Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ ہر دل عزیز شخصیت امیر خان میر ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ ہر دل عزیز شخصیت امیر خان میر۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خیبر روڈ پر صو بائی اسمبلی کی عما رت کے سامنے محکمہ مو سمیات کا صو بائی دفتر اور مشہور رصد گاہ (اوبزر ویٹری) کی عما رتیں ہیں امیر خان میر یہاں سینئیر ابزرور تھے تو ہم ان سے ملنے آتے ایک آدھ بار انہوں نے ہمیں اہم تنصیبات سے بھی آگاہ کیا اور ابزرویشن روم کی جدید ترین مشینری بھی دکھا ئی اتوار کا دن آتا تو ہمیں ساتھ لیکر بھا نہ ما ڑی میں اپنے بڑے بھا ئی بزرگ استاد سے ملنے جا تے جو وہاں اما مت اور خطا بت کر تے تھے 24اکتو بر 2022ء کی شام میر صاحب کی وفات کی خبر سنی تو مجھے ان کی پیشہ ورانہ زند گی کے مہ و سال یا د آئے پشاور سے ان کا تبا دلہ لا ہور ہوا، لا ہور سے تر قی پا کر گلگت میں چارج سنبھا لا اور گلگت ہی سے انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی امیر خان میر ہر دل عزیز شخصیت اور مر نجان مرنج طبیعت کے ما لک تھے اللہ پا ک کی طرف سے ان کو محبت اور قنا عت کی دولت کا وافر حصہ عطا ہوا تھا 1936ء میں چترال کے مضا فا تی گاوں چمر کن میں بیگا لے قبیلہ کے سلیمان خا ن کے ہاں پیدا ہوئے سٹیٹ ہا ئی سکول چترال سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد استاد مقرر ہوئے اُس زما نے میں ریا ست کے وسائل محدود تھے اس لئے با صلا حیت نو جوا نوں کو وفا قی حکومت میں اچھی نو کر یوں کی تلا ش ہوتی تھی.

chitraltimes amir khan mir ex tehsil nazim chitral

چنا نچہ دو سال بعد محکمہ دفاع کے شعبہ مو سمیات میں ملا زمت کے لئے منتخب ہوئے اسی کو پیشہ بنا یا مگر ہوا کے رُخ پر چلنے کے بجا ئے ہواوں کے مقا بل اپنا چلن رکھا 1960ء کا عشرہ وطن عزیز میں کمیو نزم اور اسلا می طا قتوں کی آویزش و چپقلش کا زما نہ تھا امیر خا ن میر چترال کے عسکر ی ہیڈ کوارٹر دروش میں متعین تھے جہاں شہزادہ افضل ولی، اشرف خا ن خلجی، مو لا نا عبد الروف، فیض اللہ، محمد سعید، محمد اشرف اور دیگر احباب پر مشتمل ایک ایسا حلقہ تھا جو درس قرآن، درس حدیث اور اصو ل دین کے مطا لعے کے لئے مخصو ص تھا احباب کی ہفتہ وار نشستوں میں مو لا نا سید ابو لا علیٰ مو دودی کی کتابیں تقسیم ہوتی تھیں امیر خان میر بھی احباب کے اس حلقے میں شا مل ہوئے جس کو بعد میں جما عت اسلا می کے متفقین کا حلقہ بنا یا گیا جما عت کا رکن بننے کے بعد بھی آپ اس حلقے کو یا د کر تے تھے اس حلقے کی وساطت سے جما عت اسلا می کا لٹریچر ریا ست کے اندر پھیلا یا گیااس دینی کا م کے تسلسل میں آپ کو یہ سعادت ملی کہ اپنے گھر میں بیٹی کے لئے بچیوں کا مد رسہ قائم کیا اور دن بھر تلا وت قرآن کی صدا گھر میں گونجتی رہی آپ کے بیٹے کو بھی علم دین کی سعادت نصیب ہوئی پو تا بھی حا فظ قرآن بنا خود تلا وت کر تے تو آنسو تھمنے کا نا م نہ لیتے.

 

ملا زمت سے ریٹائر منٹ لینے کے بعد آپ چترال کے تحصیل نا ظم منتخب ہوئے 2001سے 2005تک اس عہدے پر متمکن رہے کسی ولی کا مل کا قول ہے در ویش کی گڈ ڑی میں پیوند ہوتے ہیں دھبے نہیں ہو تے میر صاحب نے سیا سی عہد ے پر رہتے ہوئے اپنے دامن کو آلو دہ نہیں ہونے دیا یہا ں تک کہ سیا سی مخا لفین بھی آپ کی اما نت داری اور صدا قت کے قائل ہو گئے یہ بہت بڑا امتحا ن تھا اور اس میں سر خرو ہو نا آ سان نہ تھا اُ ن کی زند گی کا ایک اور پہلو ادب اور شعر و شا عری سے ان کا شغف اور ذوق و شوق تھا مادری زبان کھوار کی ادبی تنظیم انجمن ترقی کھوار کی صدارت پر بھی فائز ہوئے کتا بوں کی تدوین میں حصہ لیا تین اہم کتا بوں کی ادارت اور تدوین کا ری سے نا م کما یا انجمن کے مشا عروں، مذاکروں، سیمیناروں اور کانفرنسوں میں تنظیمی امور سنبھا ل کر پرو گراموں کو کا میا بی سے ہم کنا ر کیا آپ کی شخصیت بڑی دلا ویز اور متا ثر کن تھی ہر وقت ہشاش بشاش اور مسکرا تے چہرے کے ساتھ نظر آتے ان کا کہنا تھا کہ محبت ایک طا قت اور توا نا ئی ہے،

amir khan mir tehsil nazim chitral

قنا عت دنیا میں انسا ن کی سب سے بڑی دولت ہے علا مہ اقبال کے فارسی اور اردو کلا م سے بر محل حوالے دینا ان کا وطیرہ تھا اکثر علا مہ کا یہ شعر دہراتے غیر ت ہے بڑی چیز جہان تک و دو میں پہنا تی ہے درویش کو تا ج سردارا نما ز جنازہ پڑ ھا نے کے بعد ان کے منجھلے بیٹے مو لا نا اشفاق احمد نے شر کا سے مختصر خطا ب کر کے سب کا شکر یہ ادا کیا اپنے پا پ کو یا د کر تے ہوئے کہا کہ بزر گوار نے اپنی اولا د کو صداقت اور قنا عت کی دولت میراث میں عطا کی ہے اور یہ سب سے بڑی دولت ہے امیر خا ن میر کی وفات سے ان کا خا ندان محبت کرنے اور محبت بانٹنے والے بزر گوار کی سر پر ستی سے محروم ہوا ان کے حلقہ احباب کو پُر مزاح گفتگو میں علم و ادب کے مو تی بکھیر نے اور لطا ئف وظرائف کے انبار لگا نے والے دوست کی جدا ئی کا صدمہ جھیلنا پڑا میرے لئے ان کی ایک اور حیثیت بھی تھی وہ روز نا مہ آ ج کے مستقل قاری اور داد بیداد پر نقد و تبصرہ کرنے والے مر بی اور محسن تھے اللہ ان کے بیٹوں اعجاز احمد، اشفاق احمد، امتیاز احمد، الطاف احمد اور انتخا ب احمد کے ساتھ ان کے پو تے لفٹننٹ طفیل احمد کو زند گی کی خو شیاں نصیب کرے اور ان کی روح کو اگلے جہاں میں دائمی راحت اور سکون نصیب فر مائے۔


شیئر کریں: