Chitral Times

Dec 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کابینہ اجلاس میں ملاکنڈ کے اور ہزارہ کے پسماندہ اضلاع پر مشتمل نئے زون کے قیام کی منظوری دیدی گئی

شیئر کریں:

کابینہ اجلاس میں ملاکنڈ کے اور ہزارہ کے بعض پسماندہ اضلاع پر مشتمل نئے زون کے قیام کی منظوری دیدی گئی

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) صوبے میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے ایک نیا زون قائم کرنے کیلئے کا بینہ کمیٹی کی رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش کی گئی جس میں ملاکنڈ کے اور ہزارہ کے بعض اضلاع پر مشتمل ایک نئے زون کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔ کابینہ نے کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ایک نئے زون (زونvi-) کے قیام کی منظوری دیدی۔ زون vi-میں ضلع اپر کوہستان،لوئر کوہستان، کو لئی پالس کوہستان، تورغر،بٹگرام، بونیر، شانگلہ اور ٹانک کے علاوہ صوابی، ہری پور اور مانسہرہ کے پسماندہ علاقے شامل ہوں گے۔

دریں اثنا خیبر پختونخوا کے وزیر محنت وپارلیمانی امور شوکت یوسفزئی نے شانگلہ کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے زون کے قیام سے پسماندہ علاقوں کو فائدہ ملے گا اور انکی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہوسکے گا گریجویٹس کو اچھی پوسٹوں پر تعیناتی میں آسانی ہوگی۔نئے زون کے قیام کا مطالبہ دیرینہ تھا جو وزیر اعلی محمود خان کی دلچسپی اور تعان کے بغیر ناممکن تھا۔ہم وزیراعلی محمود خان اور تمام ممبران کمیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنکی ان تھک محنت اور دلچسپی کیوجہ سے یہ ممکن ہوا۔نئے زون کا قیام صوبائی حکومت کا انقلابی اقدام اور شانگلہ اور دیگر پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

chitraltimes shaukat yousufzai

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابینہ اجلاس کے بعد اپنے دفتر سے جاری ہونیوالے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری محنت رنگ لے آئی اور آخر کار عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوا جو کہ خوش آئند بات ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے متعدد اجلاس منعقد کئے اور اس حوالے سے ہوم ورک کیا۔ شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ نئے زون کے قیام سے تعلیم یافتہ نوجونوان کو روزگار کے مواقع آسانی سے ملیں گے اور انکو اچھے پوسٹوں پر تعینات ہونے میں آسانی ہوگی۔انہوں نے وزیر اعلی محمود خان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ہماری آواز سنی اور انکے تعاون اور دلچسپی کے بغیر یہ ناممکن تھا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ پسماندہ علاقوں کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جو کہ آج حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔شوکت یوسفزئی نے تمام کمیٹی ارکان کا بھی انکے تعاون اور دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کیا۔


شیئر کریں: