Chitral Times

Feb 5, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت کے زیرانتظام ابتک تقریباً9 ارب روپے کی لاگت سے سولرائزیشن  کے منصوبے مکمل کئے گئے۔ وزیر اعلیِ محمود خان 

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی حکومت کے زیرانتظام ابتک تقریباً9 ارب روپے کی لاگت سے سولرائزیشن  کے منصوبے مکمل کئے گئے۔ وزیر اعلیِ محمود خان

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے میں ماحول دوست اورصاف توانائی کی پیداوار کیلئے ٹھوس اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے ۔ اب تک صوبے میں 7420 سکولوں،6657 مساجد اور 134 صحت مراکز ، ضم اضلاع کی 895 مساجد اور 5 کلیساوں کی سولرائزیشن مکمل کر لی گئی ہے۔اسی طرح 100 سے زائد دیہاتوں میں 6643 گھرانوں کے علاوہ متعدد سرکاری دفاتر کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے ۔ شمسی توانائی کے مذکورہ منصوبے تقریباً9 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کئے گئے ہیں جن سے سالانہ 422 ملین روپے کی بچت ہو رہی ہے ۔ علاوہ ازیں 161 میگاواٹ کے 7 پن بجلی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جن سے اب تک صوبے کو 31 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہو چکی ہے جبکہ 232 میگاواٹ کے 7 مزید پن بجلی منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے سالانہ 9 ارب روپے کی آمدنی ممکن ہو گی۔منگل کے روز محکمہ توانائی و بجلی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت ملکی سطح پر توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کےلئے خاطر خواہ اقدامات اٹھا رہی ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ واحد صوبہ ہے جو ہر ممکن حد تک سستے ترین نرخوں پر بجلی پیدا کررہا ہے جسکا قومی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ہے۔ اس موقع پر اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ شمسی توانائی کے 20.47 میگاواٹ کے حامل مزید تین منصوبوں پر کام جاری ہے جن کے تحت ضم اضلاع میں 13 سولر منی گرڈ کی تنصیب کے علاوہ صوبہ بھر بشمول ضم اضلاع میں مزید آٹھ ہزار مساجد کی سولرائزیشن کی جائیگی۔ اجلاس کو اب تک مکمل کئے گئے منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پیڈو کے تحت صوبے کے مختلف ریجنز میں سات پن بجلی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں اور اُن سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی گئی ہے ۔ ان منصوبوں میںسے 4.2 میگاواٹ ریشون چترال ،1.8 میگاواٹ شیشی چترال،2.6 میگاواٹ مچئی ،17 میگاواٹ رانولیا اور 36.6 میگاواٹ درال خوڑ پی ٹی آئی کی سابقہ اور موجودہ حکومت کے دور میں مکمل کئے گئے ہیں۔ 10.2 میگاواٹ جبوڑی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مانسہرہ بھی رواں ماہ افتتاح کے لئے تیار ہوگا جبکہ 11.8 میگاواٹ کروڑہ ،40.8 میگاواٹ کوٹو(دیر لوئر)، 84 میگاواٹ مٹلتان (سوات)،69 میگاواٹ لاوی (چترال)،10.5 میگاواٹ چپڑی چار خیل (کرم) اور6.5 میگاواٹ براندو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (تورغر) پر کام جاری ہے جو مجموعی طور پر 71 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے ۔

 

اجلاس کو صوبے میں چھوٹے پن بجلی گھروں کے قیام کے حوالے سے پیشرفت پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت شمالی اضلاع میں 28 میگاواٹ مجموعی استعداد کے حامل 316 چھوٹے پن بجلی گھرمکمل کر لئے گئے ہیں جن سے پیدا ہونے والی بجلی مقامی آبادیوں کوفراہم کی جارہی ہے ۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت خیبرپختونخوا میں مزید 291 چھوٹے پن بجلی گھروں پر بھی پیشرفت جاری ہے جن سے مجموعی طور پر 47.4 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی ۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ پیڈو کے تحت ڈونرز کی مدد سے بھی 545 میگاواٹ کے تین مختلف پن بجلی منصوبوں پر پیشرفت جاری ہے جن کی تکمیل سے سالانہ 28 ارب روپے سے زائد کی آمدنی متوقع ہے ۔ ان منصوبوں میں بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور مدین ہائیڈرور پاور پراجیکٹ شامل ہیں۔اس کے علاوہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت754 میگاواٹ کے حامل پن بجلی کے تین میگا منصوبوں پر بھی پیشرفت جاری ہے جبکہ 564 میگاواٹ کے تین منصوبے رواں پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کیلئے تجویز کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر مزید بتایا گیا کہ صوبے کے پانچ ہائیڈرو پاورپراجیکٹس سی پیک کیلئے بھی تجویز کئے گئے ہیں جو مجموعی طور پر 378 میگاواٹ استعداد کے حامل ہیں۔

 

مزید برآں پن بجلی کے تین پرائیوٹ سیکٹر پراجیکٹس گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ موڈ کے تحت بیرونی سرمایہ کار کمپنی کو ایوارڈ کئے گئے ہیں جن میں 470 میگاواٹ لوئر سپاٹ گاہ،238 میگاواٹ کالام اسریت اور 229 میگاواٹ اسریت کیدام شامل ہیں۔ علاوہ ازیں 911 میگاواٹ کی مجموعی استعداد کے حامل سات ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی فزبلیٹی اسٹڈیز پر کام جاری ہے۔ دریں اثناءاجلاس کو محکمہ توانائی میں کی گئی اصلاحات کے بارے میں بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ میں ای بڈنگ متعارف کر ا دیا گیا ہے ۔ ویلنگ آف انرجی کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پاور پالیسی 2016 بمعہ گائیڈ لائنز ، پیڈو ایکٹ 2020 ، پیڈو سروسز رولز 2020 اور پیڈو کیلئے 10 سالہ بزنس پلان کی منظوری یقینی بنائی گئی ہے۔ اسی طرح دیگر اہم اصلاحات میں آن لائن فائل ٹریکنگ سسٹم، آن لائن ایسٹس مینجمنٹ سسٹم ، آن لائن ٹاسک مینجمنٹ سسٹم، آن لائن وہیکل ٹریکنگ سسٹم اور پیڈو ملازمین کی ٹریننگ وغیرہ شامل ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پیڈو کے تحت مکمل کئے گئے منصوبوں خصوصاً شمسی توانائی کے پراجیکٹس پر اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ صوبے میں پن بجلی کے مکمل شدہ منصوبوں کے باضابطہ افتتاح اور نئے منصوبوں کے سنگ بنیاد کیلئے تیاریاں مکمل کی جائیں ۔ اُنہوںنے مزید ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کو فعال بنانے کیلئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تعیناتی سمیت دیگر سٹاف کی ہائرنگ تیز رفتاری سے مکمل کی جائے ۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ اس سلسلے میں کسی تاخیر کی گنجائش موجود نہیںہے۔ اجلاس میں سیکرٹری انرجی اینڈ پاور ، سی ای او پیڈو، پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر سرکاری اہلکاروں نے شرکت کی۔


شیئر کریں: