Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فیٹف کا اجلاس 21 اکتوبر کو طلب، پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکلنے کا قوی امکان

Posted on
شیئر کریں:

فیٹف کا اجلاس 21 اکتوبر کو طلب، پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکلنے کا قوی امکان

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ) ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کا حتمی جائزہ لینے کیلئے 21 اکتوبر کو اجلاس طلب کرلیا، قوی امکان ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ فیٹف کا اجلاس 21 اکتوبر کو سنگاپور میں ٹی راج کمار کی زیر صدارت منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں پاکستان کا نام فیٹف گرے لسٹ سے نکالے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں فیٹف کی منی لانڈرنگ و ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے بڑھتی ہوئی نگرانی کے تحت دائرہ اختیار میں فیٹف گرے لسٹ کے بارے میں اَپ ڈیٹس کا اعلان کیا جائے گا۔اجلاس میں شیل کمپنیوں کو غیر قانونی فنڈز کو لانڈر کرنے کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے فائدہ مند ملکیت کی شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے رہنمائی اور عالمی اثاثوں کی وصولی کو بڑھانے کے لیے تجاویز بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اجلاس میں پاکستان کے چار سال کے عرصے کے بعد فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا امکان ہے کیونکہ اس نے 34 نکاتی ایکشن پلان کی کامیابی سے تعمیل کی ہے جس میں سے 27 نکاتی ایکشن پلان دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق تھا اور 7 نکاتی ایکشن پلان کا تعلق منی لانڈرنگ سے تھا۔جون 2022ء کے ابتدائی اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے ابتدائی فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان نے اپنے دو ایکشن پلانز کو کافی حد تک مکمل کرلیا ہے، جس میں 34 آئٹمز کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس بات کی تصدیق کے لیے سائٹ کے دورے کی ضمانت دی گئی۔قبل ازیں فیٹف پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان پر عمل درآمد کو تسلی بخش قرار دے چکا ہے اور پاکستان نام گرے لسٹ سے نکالنے کے حتمی اعلان سے پہلے فیٹف کی ٹیم پاکستان کا دورہ مکمل کرچکی ہے اور اس ٹیم نے بھی اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

 

 

متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی سفارت کاری اور سرمایہ کاری کی نئی راہیں تلاش کی جانی چاہئیں، صدر مملکت عارف علوی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملکی برآمدات میں اضافے کے لئے متحدہ عرب امارات کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی سفارت کاری اور سرمایہ کاری کی نئی??راہیں تلاش کی جانی چاہئیں، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو اس کی موجودہ سطح 10.6 بلین ڈالر سے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے نامزد سفیر فیصل نیاز ترمذی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے پیر کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔ صدر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دونوں ممالک کے درمیان قابل تجدید توانائی، تجارت، صنعت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مہمان نوازی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم 16 لاکھ پاکستانی ایک اثاثہ ہیں اور دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تارکین وطن کی طرف سے بھیجی گئی ترسیلات زر 2021-22 میں 5.814 بلین ڈالر رہیں جس نے پاکستان کو اپنی زرمبادلہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں بہت مدد دی۔

 

صدر عارف علوی نے پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کا شکریہ ادا کیا، متحدہ عرب امارات سے 57 امدادی پروازیں اور 2 بحری جہاز امدادی سامان پاکستان پہنچا چکے ہیں۔انہوں نے ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کی حمایت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی لیکویڈیٹی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے 2 بلین ڈالر فراہم کرنے کے اقدام کو بھی سراہا۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں 2.9 بلین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے سالوں میں اس سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔صدر مملکت نے نامزد سفیر سے کہا کہ وہ پاکستانی تارکین وطن کے پاکستان کے آن لائن اعلیٰ تعلیمی اداروں بشمول علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی کے ساتھ ڈیجیٹل روابط پیدا کریں تاکہ ان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے اور ان کی مہارتوں کے فروغ کے لئے اعلیٰ کورسز بھی شروع کیے جائیں جس سے ان کی آمدنی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔اس سلسلے میں انہوں نے خاص طور پر وزیر اعظم کے ڈجیٹل مہارتوں کے تربیتی پروگرام پر روشنی ڈالی۔ صدر مملکت نے نامزد سفیر کو ہندوستانی معاشرے میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہندوتوا بالادستی کے نظریات جن سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرے سے بارے میں متحدہ عرب امارات کی قیادت کو آگاہی دینے کی بھی ہدایت کی۔


شیئر کریں: