Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان – ”زندگی کس طرح گزاری جاۓ“- محمد جاویدحیات

Posted on
شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان – ” زندگی کس طرح گزاری جاۓ “- محمد جاویدحیات

آج نویں جماعت میں میری نٸ کلاس لگی ۔۔مضمون مطالعہ پاکستان کا تھا کلاس نٸ تھی ۔۔بچے تعزیما اٹھے کھڑے ہوۓ میں نے بیٹھنے کو کہا ۔۔تعارف ہوا ۔کتاب پکڑا دی گٸ باب بتا دی گٸ دوسرا باب اب شروع کرنا ہے ۔میں نے پہلا باب اٹھایا ۔۔مختصرتاریخ ۔۔۔یہ لو علامہ اقبال کی تصویر ۔۔یہ سر سید احمد خان ۔۔۔یہ جد و جہد آزادی ۔۔۔یہ نظریہ پاکستان۔۔۔میں نے کہا بیٹا ۔۔۔یہ نظریہ کیا چیز ہے ۔چونکہ کتاب انگریزی میں ہے ۔۔۔بڑا کرکے  Ideology لکھا ہے ۔۔۔بچے آین باٸین شاٸین کرنے لگے ۔۔۔میں نے ایک سے پوچھا چلیں ۔۔idea کسے کہتے ہیں ؟ بات تھوڑی سی آسان لگی ۔۔ایڈیا سے ایڈیالوجی تک آۓ ۔۔بچے مجھے تکنے لگے سراپا سوال بن گۓ ۔۔۔سر جی ہمیں اپنے اردگرد گردایسا کوٸی نظریہ کوٸی ایڈیالوجی کوٸی نصب العین نظر نہیں آتا۔۔کیا ہم آپنے آپ کو اپنے اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں ہم تو ترقی کرنے نکلے تھے ہم تو انصاف کا پجاری بن کےنکلے تھے ہم تو دین کا لبادہ اوڑھے نکلے تھے ہم تو بد عنوانی کو لاتے مارنے نکلے تھے

 

ہم تو ایک دوسرے کا احترام کرنے نکلے تھے ۔۔یہ کیا ہوا ۔۔یہ تو سیاسی اکھاڑہ ہے ۔۔یہ تو کرپشن کا گڑھ ہے یہ تو نفرت کا اڈیٹوریم ہے یہ تو سست رویہ کا سنیٹوریم ہے یہاں پہ قوم ہچکیاں لے رہی ہے ۔۔یہ بھیکاریوں کا جھتا ہے یہ قوم تھوڑی ہے ۔۔سر آخر وہ نظریہ وہ عزم عالیشان ۔۔۔۔وہ مرکز یقین ۔۔۔۔وہ پاک سر زمین کا نظام ۔۔۔۔۔سر پلیز ہمیں کچھ سمجھاٸیں ۔۔میں نے بیٹا ۔۔۔زندگی اگر ” گزاری “ جاۓ تو اس طرح ہوتا ہے ۔۔زندگی اگر ”لڑی“ جاۓتو اس طرح نہیں ہوتا ۔۔ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ہم ”تن بہ تقدیر “ ہیں ہم لڑنے سے ڈرتے ہیں ہم جد و جہد سے نابلد ہیں ۔۔۔ہمارے سامنے ہمارے ملک کے ساتھ دودو ہاتھ ہوتا ہے ہم خاموش ہیں ہمارے سامنے اس کو لوٹا جاتا ہے ہم خاموش ہیں ہمارے سامنے انصاف کا قتل ہوتا ہے ہم خاموش ہیں ہمارے سامنے ملک کی ساکھ داٶپہ لگایا جاتا ہے ہم خاموش ہیں ۔۔ہمیں اللہ نے اپنی رحمتوں سے نوازا ہے ہم محسوس نہیں کرتے ۔دنیا والے پانی کو ترس رہے ہیں ہمیں اللہ نےسمندر اور دریا دیۓ ہیں ۔

 

دنیا والے خوبصورت موسموں کی آرزو کرتے ہیں ہمیں اللہ نے خوبصورت موسموں کی دولت دی ہے ۔ہمارے پاس معدانیات ہیں ہمارے پاس پہاڑ ہیں ہمارے پاس زرعی زمینیں ہیں ہمارے پاس درخت ہیں جنگلات ہیں ہمارے پاس پھول سبزیاں ہیں ۔ہمارے پاس افرادی قوت ہے ۔لیکن ہمارے پاس ہمت، طاقت ، جذبہ اور صداقت نہیں ۔۔ہمارے لایق فایق بیٹے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد ایک بد عنوان آفیسر بن جاتے ہیں ۔۔ہمارے کاروباری لوگ کارخانے لگانے کے بعد دو نمبر کی چیز بنا ڈالتے ہیں ۔۔ہمارے دوا ساز زہر تیار کرتے ہیں ہمارے مسیحاوں کو دولت کی تجوریاں بھرنے کی فکر ہے انسانی جانوں کی کوٸی فکر نہیں ہمارے اساتذہ خام مال پیدا کرتے ہیں تعلیم یافتہ تربیت یافتہ اور سچی کھری قوم تیار کرنے کی ان کو کوٸی فکر نہیں ۔۔

 

میرے بچو ! یہ المیے ہیں ان سے مت ڈرو ۔۔۔زندگی مت گزارو زندگی سے لڑو ۔۔صداقت کے راستے کھٹن ہیں دیانت کی وادی پر خار ہے سچاٸی کی دھاٸی قربانی مانگتی ہے ۔زندہ قومیں لڑتی ہیں ۔۔ان کا وقت ضائعٕ نہیں جاتا ۔۔چند لاکھ افراد جو اسراٸیلی قوم کہلاتی ہے روز دنیا کو نٸ دریافت نٸ ایجاد دے ڈالتی ہے ۔۔چند کروڑ جاپانی دنیا کو مالا مال کرچکے ہیں انسانیت ان کا ممنون ہے ۔۔کیا وہ زندگی گزارتے ہیں ؟ نہیں وہ لڑتے ہیں ۔وہ دن رات محنت کرتے ہیں وہ تھکتے نہیں ان کے پاس عیاشیوں کے لۓ وقت نہیں ہوتا ۔وہ وقت کو قیمتی بناتے ہیں ان کا ہر ہر فرد پوری قوم کے لۓ زندہ ہے ۔زندگی ان کی طرح گزاری جاۓ تووہ زندگی ہے ۔۔ہم مردے ہیں مردوں کا نہ کوٸی نظریہ ہوتا ہے نہ وژن ہوتی ہے نہ مشن ہوتا ہے نہ منزل ہوتی ہے ۔۔میرے بچو زندگی سے لڑنا سیکھو ۔۔بھوک، پیاس ، غربت تمہیں شکست نہ دیں ۔محنت اورصداقت میں کامیابی ہے ۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا شجاعت کا
لیا جاۓ گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا


شیئر کریں: