Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

این ایف آر سی سی نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات،متاثرین کی امداد اور بحالی کے حوالے سے اعدادوشمار جاری کر دیئے

Posted on
شیئر کریں:

این ایف آر سی سی نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات،متاثرین کی امداد اور بحالی کے حوالے سے اعدادوشمار جاری کر دیئے

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی)نے ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات، متاثرین کی امداد اور بحالی کے حوالے سے اعدادوشمار جاری کئے ہیں۔ اتوار کو این ایف آر سی سی کی رپورٹ کے مطابق بنیادی ڈھانچے اور نجی املاک کے نقصان کے اعدادوشمار کے تحت 13074کلو میٹر سڑکوں اور 392 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، سیلاب سے سندھ کے قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیر پور، دادو، نوشہروفیروز، ٹھٹھہ اور بدین جبکہ بلوچستان میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھل مگسی، بولان، صحبت پور اور لسبیلا شدید متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے اضلاع دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت پنجاب کے ڈی جی خان اور راجن پور کے اضلاع بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔پاک فوج کی جانب سے امدادی اور فضائی معاونت کے حوالہ سے جاری رپورٹ کے مطابق اب تک آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز نے619 مختلف پروازوں کے ذریعے سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ایک پرواز کے ذریعے سیلاب سے نکالنے کے علاوہ متاثرین کیلئے دو ٹن امدادی ایشیا کی ترسیل بھی کی گئی ہے۔

 

مزید برآں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4659افرادکو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔اسی طرح پاک فوج کی جانب سے اب تک 147ریلیف کمیپ جبکہ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں متاثرین کیلئے امدادی سامان موصول کرنے کیلئے 237 مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ عطیات کے حوالہ سے جاری تفصیلات کے مطابق اب تک 10309.0 ٹن غذائی اشیا کے ساتھ ساتھ10309.0 ٹن راشن اور 10184230 اقسام کی ادویات بھی جمع کی گئی ہیں۔ میڈیکل ریلیف کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات کے تحت اب تک ملک بھر میں 300میڈیکل کیمپس قائم کئے جا چکے ہیں جہاں پر 566,089 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے اور انکو 3تا5دن کی ادویات مفت فراہم کی گئی ہیں۔پاکستان نیوی کی ریلیف اور یسکیوکی کاوشوں کے تحت پاک بحریہ نے ملک کے مختلف حصوں میں 4فلڈریلیف مراکز اور امدادی سامان وصول کرنے والے 18مراکز قائم کئے ہیں۔ پاک نیوی کے مختلف اضلاع میں قائم کولیکشن سینٹرز سے 1,758 ٹن راشن، 6,407 خیمے اور 727,848 منرل واٹر کی بوتلیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔

 

اس کے علاوہ قمبر شہداد کوٹ، دادو، بھان سید آباد، سکھر اور سجاول میں 19 ا ٹینٹ سٹی بھی قائم کیے گئے ہیں۔ جس میں 25,097 اہلکاروں کو جگہ دی گئی ہے اور ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ مزید برآں پورے پاکستان میں تعینات 23 ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے اب تک 15565پھنسے ہوئے اہلکاروں کو بچایا ہے۔ یہ 54 موٹرائزڈ بوٹس اور دوہوور کرافٹ سے لیس ہیں۔ سندھ میں دوہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے ہیں، اب تک، 70 بار ان ہیلی کاپٹرز نے 478 بار پھنسے ہوئے لوگوں کو بچایا ہے اور راشن کے 5258 پیکٹ تقسیم کیے ہیں۔پاک بحریہ کی 08 ڈائیونگ ٹیموں نے پاکستان بھر میں متاثرہ علاقوں میں 27 ڈائیونگ آپریشنز بھی کیے ہیں۔ اب تک 82 میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا ہے جس میں 89,989 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔۔ اسی طرح پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 6415 خیمے، 537081 فوڈ پیکجز، 3389.26 ٹن راشن، 285358 لیٹر تازہ پانی فراہم کیا ہے۔مزید یہ کہ پی اے ایف نے 46 میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں جہاں اب تک 70608 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ ملک بھر میں 19807 افراد کی رہائش کے لیے 20 ٹینٹ سٹی، 54 ریلیف کیمپ اور 03 سنٹرل ایوی ایشن ہب بھی قائم کیے گئے ہیں۔ پی اے ایف نے 260 پروازیں کیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 1521 افراد کو نکالا۔

 

 

پاکستان کو شدید موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
اللہ کی مدد سے اپنی حیثیت کے اس وقت ہم سب کی اولین ترجیح صحت کے اس بحران سے نمٹنا ہے جو سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں زور پکڑ رہا ہے اور وہاں وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں

senator mumtaz zehri

حب (سی ایم لنکس) فوکل پرسن برائے سیلاب زدگان امداد بلوچستان سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا ہے، قدرتی آفت کے شکار ملک کو مدد کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا زیادہ تر حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے جبکہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ بلوچستان کو سیلاب کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان کو مدد کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حب کے نواح میں اندرون بلوچستان سے آئے ہوئے سیلاب متاثرین میں راشن بیگز، مچھر دانیا ں، پینے کا صاف پانی، کپڑے،دودھ، بچوں کی کھانے پینے کی اشیاء سمیت ضرورت کی دیگر اشیاء کی تقسیم کے موقع پر کیا۔انہوں نے متاثرین کو یقین دلایا کہ وہ سب ہمارے بہن بھائی ہیں اور ان کی امداد اور بحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 0.4 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالا ہے اس کے باوجود یہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ دس ممالک میں شامل ہے۔

 

موسمیاتی تبدیلی کے باعث حالیہ سیلاب سے 1400 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔33 ملین لوگ موسمیاتی پناہ گزینوں کے طور پر بے گھر ہوئے جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ حاملہ خواتین تھیں۔ چالیس لاکھ ایکڑ فصل تباہ ہوئی۔پاکستان کو ایک بے مثال قدرتی آفت کا سامنا تھا۔ موسمیاتی تبدیلی دنیا خاص کر پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور ان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرت کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو آگے آنا ہو گا۔ موسمیاتی تبدیلیاں عالمی دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عالمی برادری کو ملکر کام کرنا ہوگا۔دریں اثناء سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری حب کے نواح اور دور دراز علاقوں میں اندرون بلوچستان سے آئے ہوئے سیلاب زدگان کی بستیوں میں پہنچیں جہاں 500 سے زائد خاندانوں میں راشن بیگز، مچھر دانیاں، پینے کا صاف پانی،کپڑے، دودھ، بچوں کی کھانے پینے کی اشیاء سمیت ضرورت کی دیگر اشیاء تقسیم کیں۔انہوں نے حبیب بینک، پاک آرمی، ایف سی ا ور دیگر اداروں کا شکریہ اداکیا جنہوں نے ہماری پکار پر ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور سیلاب زدگان کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔متاثرین نے میڈیا کو بتایا کہ ہم اپنا گھر بار، مال مویشی اور فصلیں تباہ ہونے کے بعد یہاں پہنچے ہیں اور اب تک کسی نے ہماری داد رسی نہیں کی تھی۔

 

سینیٹر صاحبہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے ہماری داد رسی کی اور ذاتی طور پر ہمیں کھانے پینے کی اشیاء سمیت مچھر دانیاں،ہمارے بچوں کو دودھ اور دیگر ضروری اشیاء پہنچائیں جس کے لئے ہم ان کے مشکور ہیں جنہوں نے ہم تباہ حال لوگوں کی داد رسی کی۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ہم اپنی حیثیت کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار اپنے بہن بھائیوں کی جتنی بھی مدد کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔ان لوگوں کی مدد ہم سب پر فرض ہے۔۔اس سے پہلے بھی ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا ہے اورہم سے جتنا بھی ہو سکا سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کی مدد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں غذائی قلت، وبائی امراض سیلاب سے زیادہ ہلاکت خیز ہو سکتے ہیں جس کے لئے ہنگامی طور پر موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے سیلاب کے بعد دیگر آفات سے وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ طور پر سیلاب پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور غذائی قلت کے باعث سیلاب سے زیادہ مہلک ثابت ہوسکتی ہیں۔ خواتین اور بچوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا ہے جن کے حل کیلئے ہم ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کی سنگینی کو نظر انداز کیا گیا تو ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور اسہا ل جیسی بیماریوں کیساتھ غذائی قلت کی وجہ سے ہونیوالی اموات سیلاب سے ہونیوالی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہوہو سکتی ہے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کو آگے آنا ہوگااور پاکستان کے لئے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے مطلوبہ امدادکا ہدف پورا کرنا ہوگاتاکہ یہاں کوئی انسانی المیہ جنم نہ لے سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کی اولین ترجیح صحت کے اس بحران سے نمٹنا ہے جو سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں زور پکڑ رہا ہے اور وہاں وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس موقع پر صاحب حیثیت افراد اور اداروں سے ایک بار پھر اپیل کی کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لئے آگے آئیں اور دل کھول کر اُ ن کی داد رسی کریں۔ ہمارے بہن بھائی اس وقت جس مصیبت میں ہیں ایسے میں آپ کی مدد ان کے لئے بہت بڑی نعمت ہوگی۔

 


شیئر کریں: