Chitral Times

Dec 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا  – خانہ بدوشوں کی حکومت – تحریر عبد الباقی چترالی

شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا  – خانہ بدوشوں کی حکومت – تحریر عبد الباقی چترالی

گزشتہ چھ ماہ سے وفاق میں خانہ بدوش جماعتوں کی حکومت قائم ہیں ۔خانہ بدوشوں کا سربراہ پاکستانی عوام سے مہنگائی میں کمی لانے اور ملک کے بگڑے ہوئے معاشی حالات کو درست کرنے کا وعدہ کر کے اقتدار میں آئے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کی حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے ،تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے ۔کہ ملک کی معاشی حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوئے ہیں ۔اور مذید خرابی کی طرف جا رہے ہیں ۔
تجربہ کار خانہ بدوش جماعتیں اقتدار میں آنے سے پہلے مہنگائی کو سابقہ حکمرانوں کی نا تجربہ کاری اور ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے تھے ۔اس وقت اہل اور تجربہ کار سیاستدان اقتدار میں ہیں،تو مہنگائی کنٹرول کیون نہیں ہو رہا ہے ۔؟ خانہ بدوشوں کی حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے ۔
موجودہ وزیر خزانہ کو معشیت کا جادو گر قرار دے کر لندن سے اسلام آباد لایا گیا ۔معشیت کے جادوگر اپنے تمام قابلیتوں ،صلاحیتوں اور کوششوں کے باوجود مہنگائی کے جن کے سامنے بے بس نظر آرہا ہے ۔اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔اس بےتحاشہ مہنگائی سے معاشرے کے تمام طبقے کے لوگ شدید متاثر ہوئے ہیں ۔
خانہ بدوشوں کی حکومت گزشتہ چھ ماہ کے دوران کسی قسم کی سہولت دینے میں کامیاب نہیں ہوا ۔خانہ بدوشوں کا سربراہ گزشتہ چھ ماہ سے وفاقی کابینہ میں وزیروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے ۔اس وقت کابینہ میں وزیروں کی تعداد چھیتر (76) ہوگئے ہیں ۔جو کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کابینہ ہے۔مذید وزیروں اور مشیروں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔یہ بات سب بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان جیسے قرضوں میں ڈوبے ہوئے معاشی طور پر بدحال ملک میں اتنے بڑے کابینہ قومی خزانے پر بھاری بوجھ ہے۔ایسے بدتر معاشی حالات میں جب عوام کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے ۔تو وزیر اعظم کے لئے یہ مناسب نہیں ،کہ وہ اپنے کرسی بچانے اور خانہ بدوش جماعتوں کو خوش کرنے کے لئے یہ قومی خزانے کو پانی کی طرح بہائے ۔
وفاقی کابینہ میں شامل وزیروں کی فوج آخر ملک اور قوم کی ایسی کیا خدمت انجام دے رہا ہے ۔کہ بیروں ممالک اور اداروں سے قرضے لے کر اور غریب عوام کا خون نچوڑ کر ان وزیروں اور مشیروں کو بھاری تنخواہیں اور شاہانہ مراعات دیئے جا رہے ہیں ۔یہ ملک اور قوم کے ساتھ سراسر ظلم زیادتی اور نا انصافی ہے۔حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہیں ۔اور ملک کے غریب عوام اپنے بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں ۔یہ صورت حال ملک کے عوام کے لئے ناقابل برداشت ہے ۔
یہ کیسا نظام اور کیسا انصاف ہے ۔؟ موجودہ خانہ بدوشوں کی حکومت معاشرے کے کمزور طبقوں پر بے تحاشہ مہنگائی کا بوجھ ڈال کر ان کو جینے کے حق سے بھی محروم کر رہا ہے ۔جبکہ بالادست طبقوں کو سہولتیں اور مراعات فراہم کر رہی ہے ۔حکومت مہنگائی اور دیگر ملکی مسائل کی طرف توجہ دینے کے بجائے اقتدار کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے ۔
حکمران جماعتیں اپنے اقتدار بچانے کی خاطر ملکی وسائل کو بے دریغ استعمال کر رہے ہیں ۔گزشتہ چھ ماہ کے دوران حکومت تیل،گیس،بجلی اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لانے میں ناکام ہے۔

شیئر کریں: