Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے زیر تعلیم طالب علموں کی 2 سمسٹرز کی فیسیں موخر کر دی ہیں، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد

Posted on
شیئر کریں:

ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے زیر تعلیم طالب علموں کی 2 سمسٹرز کی فیسیں موخر کر دی ہیں، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے زیر تعلیم طالب علموں کی 2 سمسٹرز کی فیسیں موخر کر دی گئی ہیں، اس سلسلے میں حکومت متاثرہ طالب علموں کی دادرسی کے لیے پروگرام کا آغاز کرے گی،ڈی وی ایم سے متعلق جامعات کے طالب علم سیلاب زدہ علاقوں میں لائیو سٹاک کے تحفظ کے لیے معاونت فراہم کریں گے،تمام جامعات کے لیے 10 سے 15 فیصد بجٹ فاصلاتی نظام تعلیم کے لیے مختص کرنا لازم قرار دے دیا ہے۔جمعہ سرکاری خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ ملک میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے تعلیم کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے،ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے زیر تعلیم طالب علموں کی 2 سمسٹرز کی فیسیں موخر کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت متاثرہ طالب علموں کی دادرسی کے لیے پروگرام کا آغاز کرے گی، ڈی وی ایم سے متعلق جامعات کے طالب علم سیلاب ذدہ علاقوں میں لائیو اسٹاک کے تحفظ کے لیے معاونت فراہم کریں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ دنیا فاصلاتی نظام تعلیم پر منتقل ہورہی ہے،کورونا کے دوران سمارٹ کلاس رومز اور ٹیکنالوجی نے تعلیم کے سلسلے کو نئے انداز میں جاری رکھنے میں بہت معاونت کی، انہوں نے کہا کہ ہم نے ابتدائی طور پر تمام جامعات کے لیے 10 سے 15 فیصد بجٹ فاصلاتی نظام تعلیم کے لیے مختص کرنا لازم قرار دے دیا ہے،اس سلسلے میں ایچ ای سی نے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی قائم کی ہے، فاصلاتی نظام تعلیم کے بجٹ کو ہر جامعہ کے لیے 50 فیصد تک لے کر جائیں گے، انہوں نے کہا کہ جامعات کے معاشی مسائل سے آگاہ ہیں ہائیرایجوکیشن کمیشن میں مالیاتی ماہر کی تقرری کررہے ہیں جو نہ صرف جامعات کی ضروریات اور اخراجات کا تخمینہ لگائے گا بلکہ جامعات سے کرپشن کے خاتمے میں بھی معاونت فراہم کرے گا،جامعات کو بجٹ فنانشل ایکسپرٹ کی سفارشات پر دیا جائے گا، ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ معذور طلبا اور اساتذہ کے 2 فیصد کوٹے سے متعلق پالیسی پر سختی سے عمل کررہے ہیں، معذور طلبا کو ٹیوشن فیس اور ہاسٹل فیس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے اور انہیں وہیل چیئرز، علیحدہ واش رومز کی سہولیات فراہم کررہے ہیں جبکہ ان کے لیے سکالرشپس کا اجرا بھی کردیا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہاکہ چونکہ دنیا جدید ٹیکنالوجی پر منتقل ہورہی ہے اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ایئر یونیورسٹی، نسٹ یونیورسٹی، یو ای ٹی سمیت بیشتر جامعات میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سائبر سیکیورٹی سے متعلق پروگرام شروع کردیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی جامعات سے تعاون اور طلبا کی سہولت کے لیے ایچ ای سی میں گلوبل انگیجمنٹ کا شعبہ قائم کردیا گیا ہے،ہم چاہتے ہیں عالمی معیار کی ہماری ان جامعات کی شاخیں دیگر ممالک میں بھی ہوں،انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں تعاون کے لیے آئندہ ماہ جاپان کا وفد پاکستان آرہا ہے، ہمارے طلبا بین الاقوامی جامعات میں بھی تعلیم حاصل کریں گے، جامعات سے الحاق شدہ کالجز کے معیار کے حوالے سے چیئرمین ایچ ای سی نے کہا پاکستان میں 5 ہزار کالجز مختلف جامعات سے الحاق شدہ ہیں مگر ان کے معیار پر ماضی میں سمجھوتہ کیا گیا۔ایچ ای سی نے اس سے متعلق پالیسی وضع کر لی ہے جو کالج معیار پر پورا نہیں اترے گا اسے بند کردیں گے،

 

انہوں نے کہا کہ اعلی تعلیم کے میدان میں بعض ایشیائی ممالک ہم سے بہت آگے چلے گئے ہیں، ہم کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان میں بھی اعلیٰ تعلیم کو مزید فروغ دیا جائے مگر معیار پر سمجھوتا نہیں کریں گے،ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہماری بھرپور توجہ رینکنگ نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط کرنے پر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے کئی دہائیاں تعلیم کو دیں ہمیں بھی کچھ وقت چاہیے، ڈاکٹر مختار احمد نے ہنرمند بنانے والی جامعات پر زور دیا کہ وہ اپنی پوری توجہ سکلز ایجوکیشن پر مرکوز رکھیں، ملک میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے ایچ ای سی نیپرا کے ساتھ مل کر نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل کا حل نکالے گا، موجودہ معاشی اور صنعتوں کی صورتحال کے پیش نظر ایچ ای سی ایک کنسورشیم بنا رہا ہے۔تعلیم کے شعبے میں سرقہ کے مسئلہ سے متعلق سوال پر ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ادبی و تعلیمی سرقہ ایک ذہنیت ہے’پہلے لوگ ایک دوسرے کے خلاف شکایات اور جھوٹے الزامات لگاتے تھے اب سسٹم بنا دیا ہے جو جھوٹی شکایت لگائے گا اس کو بھی بلیک لسٹ کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ اپنی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایچ ای سی نے اپنا ایک نظام بھی وضع کیا ہے، چیئرمین ایچ ای سی نے دور دراز علاقوں میں جدید تعلیمی اداروں کی کمی کے پیش نظر وہاں اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے بنانے پر بھی زور دیا۔

 


شیئر کریں: