Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال شہر میں سرکاری گندم نا پید، سبسیڈایزڈ آٹا نیاب، عام شہری ریاستی دورکے ظلم وجبر کو یاد کرنے لگے، ضلعی انتظامیہ تماشائی، منتخب نمائندگان خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں، شہری پریشان

شیئر کریں:

چترال شہر میں سرکاری گندم نا پید، سبسیڈایزڈ آٹا نیاب، عام شہری ریاستی دورکے ظلم وجبر کو یاد کرنے لگے، ضلعی انتظامیہ تماشائی، منتخب نمائندگان خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں، شہری پریشان

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال شہر میں گزشتہ دو مہینوں سے سرکاری گودام میں گندم عام پبلک کیلئے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شہری انتہائی مصائب کا شکار ہیں، خصوصا سفیدپوش شہری بیس کلو آٹا کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، اس صورت حال کو دیکھ کر چترال کے بزرگ شہریوں کا کہناہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک نے ریاستی دورکے ظلم وجبر، قحط سالی اور عشر سسٹم کو دوبارہ زندہ کردیا ہے جہاں غریب عوام دس کلو گندم (یعنی چوربٹی) کیلئے ترستے تھے۔ جس کوذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورہ چترال اور مستوج کے موقع پر ختم کرکے سبسیڈائزڈ گندم کی سپلائی شروع کروادی تھی مگر موجودہ حکمرانوں کو و ہ راس نہیں آیا یامحکمہ خوراک  ضلعی انتظامیہ اور صوبائی متعلقہ حکام کی ملی بھگت سے غریب عوام سے گندم کا دانا چھین کر فلورملز مالکان کو نواز رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گودام سے عام شہری گندم لیکر خود اپنی مرضی سے پیسوائی کرکے اسٹور کرتے تھے مگر اب ضلعی انتظامیہ او بیل مجھے مار کے مصداق ایک نئی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے رکھی ہے اورسرکاری گودام کا سبسیڈائزڈ گندم فلور ملزمالکان سے پیسوائی کرکے بیچ رہی ہے، جس پر عام پبلک یہ کہنے پر حق بجانب ہے کہ محکمہ خوراک سمیت ضلعی انتظامیہ یا تو فلورملزمالکان سے باقاعدہ بھتہ اور کمیشن لے رہی ہے یا عوام کو صوبائی حکومت سے بدظن کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ بصورت دیگر خواہ مخواہ ایک غیر ضروری بوجھ اپنے کندھوں پر لینے کی کوئی تک نہیں بن رہی۔

مختلف مکاتب فکر نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک سفید پوش شہری کو نہ دنین گودام سے سبسیڈائزڈ آٹا مل رہاہے اور نہ کسی موبائل گاڑی سے۔وہ گودام اور چترال بازار کا چکر لگاکر شام کو خالی ہاتھ گھروں کو واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ سب اچھا ہے کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر اگے بھیج رہی ہے، جوہمارے منتخب نمائندوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ جو تمام خواب خرگوش کا مزہ لے رہے ہیں۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مذید ہمارے صبرکا امتحان نہ لے۔ مہربانی کرکے سبسیڈائزڈ گندم سابقہ طریقہ کار کے مطابق عام شہریوں کیلئے دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر چترال کی عوام سڑکوں کو نکلنے پر مجبور ہوگی۔

chitraltimes chitral flour depo goodown atta mills danin grain


شیئر کریں: