Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا نے صوبے کی ترقی کے لئے تقریباً 40 ارب روپے لاگت کے 80 منصوبوں کی منظوری دیدی

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا نے صوبے کی ترقی کے لئے تقریباً 40 ارب روپے لاگت کے 80 منصوبوں کی منظوری دیدی

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبرپختونخوا نے صوبے کی ترقی کے لیے 40 ارب روپے سے زائد کے منصوبوں کی منظوری دیدی یہ منظوری ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ ترقی و منصوبہ سازی خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت پی ڈی ڈبلیو پی کے منعقدہ اجلاس میں دی گئی،

اجلاس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ فورم نے صوبے کی بہتری کے لیے سی اینڈ ڈبلیو، آبپاشی، پبلک ہیلتھ انجینرنگ،صحت، اعلیٰ تعلیم، صنعت اور انرجی اینڈ پاور سے متعلق 80 منصوبوں کی منظوری دی۔

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایات پر پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں ضلع اورکزئی میں زیرہ سے ڈبوری تک 53 کلومیٹر سڑک، ضلع سوات مدین تا کالام سڑک کی تعمیر اور ضلع دیر پائین میدان تا براول ٹنل کی تعمیر کے لئے فیزیبیلٹی اسٹڈی کے منصوبوں کی منظوری دی گئی جن کی تکمیل سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ علاقے کے لوگوں کی سماجی و اقتصادی زندگی پر مثبت اثرات پڑیں گے اور مقامی طور پر بلا تعطل ٹریفک کی روانی اور سفر کے دورانئیے میں کمی آئے گی پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں کلینیکل لیبارٹریز (گریڈ-اے) اور ایکسرے کی سہولیات کا قیام، خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں سپیشل ٹیکنالوجی زون کا قیام اور اس کی فیزیبیلٹی سٹڈی،ضلع سوات مٹہ میں کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کا قیام،ضلع سوات مدین تا کالام سڑک کی تعمیر اور فیزیبیلیٹی اسٹڈی،ضلع دیر پائین میدان تا بروال ٹنل دیر لوئر کی تعمیر کے لیے فیزیبیلیٹی اسٹڈی،پی ایچ سی کے قریب پارکنگ پلازہ کی فیزیبیلٹی سٹڈی، ڈیزائننگ اور تعمیر،تورغر میں یوسی بالکوٹ، شنگل در، بارتونی، ہرنیل، شاتل، جودبہ، منجاکوٹ، پلوسہ، کنڈ آکازئی، میرا مدا خیل شادگ کے مساجد، مدرارس، جنازگاہ اور عید گاہ کی سولرائزیشن جبکہ ضم شدہ اضلاع میں یونین کونسل سطح تک کھیلوں کے میدان کا قیام،دینی مدارس کے طلباء کی صلاحیتوں اور ہنری ترقی پر کام کرنا، لاغر اور چن غز ڈیم سے ضلع کرک کی مختلف یونین کونسلوں تک گریوٹی واٹر سپلائی سکیم کی توسیع،کینسر کے غریب مریضوں کا علاج (فیز II)،چترال اور بنوں میں دارالامان کا قیام،ضلع مردان کاٹلنگ میں سپیشل بچوں کے لیے سکول کا قیام،خیبر پختونخوا بشمول ضم شدہ اضلاع میں مساجد کی سولرائزیشن جیسے اہم منصوبوں کی منظوریاں دی گئیں۔


شیئر کریں: