Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تحریکوں میں آرٹس کا کردار اور  عمران خان آرٹس – ڈاکٹر زین اللہ خٹک

شیئر کریں:

تحریکوں میں آرٹس کا کردار اورعمران خان آرٹس – ڈاکٹر زین اللہ خٹک

 آرٹ جسےفنون یافنون لطیفہ بھی کہا جاتا ہے، اظہار کے طریقے جو مختلف اشیاء، ماحول، یا تجربات کی تخلیق میں مہارت یا تخیل کا استعمال کرتے ہیں جنہیں دوسروں کے ساتھ شئیر کیا جا سکتا ہے۔ آرٹس میں ادب (بشمول شاعری، ڈرامہ، کہانی وغیرہ)، بصری فنون (پینٹنگ، ڈرائنگ، مجسمہ سازی وغیرہ)، گرافک آرٹس (پینٹنگ، ڈرائنگ، ڈیزائن، اور دیگر شکلیں جو ہموار سطحوں پر ظاہر ہوتی ہیں)، پلاسٹک آرٹس (مجسمہ، ماڈلنگ)، آرائشی فنون (انمل ورک، فرنیچر ڈیزائن، موزیک وغیرہ)، پرفارمنگ آرٹس (تھیٹر، رقص، موسیقی)، موسیقی (بطور ساخت)، اور فن تعمیر (اکثر اندرونی ڈیزائن سمیت) شامل ہیں ۔فن اور فنکار تحریکوں کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ چاہے وہ بصری فن ہو، بولا ہوا لفظ ہو یا موسیقی، آرٹ ہمیں ایک نقطہ نظر فراہم کرتا ہے کہ اس وقت کے دوران ہم نے کیسا محسوس کیا۔ یہ ہماری زندگی کے لمحات اور حرکات ہیں ۔جو روزانہ ہو رہے ہیں۔ جس کو فن کی زبان میں پرویا جاتا ہے ۔
تاریخ عالم میں رونما ہونے والے تمام بڑی تحریکوں کے پیچھے آرٹس کی کردار نگاری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ تحریکوں کے دوران بننے والی آرٹس کو تحریکی یا انقلابی آرٹس کہا جاتا ہے ۔انقلابی آرٹس انقلابی ہوتا ہے۔
ہم  انقلابی تحریکوں میں سرخ جھنڈوں، ہتھوڑوں اور درانتیوں، فیکٹریوں اور مشینوں کو عمومی طور پر دیکھتے ہیں۔   جس طرح خٹک ڈانس جو ایک مکمل عسکری اور تحریکی تربیت ہے ۔ جس کے زریعے سے مخالفین کو زیر کیا جاتا تھا ۔ اور اپنے قبیلے کی فتح اور کامیابی حاصل کی جاتی ۔ اسی دوران ہونے والی معاشی ،معاشرتی المیوں کو ٹپہ کی صورت میں گایا جاتا تھا ۔فرانسیسی انقلاب کے رہنماؤں نے نئے فرانس اور فرانسیسی قوم پرستی کے حق میں عوامی جذبات کو متحرک کرنے کے لیے شعوری طور پر فن کی تمام اقسام کا استعمال کیا۔ ذرائع ابلاغ کی غیر موجودگی میں، فنکار آبادی کی ایک بڑی تعداد تک پہنچنے اور ان پر اثر انداز ہونے کے قابل تھے جو دوسری صورت میں پروپیگنڈے کے لیے قابل رسائی نہیں تھے۔ مصوری اور مجسمہ سازی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔انقلاب روس 1917بذات خود جزوی طور پر فنکاروں کا کام تھا۔ کچھ لوگوں نے سماجی اور/یا سیاسی تبدیلی کے لیے کام کیا تھا جب کہ روسی فنکاروں نے انیسویں صدی میں سماجی نقاد کا کردار ادا کیا تھا۔ 1870 کی دہائی میں وانڈررز کی پینٹنگز نے روزمرہ کی زندگی میں سماجی ناانصافی کو بے نقاب کیا تھا۔ بیسویں صدی کے اوائل تک ایک باخبر روسی avant-garde پیرس اور میونخ سے رابطے میں تھا، جو اختراعی فن کے مرکز تھے۔ جدیدیت کو اپناتے ہوئے، اس نے زارسٹ روس کو تبدیل اور جدید بنانے کے طریقے پر بحث کی۔ کچھ، گونچارووا کی طرح، فرانسیسی اور جرمنوں کی طرف سے پسند کیے گئے افریقی فن کے بجائے، ‘آدمی’ روسی کسانوں کے فن کے وشد رنگ اور رسمی آسانیاں اختیار کیں۔
 1949 میں چین انقلاب کے دوران فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ آرٹ تخلیق کریں جو اس وقت کی ارتقائی روح کی عکاسی کرتا ہو، ماؤ کے الفاظ میں، لوگوں کے لیے فن تخلیق کریں۔ فنکاروں اور فن سازی پر اس ہدایت کا اثر بہت زیادہ تھا۔ ایک سوشلسٹ حقیقت پسندانہ انداز میں تیل کی پینٹنگ نے سیاہی کی پینٹنگ کی جگہ لے لی جو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے چین میں سب سے زیادہ قابل احترام آرٹ کی شکلوں میں سے ایک تھی – بطور ترجیحی پینٹنگ اسٹائل۔ انقلابی ہیروز، جیسے مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں نے روایتی مضامین جیسے مناظر، پرندے اور پھولوں کی جگہ لے لی۔المختصر ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کی عظیم تحریکوں کی کامیابی کے پیچھے اہم کردار آرٹس کا رہا ۔ پاکستان میں 1996 میں عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد بطور ایک تحریک رکھی ۔ تاکہ ملک میں حقیقی معنوں میں عوام کو آزادی ملے ، جہاں معاشرے میں انصاف ہو۔ جہاں صحت سہولیات میسر ہو ۔ جہاں  امیر و غریب میں فرق نہ ہو ۔ جہاں عدالتی نظام میں انصاف میسر ہو ۔ 26 سالہ جدوجہد کے دوران عمران خان ملک پر 75 سالوں سے قابض طاقتوں کے سامنے کھڑا رہا ۔ اس دوران ایک مکمل آرٹس تخلیق ہوچکی ہے ۔  عمران خان پاکستان کی تاریخ کا سب سے مقبول ترین لیڈر ہیں ۔ عمران خان عوام کے حقوق ، عوام کے مسائل ، عوام کی آزادی ، عوام کی خودمختاری ، عوام کی خوشحالی اور ترقی کے بارے میں جدوجہد کررہے ہیں۔ اس لیے عوام میں عمران خان کی مقبولیت آسمان کو چھورہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتا ہے وہ کروڑوں اور اربوں کی ہوجاتی ہے ۔ چارسدوال چپل صدیوں سے لوگ بناتے آرہے ہیں ۔ لیکن عمران خان کی بدولت یہ خان چپل برینڈ بن گیا ۔یہ صرف چپل تک محدود نہیں رہا ۔ گانے ہو یا پینٹنگ ، کپٹروں کی ڈیزائننگ ، یا ہاتھ سے بنی ہوئی دستکاریوں، ٹی وی چینل ہو یا یوٹیوب چینل ہو ۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد مختلف علاقائی زبانوں اور اردو میں گانے لکھے جاچکے ہے ۔ جن میں عمران خان اور ملک کے اندر بے انصافی ، لاقانونیت کا ذکر موجود ہیں ۔ آخر میں اختصار سے کام لیتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان آرٹس پاکستان میں تحریکی فن کا ایک نایاب باب بن چکا ہے ۔

شیئر کریں: