Chitral Times

Dec 7, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اے کے ایچ ایس پی  کے زیر انتظام چترال کے دور افتادہ گاؤں پھستی میں فری میڈیکل کلینک کا انعقاد

شیئر کریں:

اے کے ایچ ایس پی  کے زیر انتظام چترال کے دور افتادہ گاؤں پھستی میں فری میڈیکل کلینک کا انعقاد

چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز )چترال کے انتہائی دورافتادہ اورپسماندوادی پھستی میں آغاخان ہیلتھ چترال کے صحت مندخاندان (ایس ایم کے) پراجیکٹ کے زیراہتمام گذشتہ روز ایک فری میڈیکل کیمپ کاانعقادکیاگیا۔ میڈیکل کیمپ پر مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین ڈاکٹرز کی موجودگی میں کیمپ پر مریضوں نے فری کنسلٹنسی سے استفادہ حاصل کیا۔

اس کلینک میں خاتون ڈاکٹر شاہ زیبا جہان، ماہراطفال ڈاکٹر ضیااللہ خان اور جنرل فزیشن ڈاکٹر تاثیر نے مریضوں کا معائنہ کیا۔ اس کے علاوہ نرسنگ اسٹاف، ویکسینشن ٹیکنیشن اور فیملی پلاننگ کونسلربھی ٹیم کا حصہ تھے۔ اس فری میڈیکل کیمپ میں کل 198 مریضوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں بچے، بوڑھے، خواتیں، حاملہ مائیں اور مرد حضرات شامل تھے۔خاتون فیملی کاؤنسلر نے خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے خواتین کو اگاہ کیا، جبکہ ویکسینیشن ٹیکنیشن نے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے۔ کلینک میں مریضوں کو مفت دوائیں بھی فراہم کی گئیں۔

علاقے کے معززین نے فری میڈیکل کیمپ کے انعقاد پر اے کے ایچ ایس پی اور ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ کا شکریہ ادا کیا۔

یادرہے کہ 80 گھرانوں پر مشتمل پھستی گاؤں چترال شہرکے شمال کی جانب تقریبا 60 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہ ہندوکش کے پہاڑوں پر واقع ہے۔ دس ہزار سات سو (10700) فٹ کی بلندی پر واقع یہ گاؤں وادی کے دوسرے علاقوں سے کم از کم چالیس سال پیچھے ہے۔ صرف ماہر ڈرائیور ہی فور بائی فور گاڑی میں آپ کو اس گاؤں تک پہنچا سکتا ہے۔ نومبر سے اپریل کے آخر تک اس گاؤں تک گاڑی میں رسائی نا ممکن ہے۔ شدید برفباری اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے یہاں کے باسی کم وبیش چھ مہینے باقی دنیا سے مکمل طور پر کٹے رہتے ہیں۔ عام حالات میں بھی ہفتے میں ایک بار یہاں سے جیپ چترال شہر جاتی ہے۔بیسک ہیلتھ یونٹ یہاں سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ہے جبکہ ہنگامی حالات یا بیماری کی صورت میں ہزاروں روپے صرف بیمار کو ہسپتال تک پہنچانے میں لگ جاتے ہیں۔ لیکن یہ سہولت صرف گرمیوں کے موسم میں ہی میسر ہے۔ سردیوں کے چھ مہینے یا تو بیمار ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتے ہیں اور اگر گھر یا خاندان میں افرادی قوت موجود ہو تو بیمار کو بنیادی مرکز صحت تک لانے کیلئے چارپائی کا استعمال کیا جاتا ہے، جس میں کم از کم پانج گھنٹے لگتے ہیں۔

پھستی گاؤں میں ایک لیڈی ہیلٹھ ورکر ہے جو اس پورے علاقے میں زچہ وہ بچہ کی صحت کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ اس گاؤں میں میڈیکل اسٹور تک کی سہولت میسر نہیں ہے۔ بچوں کو ٹیکہ لگانے کیلئے نزدیکی بی ایچ یو سے اسٹاف ہر مہینے اس گاؤں میں جاتا ہے۔ علاقے کے عوام نے یہاں پر ایک بیسک ہیلتھ یونٹ کی قیام کا مطالبہ کیاہے ۔

chitraltimes phastte chitral2

chitraltimes phastte chitral pastee chitral chitraltimes phastte chitral


شیئر کریں: