Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال شندور روڈ اور چترال کالاش ویلی روڈ پر تعمیراتی کام اگر دوبارہ بند ہوا تو اسکے خلاف زبردست احتجاج کریں گے۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ 

شیئر کریں:

چترال شندور روڈ اور چترال کالاش ویلی روڈ پر تعمیراتی کام اگر دوبارہ بند ہوا تو اسکے خلاف زبردست احتجاج کریں گے۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)چترال کے مختلف مکاتب فکر نے اس بات پر انتہائی تشویش کا اظہارکیا ہے کہ ایک ٹیم چترال کالاش ویلی اور چترال شندورروڈ کی انکوائری کیلئے چترال آرہی ہے، ان سڑکوں کی انکوائری کے حوالے سے مختلف خبریں چترال میں گردشی کررہی ہیں کہ نیب یا دوسرے ادارے کی  ٹیم کی انکوائری کی صورت میں تعمیراتی کام انکوائری مکمل ہونے تک روک د یا جائیگا۔ جوکہ علاقے کیلئے کسی صورت نیک شگون نہیں ہے، جبکہ اس سے پہلے بھی بونی مستوج روڈ اور بونی تورکہو روڈ پر انکوائری کی آڑ میں کئی برسوں تک تعمیراتی کام بند رہی۔ اور علاقے کے عوام کو انتہائی کوفت اور اذیت سے گزرنا پڑا۔

 

waqas ahmad
چترال ڈویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے چیئرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہاہے کہ سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے معیار اور مقدار کو جانچنے کیلئے متعلقہ ادارہ اور کنسلٹنٹ کے علاوہ ضلعی انتظامیہ موجود ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کام کی کوالٹی کیلئے طریقہ کار وضع کرے۔ اور ٹھیکہ دار سے معیار کے مطابق کام لے۔ تاکہ  سیاحتی اور دفاعی لحاظ سے اہمیت کے حامل یہ سڑکیں معیارکے مطابق تعمیر ہو۔ چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا کہ نیب یا کسی دوسرے ادارے کی ٹیم اگر انکوائری کیلئے چترال آجاتی ہے تو وہ چترال اور چترال کے عوام کی حق میں بالکل بھی نہیں ہے انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس مبینہ طور پر ان سڑکوں کی تعمیر کیلئے فنڈز نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ تعمیراتی کام بند کروانے کیلئے حکومت مختلف بہانہ ڈھونڈ رہی ہے۔جس کے خلاف ہم پرزور مذاحمت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے تورکہو روڈ پرانکوائری کی وجہ سے چھ سال کام بند ہوا، اور مستوج روڈ پر بھی دو دہائی تک کا م نہیں ہوا۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ نے حکومت اور نیب کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ انکوائری کے بہانے چترال کی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈالا جائے۔ اگر حکومت اور نیب یا کویی دوسرا ادارہ  بہ ضد رہی تو ان کے خلاف چترال میں زبردست احتجاج کیا جائیگا۔جبکہ عوام میں انتہایی اشتعال پایا جاتا ہے۔اس صورت حال میں عوامی احتجاجی کو روکنا انتظامیہ کیلیے ممکن نہیں رہےگی۔

یادرہے کہ جنرل پرویز مشرف نے شندور کے مقام پر بونی مستوج روڈ اور مستوج پل کیلیے فنڈز منظور کیے تھے اوربونی مستوج روڈ پر کام شروع ہوا تھا اور اس وقت 48کروڑ روپے اس کیلیے ریلیز بھی ہوچکے تھے اور بعد میں شہزادہ محی الدین کی درخواست پر صدر آصف علی زرداری نے بونی تورکہو روڈ کیلیے فنڈز منظور کیے تھے۔ مگر بدقسمتی سے دونوں سڑکوں پر کرپشن کے الزام میں ادارہ اور ٹھیکہ داروں کو مختلف انکوایریز کا سامنا کرنا پڑا،اور کئی برسوں تک انکوائری میں رہے ، ترقیاتی کام بند ہوگئے۔ پرواک کے مقام پر پہنچائے گئے ترکول وہیں پہ چوری یا خراب ہوگئے ، اخرکار سابق ایم این اے شہزادہ افتخار نے ڈھائی سال جدوجہد کرکے وہ انکوائری ختم کرائے تب جاکے ان منصوبوں کیلئے دوبارہ فنڈز منظور ہوئے۔ اب چونکہ موجودہ سڑکوں کواور بھی کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے اس صورتحال میں اگر کام بند ہوا تو عوام انتہایی مصایب کا شکار ہوگی۔ صرف متعلقہ ادارہ اور ٹھیکہ دار کو فائدہ ہوگا جس طرح پہلی انکوائری کے بعد عدالت کے زریعے ٹھیکہ دار وں نے اپنے منافع سمیت تمام بقایا جات وصول کیے۔


شیئر کریں: