Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کاربن کے اخراج میں کمی کے مشترکہ لائحہ عمل کے لئے جامع پالیسیز کی عالمی سطح پر ضرورت ہے’وزیراعظم

Posted on
شیئر کریں:

کاربن کے اخراج میں کمی کے مشترکہ لائحہ عمل کے لئے جامع پالیسیز کی عالمی سطح پر ضرورت ہے’وزیراعظم محمد شہباز شریف کاکوپ -27 کے موقع پر خطاب

شرم الشیخ/اسلام آباد(چترال ٹائمز رپورٹ)وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم بحران پر قابو پانے کے حوالے سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں،سیلاب کی تباہ حالی پر قابو پانے کیلئے درکار اور دستیاب وسائل میں فرق بہت زیادہ ہے جبکہ پاکستان موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے،عالمی برادری ماحولیاتی تبدیلی کے باعث نقصانات کے ازالہ اور بحالی کے اقدامات کو کوپ۔27 کے ایجنڈا میں شامل کرے تا کہ بری طرح متاثرہ آبادی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔وزیراعظم محمد شہبازشریف نے گزشتہ روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں کوپ۔27 عالمی کانفرنس کے موقع پر اقوام متحدہ کے ادارے ماحولیاتی تبدیلی کے زیر اہتمام ”عمل درآمد کیلئے ایک ساتھ”کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے پاکستان کے قومی بیانیہ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاربن کے اخراج میں کمی کے مشترکہ لائحہ عمل کے لئے جامع پالیسیز کی عالمی سطح پر ضرورت ہے،کاربن کے اخراج میں مسلسل اضافہ ہماری بحالی کے اقدامات سے تیز تر ہے۔

 

وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں کو متوجہ کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ آپ سب پاکستان میں تباہ کن سیلابوں کے بارے میں آگاہ ہوں گے۔جن سے 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں جو تین یورپی ممالک کی آبادی کے مساوی ہیں،متاثرین میں خواتین اور بچوں کی تعداد نصف سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے جنوب میں معمول کی بارشوں کے مقابلہ میں 7 گنا زائد بارشیں ہوئی ہیں،ہمارے گلیشئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ سیلابوں کی وجہ سے پاکستان میں 8 ہزار کلو میٹر سے زیادہ پختہ سڑکیں بہہ گئیں جبکہ 3 ہزار کلومیٹر سے زیادہ ریلوے ٹریکس کو نقصان پہنچا ہے، اس کے علاوہ پاکستان میں 4 ملین ایکڑز رقبہ پر کھڑی فصلیں سیلاب سے تباہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلابوں سے ملک کے چاروں کونوں میں بے پناہ نقصانات ہوئے ہیں، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ کاربن کے عالمی اخراج میں پاکستان کا انتہائی معمولی حصہ ہونے کے باوجود ہم ایسے نقصانات سے دوچار ہیں،ہم ایسے عوامل اور انسان کے پیداکردہ اْن بحرانوں سے متاثر ہو رہے ہیں جن میں ہمارا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کی ترجیحات ہمیشہ واضح رہی ہیں سب سے پہلے عالمی سطح پر اہداف کی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے فنانسنگ اور نظام الاوقات کے اہداف کا تعین ضروری ہے،ہم بحران پر قابو پانے کے حوالے سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں،سیلاب کی تباہ حالی پر قابو پانے کیلئے درکار اور دستیاب وسائل میں فرق بہت زیادہ ہے جبکہ پاکستان موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری ماحولیاتی تبدیلی کے باعث نقصانات کے ازالہ اور بحالی کے اقدامات کو کوپ۔27 کے ایجنڈا میں شامل کرے تا کہ بری طرح متاثرہ آبادی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے،پبلک فنانسنگ اور قرضوں کی مشکلات کے باعث ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک بشمول پاکستان کو اپنے وسائل سے بحالی کے اقدامات میں مشکلات درپیش ہیں، اورتیسرے نمبر پر کلائیمٹ فنانس کی تشریح کی ضرورت ہے تا کہ شفاف طریقہ سے ماحولیاتی تبدیلی کے ازالہ کیلئے درکار اور اضافی وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے جس سے ترقی پذیر اور متاثرہ ممالک میں بحالی کی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں واضح طور پر ماحولیاتی تبدیلی کے نقصانات اور اس حوالے سے ترقیاتی فنڈز کا تعین کرنا چاہیے۔ ماضی میں اس پر کم توجہ دی جاتی رہی ہے۔

 

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ہم کئی سالوں سے اس پر بحث کر رہے ہیں لیکن بنیادی اہداف پر متفق نہیں ہو سکے۔2009ء میں کوپن ہیگن میں منعقدہ کوپ۔15میں سال 2020ء تک اربوں ڈالرز کے وسائل کی فراہمی کے وعدے ابھی تک وفا نہیں ہو سکے، ان میں اضافہ کی ضرورت ہے،ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے تناظر میں فنڈز کی فراہمی میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ وزیراعظم نے عالمی برادری کو متوجہ کیا کہ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس ہماری چوتھی ترجیح ہونی چاہیے اور اقوام متحدہ کی سربراہی میں اس حوالے سے اقدامات ناگزیر ہیں۔اس حوالہ سے ماحولیاتی فنانسنگ کے حجم میں اضافہ اور تیز تر فراہمی کے لئے اقدامات کو یقینی بنایا جائے،ماحولیاتی تبدیلی کے متاثرین اور ان کی بحالی کے اہداف کا واضح تعین کیاجائے تاکہ بوجھ کو مشترکہ طور پر برداشت کرنے کے فارمولا کے تحت عملی اقدامات کئے جاسکیں تاکہ مشترکہ ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو پیرس معاہدہ پر عمل درآمد کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر کئی ممالک کے مقابلہ میں پاکستان نے 2030ء تک کے لئے مقررہ اہداف کے حصول کے لئے زیادہ اقدامات کئے ہیں۔ ہم اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ہم کاربن کے اخراج کے خاتمہ کے لئے پرعزم ہیں۔

 

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکنالوجیز‘ فنانسنگ اور استعداد کار میں فرق کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پایا جاسکے۔شمال اور جنوب میں موجود اس فرق کو ختم کرنا ہوگا،پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلابوں کے حوالہ سے اپنی معلومات آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ سیلاب سے پاکستان بری طرح متاثر ہوا ہے، ہمیں گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے، پام آئل اور مہنگے تیل و گیس کی درآمد پر تقریباً 30 تا 32 ارب ڈالر خرچ کررہے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے دستیاب وسائل سے لاکھوں متاثرہ خاندانوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کاوشیں کررہے ہیں، ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 316 ملین ڈالر سے ہر خاندان کو 113 ڈالر کی ادائیگی کررہے ہیں۔جس سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 300 ملین کے قریب خاندانوں کی معاونت کی جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سردیاں آرہی ہیں لاکھوں متاثرین کے لئے شیلٹرز’گھروں ’علاج معالجہ اور فوڈ پیکیج کی ضرورت ہے، ملک کے مختلف صوبوں میں اربوں روپے اپنے وسائل سے خرچ کررہے ہیں۔ انہوں نے تقریب کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تصور کریں کہ ایک طرف ہمیں عام آدمی کے لئے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جس پر اربوں ڈالر کے اخراجات کئے جارہے ہیں دوسری جانب ہمیں متاثرین سیلاب کو مزید مشکلات سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے،عالمی برادری ہم سے کیسے توقع رکھتی ہے کہ ہم اپنے محدود وسائل سے ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ کروڑوں افراد کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی بحالی کے اقدامات کر سکتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم مشکل کے ان لمحات میں مدد کرنے پر عالمی برادری کے مشکور ہیں جنہوں نے عطیات، غذائی اجناس، خیموں اور ادویات وغیرہ کے ذریعے ہماری مدد کی ہے۔عالمی برادری نے بحری اور فضائی راستوں سے امدادی اشیاء کی ترسیل کی ہے لیکن ضروریات اور دستیاب وسائل سے بہت بڑا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہماری مشکلات کو سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خدا سے دعاگو ہیں کہ کل کوئی دوسرا ملک ماحولیاتی تباہی کا نشانہ نہ بنے،یہ انسانوں کا پیدا کردہ بحران ہے،متاثرین کی بحالی اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر نو کیلئے عالمی سطح پر اضافی فنڈنگ کی ضرورت ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم یہ کام اضافی قرضہ جات کے ذریعہ نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے ہمارے لئے سخت ماحولیاتی/ معاشی مسائل پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم نے توقع ظاہر کی یہ کانفرنس نہ صرف اس واضح پیغام کو سمجھے گی بلکہ مسائل کے خاتمہ کے لئے عالمی سطح کے کردار کے حامل اداروں تک بھی ہماری آواز عالمی برادری تک پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے اب یا کبھی نہیں کی صورت حال ہے۔ عالمی برادری ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔


شیئر کریں: