Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سرکاری ملازمت اور اس کے تقاضے – تحریر: ذیشان پنجوانی

Posted on
شیئر کریں:

سرکاری ملازمت اور اس کے تقاضے – تحریر: ذیشان پنجوانی

ملک پاکستان میں آبادی 2020 کے سروے کے مطابق 22 کڑوڑ پر پہنچ چکی ہے اور ملک میں بسنے والے باشندے اپنے روزگار کے حوالے سے ملازمت او رکاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔
بالغ ہوتے ہی اور عمر کے سولہویں یا سترہویں سال میں میٹرک کی بنیادی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک اچھی سند اور ڈگری حاصل کرنے کی تگ ودو میں لڑکے اور لڑکیاں کالج یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں اکثر وبیشتر علم حاصل کرنے کے بجائے اپنے سنہرے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے اسرار ورموز سیکھنے میں چھ سے آٹھ سمسٹر پڑھنے لکھنے میں گزاردیتے ہیں۔
کچھ مالی آسودگی کے حامل لڑکے لڑکیاں صرف پڑھنے اور ڈگری کو اچھے نمبرات سے پاس کرنے کی غرض سے ہی پوری تگ ودو کرتے ہیں اور اسی طبقے کے کچھ افراد موج ومستی میں یہ کالج یونیورسٹی کا وقت گزاردیتے ہیں اس سوچ سے کہ بس ایک ڈگری نما کاغذ کا ٹکڑا مل جائے اور جس کو وہ دنیا کے سامنے فخر سے اپنی (CV) سی وی کی زینت بناسکیں کیونکہ ان کا بیک گراؤنڈ مالی طور پر اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ انہیں روزگار کے حوالے سے کسی نئی جہت سے شروعات کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ان طلباء میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے والدین سرکاری ملازمت سے وابستہ ہوتے ہیں اور سرکاری ملازمت میں کام کی آسانی اور پنشن سے وابستہ فوائد کی غرض سے ان والدین کی چاہت ہوتی ہے کہ ان کے بچے بھی ڈگری حاصل کرکے کسی اچھی سرکاری ملازمت پر لگ جائیں اور اکثر وبیشتر کی تو یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اس پوسٹ پر لگ جائیں جس پوسٹ کے افسر کے زیر نگرانی ان والدین نے سرکاری ملازمت میں اپنے پچیس سے پینتیس سال صرف کئے تاکہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے (Colleagues)کولیگس کو فخر سے بتاسکیں کہ دیکھو میرا بیٹا آج افسر لگ گیا ہے۔
یہ زندگی اسی ڈگر پر صرف ملک پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر اس ملک میں جاری وساری رہتی ہے جہاں جمہوریت نامی طرزسیاست کی شکل میں یا کسی اور طرز سیاست کی شکل میں ملک کا کاروبار ایک خاص میکنزم کے تحت چل رہا ہوتا ہے، جہاں مختلف وزارتوں کی صورت میں ادارے بنے ہوتے ہیں اور ہرادارے کی اپنی ایک (Hierarchy)ہیرارکی ہوتی ہے جس میں نائب قاصد سے لے کر اکیس گریڈ کے افسران تک لوگ اپنا وقت اور صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ سرکاری اداروں سے متعلقہ کام احسن طریقے سے بخوبی انجام پاسکیں۔
ملازمت کی تگ ودو میں پرائیوٹ نوکری کرنے والے افراد آج میرے اس آرٹیکل کا موضوع نہیں بلکہ عنوان سے آپ کو یہ واضح ہوچکا ہوگا کہ ملازمت کی تگ ودو سے وابستہ سرکاری ملازمت کے حامل افراد آج ہماری اس مجلس کا بنیادی موضوع ہے۔
سرکاری ملازمت ہے کیا ؟
1973 کے آئین کے مطابق ملک پاکستان کے نظم کو چلانے کے لئے صدر پاکستان نے تمام امور کو چلانا ہوتا ہے مگر ایک اکیلا آدمی یہ سب کچھ نہیں کرسکتا اس لئے وہ پارلیمنٹ کی منظوری اور مشاورت سے مختلف وزارتوں کو اپنے کام کے اختیارات سونپتا ہے اور وزارتوں کے وزیر پڑھے لکھے ہوں یا نہ ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہاں مگر ان وزیروں کے ماتحت کام کرنے والی فوج میں نائب قاصد سے لے کر سیکریٹری لیول تک کاکام کرنے والے ضرور پڑھے لکھے ہونے چاہئے اور ان پڑھے لکھے لوگوں کا کیا معیار ہونا چاہئے ؟وہ ہر وزارت کے مینول میں اور ہروزات کے تحت مختلف اداروں کے مینول میں باقاعدہ تفصیل سے لکھا ہوتا ہے اور اسی کے مطابق لوگ سرکاری ملازمت میں آتے ہیں اور اپنا دورانیہ ملازمت پورا کرکے ریٹائر ہوجاتے ہیں اور کاروبارِ ملکِ پاکستان اسی طرح جاری وساری رہتا ہے۔
سرکاری ملازمت کی لالچ
اکثر وبیشتر ہم نجی ملازمت کرنے والے لوگوں کے گلے شکوے سنتے ہیں کہ وہ ملازمت کے حوالے سے صبح طے شدہ وقت پر کام کے لئے نکل جاتے ہیں مگر واپسی کا وقت طے نہیں ہوتا اس لئے کہ ملک پاکستان میں نجی ملازمت سے وابستہ ادارے سیٹھ صاحب کے زیر اثر چلتے ہیں اور نوے فیصد سیٹھ حضرات جن کی صبح صبح کے گیارہ بجے سے دوپہر کے تین بجے تک ہوتی ہے اور وہ بالترتیب اپنی دکان یا آفس میں دوپہر بارہ بجے سے چار بجے تک براجمان ہوتے ہیں اور صبح سے آئے ہوئے ملازموں سے ان کی کارگزاری لے کر ان کو زبانی جزا وسزا کا انتظام کرتے کرتے ان کی شام کے پانچ یا چھ یونہی بج جاتے ہیں اور اگر کوئی سیٹھ صاحب کا رشتہ دار یا دوست آگیا ان کی دکان یا آفس میں تو پھر رات نو بجے سے پہلے گھر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس طرح نجی ملازمت سے وابستہ افراد کی صبح سے لے کر رات تک کی زندگی اس سیٹھ صاحب کے لئے قربان ہوجاتی ہے اور رہی اس کی فیملی، وہ بیچاری نوکری سے برخواست نہ کئے جانے کے ڈر سے اپنے اس فیملی ٹائم کی قربانی کو کڑوے گھونٹ کے ساتھ برداشت کرلیتے ہیں۔
مگر سرکاری ملازم اس کی بنسبت مزے میں ہوتا ہے کیونکہ کوئی سیٹھ صاحب ان کی جان پر سوار نہیں ہوتا بلکہ سولہ یا سترہ سے اکیس گریڈ  کا نیم سیٹھ سرکاری افسر ان کا نگران اور سرپرست ہوتا ہے جو خود بھی سرکاری نوکری اس لئے کررہا ہوتا ہے کہ جو مزے سرکار کے مال کو اڑانے میں ہے وہ کسی سیٹھ صاحب کے مال کو اڑانے میں کہاں ؟
اب ماتحت سرکاری ملازم اگر چاپلوس قسم کا ہو تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو افسر اس کے اوپر افسری کے لئے مقرر ہوا ہے،  تو اس کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کے دفتر اور ذاتی کام بخوبی دلچسپی سے کر کے اس کے دل میں اپنا اتنا مقام بنالے کہ وہ افسر اپنے اس ماتحت کے کام چوری کرنے، وقت پر نہ آنے اور جلدی چلے جانے کی عادات کو خوش دلی سے قبول کرے اور اپنے من چاہے ماتحت کا کام اپنے اس دوسرے ماتحت سے کراوتے  رہے جو ان کا من پسند نہ ہو۔
اور یہ روش اسی طرح جب جاری وساری رہتی ہے تو اداروں کی صورتحال یہ ہوجاتی ہے کہ آپ جب اس ادارے سے وابستہ اپنے ذاتی کام کے حوالے سے وہاں جانے کی زحمت کرتے ہیں اور آپ خدانخواستہ خود نجی ملازمت سے وابستہ فرد ہیں تو آپ کو اپنے اس جائز کام کے لئے پہلے سیٹھ صاحب کو چھٹی لینے پر راضی کرنا ہوتا ہے جو بمشکل ہی راضی ہوتا ہے کیونکہ کام آپ کا اپنا ہے اس سیٹھ صاحب کا تو نہیں اور نہ اس کی فیملی کا تو پھر وہ آپ کو کیوں چھٹی دے۔؟ بالفرض اب آپ کو چھٹی اس شرط کے ساتھ مل بھی گئی کہ سرکاری ادارے سے وابستہ کام جلد از جلد پورا کرکے ڈیوٹی پر آجانا تو اب یہ صاحب ٹھیک صبح پونے نو بجے اور موجودہ سرکاری دفاتر کے اوقات کے مطابق پونے آٹھ بجے اس ادارے کے استقبالیہ پر براجمان ہوجاتے ہیں اپنے ناشتے کی قربانی دے کر یا بچوں کو اسکول چھوڑنے کی ذمہ داری کی قربانی دے کر ۔
مگر اس فرد نے جس سے اپنا کام کروانا ہے وہ ٹھہرا سرکاری ملازم اور وہ اپنے بڑے افسر کا چاپلوس نما سرکاری ملازم جس کی صبح اپنے گھر میں  آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے ہوتی ہے اور صاحب بہادر کو دفتر پہنچتے پہنچتے دس بج جاتے ہیں۔ اب اس فرد کو جب پتہ لگتا ہے کہ صاحب بہادر دو گھنٹے بعد آئیں گے حسب معمول، تو یہ بیچارہ اپنے سیٹھ کی ڈانٹ سے بچنے کے لئے آج یہ سرکار سے متعلقہ کام ٹال کر بھاگم بھاگ اپنے دفتر چلے جاتا ہے اور اگلے دن یا اگلے ہفتے کا کوئی دن متعین کرتا ہے اپنے اس کام کے حوالے سے اور طے کرتا ہے کہ کیوں نہ دفتر سے جلدی چھٹی لے کر یہاں آیا جائے تاکہ کام اس متعلقہ سرکاری ملازم کی موجودگی میں ہوجائے۔
اگلی دفعہ جب وہ دوپہر کو پہنچتا ہے تین بجے کے قریب تو پتہ لگتا ہے کہ وہ سرکاری ملازم اپنے بچوں کو اسکول سے گھر چھوڑنے کے لئے نکلا ہے اور دوسرے ہاف میں بڑے افسر نے کوئی کام نہیں دیا اس لئے موصوف سرکاری ملازم گھر پر ہی آرام فرمائیں گے اور آج تو انہیں اب آنا نہیں ہے اس لئے آپ چلتے بنیں اور پھر کسی اور دن تشریف کا ٹوکڑا لائیے۔
یہ بدقسمت اب سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ اب میرا یہ کام کیسے ہوگا ؟
پھر یہاں سے شروع ہوتا ہے وہ گورکھ دھندا جہاں یہ بدقسمت آدمی مجبوری میں مبتلا ہوتا ہے وہ یہ کہ اسے اپنا جائز کام کروانے کے لئے کسی اور سرکاری ملازم کو جس کا یہ کام نہیں ہوتا اس کی منت سماجت کرنی ہوتی ہے اور وہ دوسرا سرکاری ملازم اس کا کام فری میں کیسے کرے ؟  یا پھر وہ اس متعلقہ سرکاری ملازم کا کوئی دوست اور رشتہ دار تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اپنے دوست اور رشتہ دار کی دوستی اور رشتہ داری نبھانے کی خاطر ہی اس بندے کا کام وقت پر اور صحیح طرح کردے۔
یہاں سے وہ رشوت ستانی کا بازار پنپتا شروع ہوتا ہے اور پہنچتے پہنچتے اس عروج کو پہنچ چکا ہوتا ہے جہاں سے واپسی کی صورت اس متعلقہ ادارے کی بربادی اور اپنا کام نہ کرنے کی وجہ سے اس ادارے کی بندش اور اس سے متعلقہ افراد کے روزگار کے منقطع ہونے کی صورت میں ہی ہوتی ہے۔
آج کی جدید دنیا میں تو نجی اداروں نے اپنے کسٹمرز کو اپنی خدمات کو اچھے طریقے سے پہنچانے کی بنیاد پر اپنے کاروباری حلقے کو بہت بڑے پیمانے پر پھیلادیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری ادارے جن کے پاس مفت کا عوام کے ٹیکس سے جمع شدہ مال وافر مقدار میں ہوتا ہے وہاں اپنی خدمات کو متعلقہ افراد تک خدمت کے جذبے سے پہنچانے کے بجائے احسان کے جذبے سے پہنچاتے ہیں اور وہ بھی نامکمل جس کی وجہ سے سرکاری ادارے سفید ہاتھی کے مانند عوام کے ٹیکس کے مال پر جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں اور آئے دن ہم اس طرح کے اداروں سے متعلقہ خبریں میڈیا پر دیکھتے رہتے ہیں۔
جدید دنیا میں نجی شعبے سےوابستہ افراد اپنے ادارے میں رشوت ستانی، کام چوری اور وقت پر آنے جانے  کی عدم پابندی کے مسائل سے نمٹنے کے لئے اپنے اداروں کی کارکردگی کو خود بھی جانچتے ہیں (Internal Control)انٹرنل کنٹرول اور (Internal Audit)انٹرنل آڈٹ کے ذریعے مگر اس کے مقابلے میں سرکاری ملازمت سے وابستہ افراد کے بڑے کرتا دھرتا اپنے اداروں میں ہونے والی خرابی کا صرف رونا روتے ہیں اور عملی اقدام کسی طور پر نہیں کرتے کیونکہ سرکاری ملازمت کا اصل فائدہ یہی تو تھا کہ کام میں ہڈحرامی اور کام چوری کرکے بھی تنخواہ پوری لینا اور اداروں کی خراب کارکردگی کو ایک دوسرے پر تھونپتے رہنا۔اور اگر بالفرض کبھی دل میں یہ خیال آبھی گیا کہ واقعی اس خراب صورتحال کو سدھارنا چاہئے مگر یہ سوچ کر کہ اس سدھار کے چکر میں پورا وقت دینا پڑے گا اور کام بھی پورا کرنا پڑے گا وہ بھی ماہانہ تنخواہ کے علاوہ دیگر کوئی مراعات کے بغیر تو پھر اس خیال کو جھٹک دیا جاتا ہے۔
اور اسی طرح کی بہترین سرکاری ملازمت میں اپنی مدت ملازمت پوری کرنے پر ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے ساتھیوں سے (Farewell)فئیرویل پارٹی لیتے وقت مختلف تقاریر میں جھوٹی تعریفیں سمیٹنا، یہی وہ اصل مزہ ہے جس کی وجہ سے ہڈ حرام اور کام چور لوگوں کو سرکاری ملازمت کی حد سے زیادہ لالچ ہوتی ہے ۔ اور خدمت کے جذبے سے سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے اگر کچھ لوگ اس سرکار میں جو آگئے ہیں، وہ ان ہڈحراموں اور کام چوروں کی ہرجگہ بھرمار دیکھ کر مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس دلدل میں عمر کے اس حصے میں پھنس چکے ہوتے ہیں جہاں سے واپسی سرکاری ملازمت چھوڑنے کی صورت میں اپنے اور اپنی فیملی کے لئے نہایت تکلیف اور اذیت کا باعث بن سکتی ہے۔ اور اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ سرکاری ملازمت کے لئے آنے والے اشتہارات کے مقابلے میں موصول ہونے والی آسامیاں ایک کے مقابلے میں سینکڑوں اور ہزاروں کے تناسب سے ہوتی ہیں۔
سرکاری ملازمت کے اصل تقاضے
اب اس رویے سے باز کیسے رہا جائے؟ یہ ایک ایسا چبھتا ہوا سوال ہے جو میڈیا، ٹاک شوز میں زیر بحث لایا جاتا ہے مگر اس کے حل کے لئے بلایا ان تبصرہ نگاروں کو جاتا ہے جو خود اس سرکاری ملازمت سے وابستہ رہ کر عوام کا مال ضائع کرچکے ہوتے ہیں تو بھلا ایسے کس طرح یہ رویہ درست ہوگا؟کہ چوری روکنے کے لئے چور سے ہی مشاورت کی جارہی ہو۔
موجودہ سرکاری ملازمین اگر اپنے اداروں کی کارکردگی کو واقعی میں سدھارنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے بڑے افسران کی ذمہ داری پہلے آتی ہے۔
پہلا کام ان بڑے افسران کو یہ کرنا ہوگا کہ انہیں خود وقت کی پابندی کے ساتھ آنا اور جانا ہوگا اور جو جتنے بڑے گریڈ پر ہے اس کی ذمہ داری صرف خود کے پابندی کرنے سے پوری نہیں ہوگی بلکہ اسے اپنے ماتحتوں کو وقت پر آنے اور جانے کے حوالے سے جدید طریقہ کار کو اپنے اداروں میں لاگو کرنا ہوگا چاہے اس کی وجہ سے کتنے ہی من چلوں اور چاپلوسوں کو تکلیف ہو مگر جب سدھار کا ارادہ کیا ہی ہے تو یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا اور آج کی دنیا میں بائیو میٹرک حاضری کا بہترین طریقہ سستے داموں مارکیٹ میں موجود ہے۔
دوسرا بڑا کام ان بڑے سرکاری افسران کے ذمہ یہ ہے کہ وہ خود سرکاری مال کو ذاتی مال نہ سمجھیں اور حدیث کے مطابق ایک جیسا قانون اپنے اوپر اور اپنے ماتحتوں پر لاگو کریں۔ یہ وہ انگریز کا سامراج کا دور نہیں جہاں انگریز بہادر کی قوم کے لئے الگ قوانین لاگو تھے اور ماتحتوں کے لئے الگ۔ اس اسلامی ریاست میں حدیث کے مطابق بڑے افسران جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں اسی کا انتخاب اپنے ماتحتوں کے لئے کرنے کا سلیقہ بھی انہیں سیکھنا ہوگا اور اسے سو فیصد اپنانا بھی ہوگا۔
تیسرا بڑا کام جو بڑے افسران کی طبعیت پر بہت ہی گراں گزرسکتا ہے وہ یہ کہ موجودہ دور میں سرکاری ملازمت سے وابستہ ہونے والے نئے جوان لڑکے اور لڑکیاں ان بڑے افسران سے زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ۔ اب بڑے افسران پر یہ اخلاقی، ملی اور قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کو اپنا ذاتی کلرک بنانے کے بجائے ان کی علمی استعداد کو قوم کے مفاد میں استعمال کرنے کے حوالے سے غوروفکر کریں نہ کہ اپنے صرف ذاتی استعمال کے لئے۔ بڑے افسران کی اکثر کی طبعیت یہی ہوتی ہے کہ جس طرح ان کی پچھلی دس سے پندرہ سال کی مدت ملازمت میں چاپلوس قسم کے حامل ماتحت ان کو ملے ہیں جو ان کے ذاتی کام کو سرکاری وقت میں کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے جس سے وہ ملک وقوم کے مال میں خیانت کے مرتکب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب بہادر کی عارضی خوشی سمیٹ لیتے تھے۔ اب ان بڑے افسران کو نئے آنے والے سرکاری ملازمین جو ان سے زیادہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں سے بھی اسی قسم کی عبث توقع ہوتی ہے جو ظاہر سی بات ہے پوری کسی طور پر نہیں ہوسکتی۔
اور بڑے افسران کی کم ظرفی کی وجہ سے نقصان ملکی ادارے کو پہنچتا ہے کہ اس ادارے کی کارکردگی مزید تنزلی کا شکار ہوجاتی ہے اور بڑے افسران میں اکثر سول سروسز کے افسران ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف سول سروس کی اختیارات کی طاقت کے حصول کی خاطر اپنے میڈیکل اور انجینئرنگ کے بیک گراؤنڈ کو چھوڑ کر اس سروس کو جوائن کرلیتے ہیں اور ملکی مفاد کا استحصال کرتے ہیں اپنی کم ظرفی کے سبب۔
خلاصہ کلام
خلاصہ یہ ہے کہ سرکاری ملازمت کے حصول کی تمنا ایک اچھی چیز تو ہے مگر اچھے تعلیم یافتہ افراد کے لئے یہ سرکاری ملازمت ان کو زنگ آلود کرنے کا سبب بن رہی ہے  اور اس کی وجہ بڑے افسران کی کم ظرفی ہے جبکہ وسعت ظرفی اپنانے کے لئے ہمارے پاس ہماری اپنی مثالی تاریخ اور سیرت موجود ہے جس سے فیض حاصل کرنے کے بجائے بس ذاتی انا کی تسکین اور ذاتی عناد پر مشتمل پالیسی سازی کی جارہی ہے جس کا خمیازہ اعلی تعلیم یافتہ طبقے کی تخلیقی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ملکی اداروں کی ساخت کو بھی نقصان پہنچانے اور ان کو ناکارہ کرنے کی شکل میں کیا جارہا ہے۔
امید ہے کہ اس درد کو محسوس کریں گے اور وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرکے اس کی سنجیدگی پر غور کرکے اپنی اصلاح کی فکر کریں گے تاکہ ادارے اور ادارے سے وابستہ افراد کی صلاحیتوں اور کارکردگی میں مزید مثبت اضافہ ہو اور ہمارے ملک کو جس ترقی کی ضرورت ہے اس سے ہم بحیثیت قوم ہمکنار ہوں۔آمین

شیئر کریں: