Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سپریم کورٹ نے نیب سے 23 سال کے ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیا

Posted on
شیئر کریں:

سپریم کورٹ نے نیب سے 23 سال کے ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیا

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)سپریم کورٹ نے نیب قانون میں ترامیم کے خلاف مقدمے میں گزشتہ 23 سال کے ہائی پروفائل کرپشن کیسز کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ نیب قانون میں حالیہ ترامیم کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں تبدیلی سے بے نامی دار کی تعریف انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کس آئینی شق کو بنیاد بنا کر نیب قانون کو کالعدم قرار دیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ معاملہ اہم سیاسی رہنماؤں کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے۔ جہاں عوامی پیسے کا تعلق ہو، وہ معاملہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کیسز میں بھی بے نامی کا معاملہ تھا۔ معاشی پالیساں ایسی ہونی چاہییں کہ بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معاشی پالیسیوں کو دیکھنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔ اگر کسی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو قانون میں مکمل شفاف ٹرائل کا طریقہ کار موجود ہے۔

 

چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ معیشت پالیسی کا معاملہ ہوتا ہے جس میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ عوام کے اثاثوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ بے تحاشا قرض لینے کی وجہ سے ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قرضوں کا غلط استعمال ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ زیادہ تر غیر ضروری اخراجات ایلیٹ کلاس کی عیاشی پر ہوئے۔ ملک میں 70 سے 80 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عدالت حکومت کو قرض لینے سے نہیں روک سکتی۔ معیشت کے حوالے سے فیصلے کرنا ماہرین ہی کا کام ہے۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں معاشی پالیسی کے الفاظ واپس لیتا ہوں۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہمیں پہلے یہ بتائیں کہ نیب ترامیم کے ذریعے کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟۔ فرض کریں پارلیمنٹ نے ایک حد مقرر کردی کہ اتنی کرپشن ہوگی تو نیب دیکھے گا۔ سوال یہ ہے کہ ایک عام شہری کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ہیں؟۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ نیب قانون سے زیر التوا مقدمات والوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسی عدالتی نظیر موجود ہے جہاں شہری کی درخواست پر عدالت نے سابقہ قانون کو بحال کیا ہو؟۔ شہری کی درخواست پر عدالت پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ پبلک منی کے معاملے پر عدالت قانون سازی کالعدم قرار دے سکتی ہے۔عوام کا پیسہ کرپشن کی نذر ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔بعد ازاں عدالت نے ریکارڈ طلب کیا کہ اب تک کتنے ایسے کرپشن کے کیسز ہیں، جن میں سپریم کورٹ تک سزائیں برقرار رکھی گئیں؟ اب تک نیب قانون کے تحت کتنے ریفرنسز مکمل ہوئے؟،نیب قانون میں تبدیلی کے بعد کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں؟۔عدالت نے نیب سے 1999ء سے لے کر جون 2022ء تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

 

 

سپریم کورٹ: زیتون بی بی کو 46سال بعد وراثتی حق مل گیا

اسلام آباد(سی ایم لنکس)ڈیرہ اسماعیل (ڈی آئی) خان کی رہائشی زیتون بی بی کو 46 سال بعد وراثتی حق مل گیا۔سپریم کورٹ نے زیتون بی بی کا والد کی جائیداد میں حصہ تسلیم کرلیا اور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف بھائیوں کی اپیل خارج کردی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے اس دوران استفسار کیا کہ کم عمر بہن اپنے بھائیوں کو جائیداد کیسے تحفے میں دے سکتی ہے؟سپریم کورٹ کے جج نے مزید کہا کہ ریکارڈ کے مطابق بہن کی جانب سے وکیل نے بیان دیا، پوچھتے ہیں کمسن لڑکی کی جانب سے کوئی وکیل کیسے بیان دے سکتا ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے یہ بھی کہا کہ بھائیوں نے کبھی بہن کو جائیداد گفٹ دی ہے؟ ہر بار بہن ہی کیوں گفٹ دے۔سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ گفٹ ڈیڈ میں کہیں آفر قبولیت کا ذکر نہیں تو اس کی قانونی حیثیت نہیں رہتی۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جب بہن نابالغ تھی تو بھائیوں نے کیسے بہن سے ساری جائیداد لے لی۔زیتون بی بی نے جائیداد میں حصہ کیلیے 2005 میں سول کورٹ میں کیس دائر کیا تھا، 2012 میں سیشن عدالت، 2017 میں پشاور ہائیکورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ دیا۔خاتون کے بھائیوں نے 2018 میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جو آج خارج ہو گئی۔


شیئر کریں: