Chitral Times

Dec 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وفاق ہمیں ہمارے پیسے نہیں دیتا اور ہمیں سٹیٹ بینک سے قرض لیکر سود سمیت دینے پر مجبور کرتا ہے،وزیرخزانہ وصحت تیموسلیم جھگڑا

Posted on
شیئر کریں:

وفاق ہمیں ہمارے پیسے نہیں دیتا اور ہمیں سٹیٹ بینک سے قرض لیکر سود سمیت دینے پر مجبور کرتا ہے،وزیرخزانہ وصحت تیموسلیم جھگڑا

وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ویڈیو بیان پر جوابی پریس کانفرنس

 ڈالر انٹر بینک میں کنٹرول لیکن اوپن مارکیٹ میں اب بھی 240 کا ہے، سمندر پار پاکستانی اب بینک کی بجائے اوپن مارکیٹ سے پیسے بھیج رہے ہیں، بحیثیت پاکستانی کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ہمارا ملک ڈیفالٹ ہو، آئی ایم ایف معاہدہ بھی اسی تناظر میں کیا گیا کہ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچاسکے، حکومت میں آنے سے ایک دن قبل تک تو امپورٹڈ حکومت مہنگائی مارچ کررہی تھی بعد میں مہنگائی پر بات کرنے سے گریزاں، 1971 کے بعد ملک تاریخی مہنگائی کے دور سے گزر رہا ہے، اگر امپورٹڈ حکوت معیشت پر بات نہیں کرتی تو ہم تو کرینگے، مفتاح اسماعیل نے اپنے آرٹیکل میں حکومت کی ناکامیوں کا چُن چُن کر ذکر کیا ہے، مفتاح اسماعیل کو بیٹھنے کا کہا تھا اسحاق ڈار کو بھی کہہ رہا ہوں، وفاق نے صوبوں کیساتھ معاشی مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے ہیں، ہمیں شہباز شریف کے کپڑے نہیں، معاشی پالیسی اور فیصلہ سازی کی قوت چاہئے،صوبے کے حقوق کیلئے عدالت جانا ہمارا حق ہے لیکن ہماری ترجیح نہیں: تیمور جھگڑا کی پریس کانفرنس

 

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیرصحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کے ہمراہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ویڈیو بیان پر جوابی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ نے ویڈیو بیان میں کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے کا رسک قطعی نہیں ہے، خوش آئند بات ہے کہ امپورٹڈ حکومت میں کسی نے خزانے اور معیشت بارے کوئی بیان تو جاری کیا،بحیثیت پاکستانی کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ہمارا ملک ڈیفالٹ ہو، ہم اس ملک کے باشندے ہیں اور اس کی ترقی و خوشحالی ہم سب کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ موڈیز اور فیچ کی ریٹنگز بحیثیت آزاد ادارہ قابل اعتماد ہے، ہمارے انٹرنیشنل بانڈز کی مالیت آئے روز گررہی ہے اس لئے انٹرنیشنل مارکیٹ فی الوقت ہماری معیشت پر بھروسہ نہیں کررہی،اس سے قبل یہ خود ہی کہہ رہے تھے کہ ڈیفالٹ کا رسک ہے ہم بچارہے ہیں،آئی ایم ایف معاہدہ بھی اسی تناظر میں کیا گیا کہ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچاسکے،اسی تناظر میں عوام پر مہنگائی کا طوفان بھرپا کردیا، 1971کے بعد ملک تاریخی مہنگائی کے دور سے گزر رہا ہے۔

 

وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو پاکستانی معیشت پر بھروسہ نہیں رہا اس لئے دوسری قسط میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، ڈالر انٹر بینک میں تو شائد کنٹرول ہو لیکن اوپن مارکیٹ میں ڈالر اب بھی 240 کا ہے، اس ریٹ کے فرق سے بین الاقوامی ری میٹنسز میں کمی آرہی ہے اور سمندر پار پاکستانی بینک کی بجائے اوپن مارکیٹ سے پیسے بھیج رہے ہیں، حکومت عمران خان پر جھوٹے کیسز کروانے کی بجائے معیشت پر توجہ دے، بین الاقوامی مارکیٹ کو بھروسہ دلائیں کہ ملکی معیشت میں استحکام آئے، حکومت معیشت کے استحکام کیلئے مزید اقدامات اس لئے نہیں کررہی کہ الیکشن میں ان کو اس کا خمیازہ بھُگتنا پڑے گا، وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے تیمور جھگڑا نے بتایا کہ امپورٹڈ ٹولے نے خود حکومت سنبھالی اور اب ان سے معیشت سنبھل ہی نہیں رہی، حکومت میں آنے سے ایک دن قبل تک تو یہ امپورٹڈ حکومت مہنگائی مارچ کررہی تھی، حکومت میں آنے کے بعد اپنے بیانات پر یوٹرن ہی لے لیا، یہ عوام کا حق ہے ان کو معاشی مسائل پر اعتماد میں لیں، ہم پختونخوا کے معاشی مسائل پر میڈیا اور عوام کو اعتماد میں لیتے ہیں،معروف اخبار میں چھپے سابق وزیر خزانہ کے آرٹیکل کا ذکر کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ مفتاح اسماعیل نے اپنے آرٹیکل میں حکومت کی ناکامیوں کا چُن چُن کر ذکر کیا ہے، ملک کی ساری اکائیاں امپورٹڈ حکومت کی معاشی ناکامیوں کا خمیازہ بُھگت رہی ہیں،

 

گیلپ سروے نے پاکستانی معیشت کا پول کھول دیا ہے، سروے میں بتایا گیا ہے کہ 88 فیصد کاروباری سمجھتے ہیں کہ ملکی معیشت صحیح سمت میں نہیں جارہی، وفاق صوبوں کو فنڈز ٹرانسفر میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے، وزیراعظم کے میڈیا بیانات اور اعلانات کا حوالہ دیتے ہوئے تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ شہباز شریف نے پختونخوا کو تو چھوڑیں اپنے صوبے پنجاب کو بھی سیلاب کیلئے ایک پھوٹی کوڑی نہیں دی، وزیراعظم پختونخوا میں سیلاب کیلئے دس ارب روپے کا اعلان کرکے مُنکر گئے، ہمیں شہباز شریف کے کپڑے نہیں، معاشی پالیسی اور فیصلہ سازی کی قوت چاہئے، اپنی حکومت کے دوران پنجاب میں بجلی کیلئے 100 ارب سبسڈی کا اعلان کیا، پنجاب میں حکومت جانے کے بعد صوبے کے فنڈز ہی روک لئے مبہم معاشی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ سات مہینے کا ٹریک ریکارڈ اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ ملکی معیشت کی سمت درست کرنی ہوگی اگر امپورٹڈ حکوت معیشت پر بات نہیں کرتی تو ہم تو کرینگے، معیشت بارے عوام اور میڈیا پر جھوٹ نہیں بول سکتے۔

 

ایک صحافی کے سوال پر کہ“صوبائی حکومت وفاق کیساتھ بیٹھ کر مسائل کیوں حل نہیں کرتی”کے جواب میں وزیر خزانہ نے موقف اپنایا کہ مفتاح اسماعیل کو بیٹھنے کا کہا تھا اسحاق ڈار کو بھی کہہ رہا ہوں، اسحاق ڈار کے دفتر کئی دفعہ بات بھی ہوئی، وفاق نے صوبوں کیساتھ معاشی مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے ہیں، قبائلی اضلاع کے فنڈز پر عدالت جانے کیلئے ہوم ورک شروع ہے،صوبے کے حقوق کیلئے عدالت جانا ہمارا حق ہے لیکن ہماری ترجیح نہیں ہم ہر بات مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں، وفاق ہمیں ہمارے پیسے نہیں دیتا اور ہمیں سٹیٹ بینک سے قرض لیکر سود سمیت دینے پر مجبور کرتا ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈار صاحب خراب معیشت اور ملک کے ڈوبنے کا ڈھنڈورہ تو آپکی حکومت اور اس کے اتحادی پیٹ رہے ہیں، معیشت میں استحکام کیلئے سیاسی استحکام لازم و ملزوم ہے،سیاسی استحکام نئے انتخابات سے آئے گا تا کہ حکومت کے پاس پانچ سال کا مینڈیٹ ہو۔


شیئر کریں: