Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کوراغ سے تعلق رکھنے والا نوجوان مستنصر احمد قتل کے مقدمہ سے بری، ہائیکورٹ کے جج نے رہایی کا حکم دیدیا

Posted on
شیئر کریں:

کوراغ سے تعلق رکھنے والا نوجوان مستنصر احمد قتل کے مقدمہ سے بری، ہائیکورٹ کے جج نے رہایی کا حکم دیدیا

سوات ( نمایندہ چترال ٹایمز ) چھ سال قبل 2016ء میں اپر چترال کے کوراغ میں ایک نوعمر طالب علم بہادر اللہ کی قتل کے کیس میں پشاور ہائیکورٹ کے دارالقضاء سوات کے جج ڈاکٹر خورشید اقبال نے ایک شارٹ آرڈر میںض ایڈیشنل سیشن جج اپر چترال کے 27 اکتوبر 2021ء کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مستنصر احمد کو الزام سے بری کردیا۔ اور انھیں جیل سے رہایی کا حکم دیا ہے۔ یہ ایف آئی آر پولیس اسٹیشن بونی میں درج ہوا تھا ۔ اپیل کنندہ کی طرف سے عبدالولی خان ایڈوکیٹ اور گوہر علی خان ایڈوکیٹ جبکہ ریاست کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رضاء الدین اور شکایت کنندہ کی طرف سے جاوید علی خان ایڈوکیٹ اور فرید احمدایڈوکیٹ پیش ہوئے۔یادرہے کہ مستنصر احمد گزشتہ کیی برسوں سے مردان کے جیل میں قید ہے۔


شیئر کریں: