاوہ جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ٹمبر مافیا کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی گئی ہے اور قبضہ مافیا سے ہزاروں ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے شعبہ آبنوشی میں گزشتہ چار سالوں کے دوران بندوبستی اضلاع میں 1463 واٹر سپلائی اسکیمیں تعمیر کی گئی ہیں۔646 واٹر سپلائی اسکیموں کی سولرائزیشن کی گئی ہے جبکہ ایبٹ آباد شہر اور بٹ خیلہ ٹاون میں میگا گریویٹی واٹر سپلائی اسکیموں کی بحالی بھی اہم قدم ہے۔ اسی طرح 831 سنیٹیشن اسکیمیں مکمل کی گئی ہیں۔ شعبہ ریلیف میں ریسکیو1122 سروس کو صوبے کے تمام اضلاع تک توسیع دی گئی ہے۔ بندوبستی اضلاع میں 25 ریسکیوسروس 1122 مراکز قائم کئے جاچکے ہیں جبکہ چھ ریسکیو سنٹرز سیاحتی مقامات پر بھی قائم کئے گئے ہیں۔ایمبولینس سروس کو ریسکیو1122 کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔


شیئر کریں: