Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایون چتر پل کے قریب بجلی کی پرانی مین ٹرانسمیشن لائن کی تاریں بدستور لٹک رہی ہیں،کسی بھی وقت ایک اور حادثہ کا خدشہ

Posted on
شیئر کریں:

ایون چتر پل کے قریب بجلی کی پرانی مین ٹرانسمیشن لائن کی تاریں بدستور لٹک رہی ہیں،کسی بھی وقت ایک اور حادثہ کا خدشہ

چترال ( محکم الدین ) دو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود واپڈا کی غفلت کا یہ حال ہے ۔ کہ چتر پل کے قریب بجلی کی پرانی مین ٹرانسمیشن لائن کی تاریں بدستور لٹک رہی ہیں ۔ اور انہیں زمین سے بلند کرکے مطلوبہ انچائی تک لے جانے کیلئے پندرہ دن گزرنے کے باوجود کوئی کام نہیں کیا گیاہے ۔ مستہزاد یہ کہ واپڈا اپنی غلطی کا اعتراف کرکے جان بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کی بجائے الزام دوسرے لوگوں پر ڈالنے کی ناکام کو شش کر رہا ہے ۔ اور دوسرے غیر متعلق افراد کے خلاف نوٹس جاری کر تے ہوئے انہیں ہراسان کر رہا ہے ۔نیز یہ کوشش کی جارہی ہے ۔ کہ اپنی واضح غلطی دوسروں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ کیا جائے۔ جبکہ دو نوجوانوں کی ہلاکت واپڈا کی کھلی نا اہلی کی وجہ سے واقع ہوئی ہے ۔

 

واپڈا کی طرف سے مین ٹرانسمیشن لائینوں کو آبادی اور زرعی زمینات میں سے گزارنا ہی سب سے بڑی غلطی ہے ۔ جبکہ مین چترال پشاور روڈ کے ساتھ یہ ٹرانسمیشن لائن بچھائے جا سکتے تھے ۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے۔ کہ دونوں لائنیں اب ایون قصبےکی آبادی کے اوپر سے گزاری گئی ہیں ۔ جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو ہمیشہ بجلی کےنقصانات کا ڈر اور خوف رہتاہے ۔ اس لئےایون کےمقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اب بھی واپڈا ایون کے لوگوں کو مزید جانی نقصانات سے بچانے کیلئے بجلی کے مین ٹرانسمیشن لائن گاوں بروز گنمبد سے سید آباد تک مین روڈ کی طرف سےگذارنے کاا نتظام کرے ۔ عوامی حلقوں نےیہ بھی مطالبہ کیا ہے ۔ کہ چتر پل ائریا میں بجلی سے جھلس کر دو نوجوانوں کی ہلاکت کےبعد اس مقام سے بجری وغیرہ اٹھانے اور گاڑیوں کی نقل و حمل پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ جو کہ مسئلے کا بالکل بھی حل نہیں ہے ۔ بلکہ واپڈا کو بلا تاخیر متاثر شدہ ٹرانسمیشن لائن بلند کرکے انسانی جانوں کو مزید نقصانات سے بچانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: