Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ریسکیو1122 خیبر پختونخوا حکومت کا ایک بے بدل منصوبہ ۔ تحریر۔ شمس الحق  ڈپٹی ڈائریکٹر کمیونیکیشن

Posted on
شیئر کریں:

ریسکیو1122 خیبر پختونخوا حکومت کا ایک بے بدل منصوبہ ۔ تحریر۔ شمس الحق  ڈپٹی ڈائریکٹر کمیونیکیشن

chitraltimes rescue 1122 recue operations kp 2
جب سے دنیا بنی اور بنی نوع انسان نے یہاں رہنا شروع کیا تب سے ہی حادثات اور آفتیں بھی نازل ہونا شروع ہوئیں۔ قدرتی آفات اوردیگر مصائب و حادثات کے نقصانات میں کمی اور اس کے شکار افراد کے بچاو اور مدد کی فراہمی ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔ ہمارے پیارے دین اسلام میں بھی مصیبت زدہ لوگوں کی مدد پر شد و مد کے سا تھ زور دیا گیا ہے۔ ترقی یافتہ مغربی دنیا میں اس حوالے سے زیادہ کام کیا گیا اور وہاں آج صورتحال یہ ہے کہ ریلیف اور ریسکیو ادارے تربیت یافتہ ماہر افرادی قوت کے ساتھ ساتھ جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور جدید طبی سہولیات سے آراستہ گاڑیوں سے لیس ہیں۔ وطن عزیز میں وسائل کی کمی کے بہانے ماضی میں اس اہم شعبے کو نظرانداز کیا گیا اور ایسے اداروں کی عدم موجودگی یا وسائل کی ناپیدگی کی وجہ سے بروقت طبی اور ریسکیو سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے قیمتی انسانی جانیں ضائع اور املاک تباہ ہوئیں۔

 

شہری علاقوں میں فائر بریگیڈ کے برائے نام سے شعبے میونسپل اداروں میں کام کرتے رہے مگر بسا اوقات ناکارہ آگ بجھانے والی گاڑیاں اور غیر تربیت یافتہ عملے کی وجہ سے یہ کارگر ثابت نہیں ہوسکے۔ 2005کے تباہ کن زلزلے نے تو ریلیف اور ریسکیو نظام کا پول کھول کر رکھ دیا اور مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ فلاحی تنظیموں کے پاس کچھ گاڑیاں ضرور موجود تھی مگر تربیت یافتہ عملہ اور ضروری سامان کے فقدان کا مسئلہ ان کو بھی درپیش رہا۔ ملک میں اس مقصد کے لیے کام کرنے والے اداروں سول ڈیفنس اور میونسپل کمیٹیوں کو بروئے کار لانے کی کوششیں کی گئیں مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی چنانچہ 2004 میں پنجاب میں ریسکیو 1122کا ادارہ قائم کیاگیا۔ جو کہ ابتدامیں ایک پائلٹ پراجیکٹ تھا۔ لاہور میں کام شروع کرنے کے بعد ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)نے سات منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچنے کا عملی مظاہرہ کیا جو بین الاقوامی معیار کے برابر پر تھا۔

chitraltimes rescue 1122 recue operations kp 1

چنانچہ لاہور میں کامیابی کے بعد صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع تک اس کا دائرہ بڑھا دیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں بھی 2010 میں پشاور اور بعد ازاں مردان میں ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)کا ادارہ قائم کیا گیا۔اس سروس کی کامیابی میں حکومت کی بھرپور سرپرستی اور ادارے میں بھرتی ہونے والے عملے کی فرض شناسی اور انتھک محنت کا بڑا ہاتھ تھا۔ نئے بھرتی ہونے والے عملے کو ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)پنجاب کی تربیتی اکیڈمی میں تربیت دلائی گئی۔ ابتدائی طور پر صوبے میں مردان اور پشاور کے لوگوں کو ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)کی خدمات میسر آئیں مگر صوبے کے دیگر بڑے اور چھوٹے شہردور جدید کی اس ضروری سہولت سے محروم تھے۔ تاہم 2014 کے بعد ضلع نوشہرہ اور بعد ازاں پورے صوبے میں اس ضروری اور اہم سہولت کو عوام تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا گیا اور مختلف اضلاع میں عوام کو ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122) کی خدمات فراہم کردی گئی۔موجودہ صوبائی حکومت نے ضلعی صدر مقامات کے ساتھ ساتھ تحصیل لیول اور ضم شدہ تمام اضلاع میں دو، دو ریسکیومراکز بنانے کا ریکارڈ قائم کردیا۔ ضم شدہ اضلاع میں بھی ریسکیو سٹیشنز قائم کئے گئے۔ پہلے مرحلے میں ایک ارب 23 کروڑ روپے کی لاگت سے 11 سٹیشنز کے قیام کے بعد 2 ارب روپے کی خطیر لاگت سے مزید 15 ریسکیو سٹیشنز کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یوں تمام بندوبستی اور نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام کو ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)کی خدمات میسر آئیں اور اب صرف ایک فون کال

 

پر کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)کا تربیت یافتہ فرض شناس عملہ متاثرہ لوگوں کی دہلیز پر پہنچ جاتا ہے جو ایک بہت ہی بڑی سہولت ہے۔ خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 کے ایمر جنسی سروسز میں توسیع کے بعد نئے بھرتی شدہ عملے کی تربیت بھی ایک اہم مسلہ تھا۔ فی الوقت عملے کی تربیت کے لیے ریسکیو 1122 پنجاب کی تربیتی اکیڈمی کی خدمات لی جاتی ہیں تاہم عملے کی تربیت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر صوبہ خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 کے عملے کی تربیت کے لیے صوبائی سطح پر ریسکیو سروسز اکیڈمی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے اس پر 6 ارب روپے کی خطیر لاگت آئے گی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اکیڈمی کے قیام کے لیئے زمین حاصل کر لی گئی ہے۔ جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ خیبر پختونخوا صوبے کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورت و پر کشش سیاحتی مقامات سے نوازا ہے جہان ہر سال سردی اور گرمی کے دنوں میں ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں سیاح آتے ہیں اکثر سیاحتی مقامات دوردراز پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں اس لیے وہاں کسی بھی حادثہ، بیماری اور ہنگامی صورت میں ریلیف اور ریسکیو سہولیات کی فراہمی ہمیشہ ایک مسئلہ بنا رہا تھا اس لئے موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کے چھ اہم سیاحتی مقامات پر بھی ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122) کے مراکز قائم کیے ان میں کمراٹ،گبین جبہ، کیلاش، ٹھنڈیانی، ایوبیہ اور مانسہرہ شامل ہیں اسی طرح باچا خان انٹرنیشنل ایئر پورٹ پشاور اور طورخم سمیت صوبے کے پانچ بڑی جیلوں میں سیٹلائٹ ریسکیو سٹیشن قائم کیے گئے جو مسافروں اور قیدیوں کو بروقت ایمرجنسی طبی اور دیگرسہولیات مہیا کر رہے ہیں۔

chitraltimes rescue 1122 recue operations kp 3

کورونا وبا کے دوران بھی ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122) کی خدمات قابل تعریف رہیں اس دوران ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122)کے بہادر جوانوں نے آٹھ ہزار سے زائد مریضوں کوہسپتالوں اورقرنطینہ مراکز میں منتقل کیا جبکہ کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کے جسد خاکی دفنانے کا فریضہ بھی ادا کیا۔ اس دوران اس ادارے نے 4ہزار سے زائد مقامات پر ڈس انفیکشن سپرے بھی کروائے۔ چونکہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122) کی خدمات اس قدر قابل اعتماد تھیں کہ ان پر انحصار میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے اضافہ ہوتا گیا اور اس سروس کے پا س دستیاب ایمبولینسوں کی تعدادکسی طور پر بھی ضرورت پوری نہیں کر سکتی تھی۔ چنانچہ صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کے مختلف ہسپتالوں کے ساتھ موجود ایمبولینس گاڑیوں کو ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122) کے حوالے کرنے کا انقلابی فیصلہ کیا اور 440 سے زیادہ ایمبولینس گاڑیاں بہتر استعمال کے لیے ہسپتالوں سے لے کر ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122) خیبر پختونخوا کے حوالے کی گئیں جس سے اس ادارے کی خدمات مزید زیادہ تعداد میں لوگوں کو حاصل ہوئیں۔ ایک سرکاری دستاویز کے مطابق گذشتہ چار سالوں کے دوران 49 ہزار مریضوں کو مختلف اضلاع سے دیگر اضلاع کے بڑے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ 88 ہزار سے زائد متاثرہ افراد اور مریض ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقل کئے گئے۔بہتر خدمات کو یقینی بنانے کے لئے ایمرجنسی عملے میں ایک ہزار سے زیادہ کااضافہ بھی کیا گیا ہے۔ اس ادارے کی کارکردگی کا اندازہ ان اعداد و شمار سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اب تک ٹریفک حادثات میں 149869، میڈیکل ایمرجنسیز میں 577121، آگ لگنے کے واقعات میں 24719، جرائم سے متعلق ایمر جنسیز میں 14548، عمارات گرنے کے واقعات میں 1437، ڈوبنے کے 3111 واقعات میں لاکھوں شہریوں کو خدمات مہیا کیں۔ ریسکیو 1122عوام الناس کے جان و مال اور ان کے تحفظ کی علمبردار ہے جس کے لیے ادارے کے اعلی تربیت یافتہ کارکن شب وروز تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ریسکیو

1122نے مختصر مدت میں ریسکیو انتظا میہ اپنی خدمات کی بدولت عوام کی دعائیں اور محبت سمیٹنے میں کامیاب رہا ہے۔ اِس اِدارے کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ تاہم عوام سے بھی اس توقع کی امید کی جاتی ہے کہ کسی بھی حادثے کی صور ت میں امدادی سرگرمیوں کے دوران ریسکیو1122- کے عملے سے مکمل تعاون کیا جائے۔تاکہ یہ ادارہ جس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہے اس مقصد کا حصول ممکن ہو پائے۔ ریسکیو1122 کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خطیر احمدکے مطابق وہ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسے ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں جس کا نصب العین دوسروں کے لیے جیو،،ہے ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو (1122) ادارے کے نوجوان، ماہر اورپیشہ ورانہ تربیت کی حامل افرادی قوت کے طور پر دن رات ہنگامی صورتحال اور آفات میں لوگوں کی جان و مال اور املاک کو بچانے کے لیے کمربستہ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے نے اب تک لاکھوں ایمرجنسی حالات اور واقعات میں انسانی زندگیوں کاتحفظ کیا اور املاک بچائی ہیں۔ انہوں نے کہا عوام ریسکیو کے کام ادارے کے عمل سے تعاون کریں۔

chitraltimes rescue 1122 recue operations kp 5

chitraltimes rescue 1122 recue operations kp 4


شیئر کریں: