Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے گیس پلانٹ پراجیکٹس کی نیلامی روک دیا گیا، ، عوام کو مبارکباد ، سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین

شیئر کریں:

چترال کے گیس پلانٹ پراجیکٹس کی نیلامی روک دیا گیا، ، عوام کو مبارکباد ، سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ )  چترال سے سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے چترال کے عوام کو مبارکباد دیتے ہویے کہا ہے کہ چترال کے میگا گیس پلانٹ پراجیکٹ کو نیلام ہونے سے پشاور ہایی کورٹ نے روک دیا ہے۔  چیف جسٹس پشاور ھائیکورٹ پشاور نے چترال کے سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کی درخواست پر دروش ، ایون ،بروز اورچترال کے ایک میگا پروجیکٹ ایل پی جی گیس پلانٹ کی نیلامی روک دی۔ شہزادہ افتخار نے معروف قانون دان علی گوھر درانی ایڈوکیٹ ھائی کورٹ سینئر پارٹنر شاہ دورانی خٹک پروفیشنل لاء فورم کے زریعے پٹیشن جمع کرایی تھی۔

lpg gas plant

یاد رھے کہ یہ میگا پروجیکٹ مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت میں ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کی درخواست اور کوششوں سے جنگلات کو بچانے کیلۓ لگایے جارہے تھے جو کہ گیس پلانٹ سے پائپ لاین کے زریعے ہزروں صارفین تک پہنچانا تھا لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے نا معلوم وجوہات کی بنا پر پروجیکٹ کو ختم کرکے زمین سمیت مشینوں کو نیلام کرنے کا حکم دیا تھا جسے  شہزادہ افتخار الدین اور سماجی شخصیت رضیت باللہ بزریعہ شیر حیدر ایڈوکیٹ ھائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ معزز عدالت نے دونوں وکیل صاحبان کو سننے کے بعد ایل این جی پروجیکٹ کو نیلام کرنے سے روکتے ہویے 25 اکتوبر تک حکومت کو وقت دے دیا۔۔

فریقین نے کورٹ میں کیس دائر کرتے ھوۓ موقف اپنایا ھے کہ سابق حکومت میں جنگلات کی بے دریغ کٹائ ‘ جنگلی حیات کے تحفظ اور پسماندہ علاقے کے لوگوں کو سہولت بہم پہنچانے کیلۓ گیس پالانٹس کے لیے بھاری رقم سے منظور کرکے کام کا اغاز کر دیا گیا تھا۔۔۔

 

جس سے 203 ملین کے رقم سے دروش ۔ آیون بروز اور چترال ٹاؤن میں زمین بھی خریدی گئ جبکہ 300 ملین کے خطیر رقم سے بیرون ملک سے مشینری بھی درامد کرکے پاکستان کے شہر رحیم یار خان میں پہنچایا گیا ھے۔۔۔

جبکہ باقی مراحل میں ان پلانٹس کی تنصیب کا کام رھتا تھا مگر بد قسمتی سے پی ٹی آیی حکومت نے پلانٹس کو تنصیب کرنے کے بجاۓ ایک مراسلہ بتاریخ 12 جنوری 2021 سوئ ناردن کو گیس پائپ لائن کے منصوبے کو ختم کرنے کیلیے بھیجا۔

معزز عدالت چیف جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس محمد عتیق شاہ پر مشتمل بنچ نے دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت کو ٹنڈز/ نیلامی سے روک دیا اور وفاق سے 25 اکتوبر 2022 تک جواب طلب کی۔ تاکہ جنگلات ۔ جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سہولت پہنچ سکیں۔۔۔

شہزادہ افتخار الدین نے مذید کہا کہ مذکورہ پلانٹس کی تنصیب کیلیے بھی کافی رقم درکار ہونگے۔ جس کیلیے دوبارہ مرکزی حکومت سے رجوع کرنا ہوگا۔ شہزادہ افتخار نے اس بات پر انتہایی افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف پی ٹی آیی حکومت جنگلات کی کٹایی کو روکنے کیلیے واویلا کررہی  ہے تودوسری طرف چترال کے جنگلات کو بچانے کیلیے لگایے جانے والے گیس پلانٹ منصوبے کو ختم کرنے کا حکم دیا ۔ جوانتہایی افسوسناک اور قابل مذمت فعل ہے۔

 


شیئر کریں: