Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ طور خم کے اُس پار ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ طور خم کے اُس پار ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

طور خم کے اُس پار اما رت اسلا می افغا نستا ن کی عبوری حکومت کا دوسرا سال کا میا بی سے آگے بڑ ھ رہا ہے شروع شروع میں افغا ن عوام کو دنیا میں تنہا ئی کا سامنا کرنا پڑ ا پھر آہستہ آہستہ عبوری حکومت نے اپنی خا مو ش سفارت کا ری کے ذریعے تنہا ئی سے نکلنے کے راستے نکا ل لئیے اس وقت پا کستان، بھا رت، روس اور عوامی جمہو ریہ چین کے ساتھ افغا نستان کے تجا رتی اور کا رو باری روابط بحا ل ہو چکے ہیں اور جو خبریں آرہی ہیں ان میں اُمید کی کرن مو جو د ہے بڑی بات یہ ہے کہ افغا نستا ن کی کرنسی مستحکم ہے افراط زر کی شرح قابو میں ہے 9ارب ڈالر کی فارن کرنسی امریکی بینکوں میں پڑ ی ہے جو کسی بھی وقت کسی بھی شرط پر افغا نستان کو مل جا ئیگی توا نا ئی اور غذا ئی ضروریات کے لئے دوست مما لک نے مثبت قدم اٹھا یاہے اگر سر ی لنکا اور پا کستان کے مقا بلے میں دیکھا جا ئے تو افغا نستا ن معا شی لحا ظ سے بہترہے کم ازکم اُسے دیوا لیہ نکلنے کا خطرہ نہیں روس اور افغا نستا ن نے آپس میں با ہمی تعاون کا معا ہدہ طے پا چکا ہے، عوامی جمہوریہ چین بھی اس طرز کے معا ہدے پر غور کر رہا ہے،

 

اس سال 24مار چ کو چینی وزیر خا رجہ وانگ ئیی نے کا بل کا سر کا ری دورہ کیا اور عبوری وزیر خا ر جہ مو لوی امیر خا ن متقی سے طویل مذاکرات کر کے دو طرفہ تعلقا ت کے مختلف پہلو وں کا جا ئزہ لیا اپر یل میں افغا ن حکومت نے چینی دارالحکومت بیجنگ میں اپنا سفارت خا نہ دوبارہ کھو ل دیا کا بل میں چینی سفارت خا نہ پہلے ہی کھل چکا ہے گذشتہ 15سا لوں میں چین نے افغا نستا ن کے اندر 3ارب چا لیس کروڑ ڈالر کی سر ما یہ کا ری کی ہے اما رت اسلا می افغا نستا ن کو اس طرز کی سر ما یہ کا ری کا یقین دلا یا گیا ہے، اس سال افغا نستان سے خشک میوہ جا ت کی بر آمدات کے لئے چین نے تعاون کیا نیز افغا نستا ن کے اندر معدنیا ت کے شعبے میں چینی سر ما یہ کار ی کے امکا نا ت پر غور ہو رہا ہے نیز دفا عی شعبے میں افغا نستا ن کی ضروریات پوری کر نے کے ساتھ ساتھ چین کی طرف سے افغا نستا ن کو ٹیکنا لو جی بھی منتقل کی جا ئیگی افغا نستا ن میں چین کی دلچسپی دو وجوہا ت کی مر ہون منت ہے پہلی وجہ یہ ہے کہ چینی تر کستان میں مسلم اقلیتوں کو چین کے خلا ف منفی سر گر میوں کی اجا زت نہ دی جا ئے دوسری وجہ یہ ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ (OBOR) کے چینی منصو بے کو افغا نستا ن کی سر زمین سے گذر تے وقت پورا تحفظ فراہم کیا جا ئے اور افغا نستا ن کو بھی سی پیک کا حصہ بنا یا جا ئے.

 

ایسا ہو ا تو خطے کے تما م مما لک آپس میں سڑ ک کے راستے تجا رت کرنے کے قا بل ہو جا ئینگے چین، پا کستان، افغا نستا ن، تر کمانستان، کر غیز ستان، ازبکستان، تا جکستا ن اور کزا خستان کے لو گ ایک دوسرے کے قریب آجا ئینگے سرحد پا ر تجا رت کے ثمرات سے تما م ملکوں میں ترقی اور خو ش حا لی آئیگی چین کو افغا نستا ن کے اندر معدنیات کے شعبے میں سر ما یہ لگا نے میں بھی دلچسپی ہے اس شعبے میں با ہمی تعاون کے وسیع امکا نا ت مو جو د ہیں افغا نستا ن میں قیمتی دھا توں اور اہم قیمتی جوا ہرات کے بے پا یان ذخا ئر دریا فت ہوئے ہیں ان ذخا ئر کو ما رکیٹ میں لا یا گیا تو افغا نستا ن کو یت اور برونا ئے سے زیا دہ دولت مند ملک بنے گا چین کے علاوہ بھا رت کی طرف سے بھی اما رت اسلا می کے ساتھ تجا رتی اور کاروباری تعلقات کی پیش کش ہوئی ہے فروری 2022ء میں بھا رت نے امارت اسلا می افغا نستا ن کو 50ہزار میٹرک ٹن گندم بھیجنے کا اعلا ن کیا تو پا کستان نے فراخد لی سے زمینی راستہ فراہم کیا، گند م کی یہ کھیپ جلا ل اباد میں عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے حکا م کی تحویل میں دے دی گئی کا بل میں بھا رت کا سفارت خا نہ کھلنے کے بعد 23جون 2022کو بھارتی وزارت خا ر جہ کے حکا م نے افغا نستا ن کا دورہ کر کے طا لبان قیا دت سے ملا قا تیں کیں ان ملا قا توں میں دوطرفہ تعاون پر غور کیا گیا، بھارت افغا ن فو جیوں کی تر بیت میں تعاون کرے گا اور افغا نستا ن کے اندر بنیا دی ڈھا نچے کے بڑے منصو بوں میں مدد دے گا اس طرح خطے کے اہم مما لک سے تعلقا ت کی ابتدا خو ش آئیند ہے۔

 


شیئر کریں: