Chitral Times

Dec 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان ۔”روجی اور استخوان – پشاور میں آج شام“۔ محمد جاوید حیات

شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان ۔”روجی اور استخوان – پشاور میں آج شام“۔ محمد جاوید حیات

پشاور ایک شہر ہی نہیں ایک یاد ایک احساس اورایک پہچان ہے ۔۔اس کی تاریخ کے اوراق الٹ پلٹ کرنے والے ”پراشپورا “ سے ”پشاور“ تک لے آتے ہیں توصدیاں اس کے پیٹ میں دفن ہیں یہ کتنوں کی ماں رہا ہے کتنے اس کی خاک میں ابدی نیند سو رہے ہیں کتنوں نے یہاں پہ جنم لی اور یہاں کی خاک اوڑا ۔۔کیا کیا دور آۓ گۓ ۔لیکن سوال یوں ہے کہ اس احساس کی یادگار کو ہم احساس تک لیں گے یا اس کو اپنی تہذیب اپنی زندگی اور اپنے کردار کی یادگار کے طور پر محفوظ رکھیں گے ۔۔

 

میں فضل اکبر بھائی اور ثناء اللہ پرنسپل ہاٸی سکول بمبوریت کل شام پشاور پہنچے تو سستانے کے بعد کھانے کی فکر ہوٸی میں نے تجویز دی کہ” ڈگی“ میں جاکے روایتی پلاٶ ”استخوان “ کے ساتھ کھاتے ہیں ۔وہاں پہنچے تو رش کہیں نہیں تھا ۔ارڈر میں جب میں نے ”استخوان “ نام کا اضافہ کیا تو بیرے کی ہنسی پھوٹی بچہ مسکراتے ہوۓ گیا کھانا لایا ۔۔سوال اس روایتی شہر کی روایات کا ہے ۔دنیا میں جتنی بھی تاریخی شہر اور جگہے ہیں وہ ان قوموں کی تاریخ اور تہذیب کی ”زندہ مثالیں “ ہیں وہ عمارات، وہ پارکیں، وہ سیرگاہیں، وہ گلی کوچے اسی طرح برقرار ہیں ورنہ تو ”احرام مصر ، روما کی عمارات ، روضہ تاج محل وغیرہ “ کب کے ڈھا چکے ہوتے اور ان کی جگہ نٸ ٹیکنالوجی آتی ۔مگر ان کی بھر پور حفاظت کی جاتی ہے ۔

 

پشاور بھی ہماری تاریخی ورثہ ہے اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے ۔ہم کھانا کھا کے باہر آۓ تو قصہ خوانی بازار میں روایتی رش تھا لیکن صفاٸی ستھراٸی دیکھ کر افسوس ہورہا تھا۔کوڑا کرکٹ کیلے کے چھلکے کاغذ کے ٹکڑے بد بو پانی کیا کیا نہیں۔کہتے ہیں کسی زمانے میں پشاور سات دروازوں کے اندر تھا دروازوں کے نام لوگوں کو یاد ہیں ۔۔شہر پھیلا ہے لیکن ہماری تاریخ ان سات گیٹوں کے اندر محفوظ ہونا چاہیۓ ۔”روایتی پشاور “ کو ان گیٹوں کے اندر محفوظ کیا جاۓ لوگ ادھر صرف” پشاور “دیکھنے آیٸں ۔اس کے اندر پشاور کی روایتی تہذیب ہو روایتی کھانے ہوں وہ کڑک چاۓ وہ گرم قہوہ وہ کڑائی وہ خالص ہنکو اور پشتو زبان ۔۔کیا یہ سب کچھ ممکن نہیں کیا ہمارے حکمران ہمارے پشاور کو محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔

 

پشاور میں داخل ہوکر اس سےہمارے جیسے روحانی وابستگی رکھنے والوں کو دلی سکون ہوتا ہے ۔۔پشاور کے اصل باشندے اپنی روایتی مہمان نوازی شائستگی اور سیدھا سادا پن میں مصنوعیت نہ لاٸیں ان کو احساس ہو کہ وہ ایک روایتی شہر کے امین ہیں ۔شہر میں بلدیہ لوکل کونسل اور شہر کے انتظامیہ پر لازم پڑتا ہے کہ وہ اس کی حفاظت اس کی صفاٸی ستھراٸی کا خیال رکھ کر اس کے نام کی لاج رکھیں ۔ہم نے استخوان کا مزہ لیا یہ اپنی جگہ لیکن ہمارے بڑے جس پشاور کے قصے لے لے کر سناتے تھے ان میں کہیں جھول آتا دیکھاٸی دیتا ہے۔پشاور کے ہم امین ہیں ان کی گلیاں ان کے بازار ان کی قدیم عمارتیں سب کی حفاظت ہمارا فرض ہے ۔بے شک اس میں ہر طبقے کے لوگ بستے ہیں ان میں سے ہر ایک کو اس کی صفاٸی کا خیال نہ ہو مگر اس کے پیچھے اگر انتظامیہ کی طاقت ہو تو اہستہ اہستہ ان کو بھی اپنے اخلاقی فراٸض کی عادت بن جاۓ گی اور ہمارا پشاور ایک ”شناخت اور پہچان “ بن جاۓ گا


شیئر کریں: