Chitral Times

Dec 7, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مقامی دیہاڑی باز –  پروفیسرعبدالشکورشاہ  

Posted on
شیئر کریں:

مقامی دیہاڑی باز –  پروفیسرعبدالشکورشاہ

اگر آپ اپنے ارد گر د نظر دوڑائیں تو آپ کو ایسے بے شمار کردار ملیں گے جن کی نہ تو کوئی ملازمت ہے، نہ کاروبار،نہ کوئی ہنر اور نا ہی آمدن کا کوئی زریعہ مگروہ ملازمین اور کاروباری حضرات کی ہمہ پلہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر بمشکل خواندہ ہوتے ہیں۔ یہ روزانہ سوٹ کے ساتھ واسکٹ پہن کر، سر پر علاقی مناسبت سے ٹوپی، پگڑی، لنگی وغیرہ پہن کر ہاتھ میں عموما ایک چھڑی پکڑتے ہیں اور خراما خراما محلے سے گزرتے ہوئے بازار کا رخ کر تے ہیں۔ان کی واسکٹ کی جیبوں میں رومال، تسبی، مسواک، ڈائری یا موبائل،عطر یا سستی پرفیوم اور پنسل لازمی موجود ہوتی ہے۔ اپنی پسندیدہ نسوار، سگریٹ یا پان وغیرہ کا بندوبست یہ اپنی دیہاڑی کی مہارت سے کر لیتے ہیں۔

 

عام طور پر سارا سال یہ اہل علاقہ کے خون پر پسو کی طرح پلتے ہیں مگر سال میں ان کے کچھ مخصوص ماہ بھی ہیں جن کے دوران ان کی دیہاڑی لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دیہاڑی بازی کی روایت ہمارے معاشرے میں بڑی پائیداری سے پنپ رہی ہے اور نئی نسل دیہاڑ ی بازی کے نت نئے اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کوان کی خون پسینے کی کمائی سے محروم کر رہے ہیں۔ فراڈ مقامی دیہاڑی بازوں کی ترقی یافتہ شکل ہے چونکہ مقامی دیہاڑی باز نوسربازی کی منازل طے کر تے کر تے فراڈکی منزل تک پہنچتا ہے۔ شاہد ہی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا ہو جہاں ہمارا واسطہ ان مقامی دیہاڑی بازوں سے نا پڑتا ہو۔ مقامی دیہاڑی باز وں کے پاس کلرک سے لیکر ڈی سی ایس پی تک کے رابطہ نمبرات موجود ہو تے ہیں۔ اگر چہ وہ بذات خود یہ نمبر کبھی استعمال نہیں کرتے مگر تذکرہ ہوتے ہی اپنے تعلقات ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ دیہاڑی باز چونکہ بہت چالاک اور مکار ہو تے ہیں اس لیے یہ عام آدمی کو متعلقہ محکمے، افسر یا فرد تک رسائی سے روکنے میں ماہر ہوتے ہیں اور انتہائی ہمدردانہ انداز میں کہتے آپ کیوں فکر کرتے ہیں میں ہوں نا میں بات کر لیتا ہوں آ پ فکر مند نا ہوں گھر جائیں۔

 

پھر یہ محکمے یا افسر سے ساز باز کر کے مک مکا کراتے ہیں اور اپنی کمیشن اتنی ہوشیاری اور چالاکی سے وصول کر تے ہیں کہ مظلوم کو محسوس تک نہیں ہوتا۔ الیکشن کے ایام ان کے لیے سنہری عرصہ ہوتا ہے۔ چونکہ انہوں نے فارغ رہنے اور کام کاج نہ کرنے میں پی ایچ ڈی کی ہوتی ہے اس لیے یہ سیاسی ہل چل کے ساتھ ہی متحرک ہو جاتے ہیں۔ یہ ہر پارٹی کو چونا لگانے کا فن بھی رکھتے ہیں۔ کسی ایک علاقے کے تمام دیہاڑی باز ایک دوسرے کے رازوں سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں اور یہ کھاو پیواور ہضم کرو کی پالیسی پر کاربند ہوتے ہیں۔علاقے کی ترقیاتی سکیمیں کھانا، ترقیاتی فنڈز میں غبن، فٹنگ اور لوڈنگ ان لوڈنگ کے پیسے ہڑپ کرنا،سرکاری ٹھیکہ جات میں گھپلے، جڑی بوٹی کی سمگلنگ، لکڑ کی غیر قانونی کٹائی اور فروخت حتی کے کچھ دیہاڑی بازوں نے چور گروہ بنا رکھے ہیں جن سے اس یقین دہانی پر چوریاں کرواتے ہیں وہ ان کو پولیس سے بچائیں گے۔ کچھ دیہاڑی باز تو نوجوان نسل میں منشیات سمگل کروانے جیسے گھناونے دھندوں میں ملوث ہیں۔

 

مختلف محکموں کے لیے جاسوسی کرناتو ایک عام سی بات ہے۔ مقامی دیہاڑی باز گاڑیوں میں سفر کرتے کرایہ ادا نہیں کرتے اور عموما مفت کی گاڑی کے چکر میں رہتے ہیں۔یہ مکار گروہ تھانہ کچہری اور عدالتی داوہ پیچ سے واقف ہوتا ہے جس کی بنیاد پر یہ عام آدمی کا استحصا ل کرنے میں باآسانی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ دیہاڑی باز اکثر اوقات اپنے گاوں محلے کے مسائل پر جرگہ یا پنجائیت کا کام بھی کر تے ہیں اور دیگر تمام دیہاڑی بازوں سے ملکر اپنی جیب گرم کرتے ہیں۔ یہ اپنے گھر کا خرچہ عموما بازار سے ادھار لیکر چلاتے ہیں اور مال ہاتھ لگتے ہیں کچھ ادائیگی بھی کر دیتے ہیں۔ اکثر دیہاڑی باز سودی کاروبار سے وابستہ ہوتے ہیں کچھ تو پیری مریدی کا سہار ا بھی لیے ہوئے ہیں۔دیگر شعبوں کی طرح ان جعلی عاملوں اور پیروں کے لیے بھی حکومت لائنسسز کا اجراء تاکہ سرٹیفایڈ اور غیر سرٹیفائیڈ پیر کا پتہ تو چلے۔ یہ دیہاڑی باز نا کام کے نا کاج کے بس یہ ہیں دشمن غریب کے اناج کے۔ یہ کسی غریب یا مظلوم کو اپنی چنگل میں پھنسا کر اپنے کام کرواتے ہیں اورایک دھیلہ تک ادا نہیں کرتے۔ گاوں محلے کی لڑائی جھگڑے کی صورت میں ان کی آنکھوں میں چمک دیدنی ہوتی ہے۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ رات بھر مصلے پر بیٹھ کر دعا مانگتے رہتے ہیں۔

 

ان دیہاڑی بازوں نے عموما گاوں محلے کے افراد کے لڑائی جھگڑوں پر غیر قانونی تحریریں لکھوا رکھی ہوتی ہیں جن کی بناء پر عوام ان کے نیچے دبی رہتی ہے۔ محکمہ پولیس ان کی مکمل پشت پناہی کر تی ہے اور عموما مسائل کو قانونی طریقے سے حل کرنے کے بجائے مقامی جرگہ سسٹم کے تحت حل کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ پولیس ڈرا دھمکا کر غریب عوام کو دوبارہ ان کے چنگل میں دھکیل دیتی ہے جہاں یہ دیہاڑی باز ساز باز کر کے لین دین پر معاملہ مک مکا کر دیتے ہیں۔ متاثرہ فریق کے نام پر لکھی جانے والی رقم اس بدنصیب کو کبھی بھی نہیں ملتی اگر مل بھی جائے تو کل رقم کا دس فیصد ہی ملتا ہو گا۔ یہ دیہاڑی باز پولیس خرچے کے نام پر بھاری رقم ہتھیا لیتے ہیں اور پولیس کا حصہ ادا کرنے کے بعد باقی ماندہ رقم آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ ہمارے ناقص عدالتی نظام کی وجہ سے یہ دیہاڑی باز عرصہ دراز سے عوام پر مسلط ہیں اور اب یہ جدید شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ اب یہ دیہاڑی باز کرائے کی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، بڑے لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بناتے ہیں، مختلف محکموں کے جعلی کارڈ استعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کی پبلسٹی کی جاتی ہے۔ اکثر کسی نام نہاد این جی اوز یا کسی انسانی حقوق کی تنظیم کے ممبر بن جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اپنے آپ کو خیراتی اداروں سے وابستہ ظاہر کر تے ہیں حتی کے کچھ دیہاڑی باز مسجد اور مدارس کے چندے کے نام پر بھی کمائی کر رہے ہیں۔

 

مقامی دیہاڑی باز وں کے پاس تو عوام کو لوٹنے کے ہزاروں طریقے موجود ہیں جن کا احاطہ کرنا ایک کالم میں ممکن نہیں ہے۔ یہ غریب یا مشکل میں پھنسے لوگوں پیسے مہیا کر تے ہیں اور ان کے ساتھ فصل کی کٹائی سے پہلے خریداری کم سے کم قیمت پر طے کر تے ہیں۔ جب فصل کٹائی کا موسم آتا ہے تو مارکیٹ ریٹ سے آدھی قیمت پر فصل اٹھا لیتے اور دوگنا قیمت پربیچ کر دونوں ہاتھوں سے مال حرام کماتے ہیں۔دیہاڑی باز پیرلنگر، گیارہویں اور عرس وغیر ہ کے نام پر مفت مرغیاں دھکے سے لے جاتے ہیں۔ بعض آستانہ نشین تو باضابطہ طور پر قبضہ مافیا کا حصہ بن چکے ہیں اور بہت سے غیر قانونی کام ان کے آستانوں پر سرانجام پاتے ہیں۔ اگر ان کی تاریخ پڑھی جائے تو جب یہ کسی علاقے میں آئے تھے اس وقت ان کے پاس گزر بسر کرنے کے لیے معمولی جگہ ہوتی تھی اور اب ان کا ریکارڈ چیک کریں یہ حواس باختہ کرنے والی اراضی کے مالکان ہیں۔ یہ عوام کو آستانوں پر چندوں، نذرانوں، خیراتوں، لنگروں کے نام پر لوٹنے کے بعد سیاست میں الگ سے اپنا حساب چکتا کر تے ہیں۔

 

مقامی دیہاڑی باز کسی بڑے واقعہ یا انتہائی ناخوشگوار سانحہ پر متعلقہ فرد کو فرار ہونے کے لیے رقم مہیا کر تے ہیں اور اس کے جاتے ہیں اس کی زمین و جائیداد پر قابض ہو جاتے ہیں۔ پہلے تو اس کی واپسی کو مشکل ترین بنا دیا جاتا ہے اگر وہ واپس آ بھی جائے تو اسے کسی سکینڈل کی نظر کر دیا جاتا ہے یوں ان کے چنگل سے نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ ان کے چنگل میں پھنسنے کے بے شمار راستے ہیں مگر اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔شادی بیاہ، بیماری، فوتگی، لڑائی جھگڑا وغیرہ ان کے لیے نوید لیکر آتے ہیں اور یہ مشکل وقت میں ہمدرد بن کر عوام کو اپنے چنگل میں پھنسا لیتے ہیں۔کچھ دیہاڑی باز تو بے شماری غریبوں کے حساس کفالت کے پیسے یہ کہہ کر کھا رہے ہیں کہ آپ کے فنگر پرنٹس ٹھیک نہیں ہیں یا آپ کے آئی ڈی کارڈ میں مسلہ ہے۔ یہ دیہاڑی باز زکواۃ کے پیسے بھی ایسے ہی ہڑپ کر جاتے ہیں۔ غریبوں کے شناختی کارڈ کی کاپیوں پر جعلی سکیمیں لینا ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ ان دیہاڑی بازوں میں ایک قسم دینی دیہاڑی بازوں کی بھی ہے جو بیرون ملک سے بھاری عطیات لیکر کوئی مدرسہ کھول لیتے ہیں جہاں بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہوتی اوریہ عطیات سے موجیں کرتے ہیں


شیئر کریں: