Chitral Times

Nov 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ پرانے کھلاڑی نئی وردی ۔ تحریر عبدالباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

ہندوکُش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ پرانے کھلاڑی نئی وردی ۔ تحریر عبدالباقی چترالی

جن کھلاڑیوں کو دوہزرا اٹھارہ کے ٹورنامنٹ کے دوران ریڈ کارڈ دکھا کر گراؤنڈ سے باہر کرکے ان پر پابندی لگادی گئی تھی اب ان پرانے تجربہ کار کھلاڑیوں کو نئے وردی پہنا کر دوبارہ کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پابندیوں کے شکار کھلاڑی اجازت ملنے پر بڑے وعدوں اور دعوں کے ساتھ میدان میں اترے تھے مگر ان تجربہ کار کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کو دوبارہ بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔تجربہ کار کھلاڑی تماشائیوں کے دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ مخالف ٹیم کا کپتان ایمپائر کے فیصلے پر شک و شبے کا اظہار کررہا ہے اور جانبداری کا الزام لگا رہا ہے جبکہ ٹورنامنٹ انتظامیہ اور ایمپائر تمام ٹیموں کو اپنے غیر جانبدار ہونے کا یقین دلارہے ہیں مگر دونوں ٹیموں کے کپتانوں کو میچ انتظامیہ اور ایمپائروں کی غیرجانبداری سے متعلق اب بھی کچھ تحفظات اور خدشات موجود ہیں۔

 

میچ انتظامیہ اور ایمپائروں نے حال ہی میں بعض ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے ان کے غیر جانبداری کا یقین ہورہا ہے۔ وہ مکمل طور پر غیر جانبدار ہوکر تمام ٹیموں کو یکساں مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ جن کھلاڑیوں پر اب بھی پابندی برقرار ہے ان پر بھی پابندیاں ختم کرنے کے لیے قوانین میں کچھ تبدیلیاں لانے کا امکان دیکھائی دے رہا ہے۔گزشتہ دنوں ایک میچ کے دوران مخالف ٹیم کے کھلاڑی نے کچھ ایسے فاؤل کھیلے جس پر انہیں ریڈ کارڈ دیکھا کر ان پر پابندی لگا ئی جاسکتی تھی لیکن ایمپائر نے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے صرف ییلو کارڈ دیکھا کر وارننگ دینا مناسب سمجھا۔ میچ انتظامیہ اور ایمپائر کے اس فیصلے پر تماشائی حیران رہ گئے کہ اتنے خطرناک فاؤل کھیلنے والے کھلاڑی کو سخت سزا دینے کی بجائے صرف وارننگ دی گئی جبکہ اس سے پہلے کئی میچوں میں معمولی فاؤل کھیلنے پر بعض کھلاڑیوں کو سخت ترین سزا دے کر میدان سے باہر کرکے ان کے میچ کھیلنے پر پانبدی لگائی تھی۔

 

شاید اِس وقت میچ کے قوانین اور اصولوں میں تبدیلیاں لائی جارہی ہیں تاکہ دوہزار تئیس میں منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ صاف شفاف، پرامن اور غیرجانبداری کے ساتھ منعقد ہوسکے۔ اس وقت ملک میں موجود تمام ٹیمیں دوہزار تئیس میں منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ کی تیاریوں میں مصروف نظر آرہے ہیں۔بعض ٹیموں کے کھلاڑیوں میں رد و بدل کئے جارہے ہیں۔ پرانے کھلاڑیوں کی جگہ نئے شامل کیے جارہے ہیں۔ اگرچہ پرانے کھلاڑی تجربہ کار ہیں لیکن ان میں کھیلنے کا وہ پہلے والا جوش و جذبہ نظر نہیں آرہاہے۔ اس لیے ان کی جگہ نئے کھلاڑی شامل کیے جارہے ہیں۔بعض ٹیمیں اپنی تیاریاں مکمل کرکے دوہزار تئیس سے پہلے ٹورنامنٹ منعقد کرانے کا پرزور مطالبہ کررہے ہیں مگر میچ انتظامیہ اور ایمپائر حضرات ملک کی موسمی حالات کو میچ کے لیے اس وقت ناسازگار قرار دیتے ہوئے ٹورنامنٹ دوہزار تئیس کے آخر تک منعقد کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ تاہم حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

آئیندہ ہونے والے ٹورنامنٹ کو پرامن اور غیرجانبداری کے ساتھ منعقد کرنے کے لیے جو اصول اور قوانین وضع کیے جائیں گے، ان پر غیرجانبداری اور سختی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔اگر میچ انتظامیہ اور ایمپائر حضرات اپنے غیرجانبداری کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو آنے والے ٹورنامنٹ کا انجام بھی دوہزار اٹھارہ جیسا ہونے کا امکان ہے۔آئیندہ ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے کھلاڑی بہت زیادہ دلچسپی دیکھا رہے ہیں جبکہ تماشائیوں کی دلچسپی اس ٹورنامنٹ میں نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اس ٹورنامنٹ میں سارے پرانے کھلاڑی نئے وردی پہن کر حصہ لے رہے ہیں۔ یہ سارے کھلاڑی آزمودہ ہیں۔ان کی کارکردگی سے تماشائی خوب واقف ہیں۔
بعض ٹیمیں قبل ازوقت زور و شور سے میچ جیتنے کے دعوے کررہے ہیں۔ میچ وعدوں اور دعوؤں سے نہیں جیتا جاسکتاہے۔ تماشائی پرانے تجربہ کار کھلاڑیوں سے بڑے توقعات وابستہ کرہے تھے مگر تجربہ کار کھلاڑی گزشتہ دو میچوں میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرکے تماشائیوں کومایوس کردیے۔ اس لیے تماشائی آنے والے ٹورنامنٹ میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔


شیئر کریں: