Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ پرنس آف ویلز ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ پرنس آف ویلز۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

 

prince charles prince of wales king of England
یہ خبر پوری دنیا میں دلچسپی کے ساتھ سنی اور دیکھی گئی کہ انجہا نی ملکہ الزبتھ دوم کی رحلت کے بعد ان کے ولی عہد پرنس آف ویلز پرنس چارلس کو کنگ چار لس سوم کے نا م سے بر طانیہ کا باد شا ہ بنا یا گیا اور ان کے بیٹے ولیم کو ولی عہد کی حیثیت سے پرنس آف ویلز کا خطاب دیا گیا یہ بات پا کستان میں اکثر لو گوں کو عجیب لگتی ہے کہ دنیا کے اکثر مما لک میں انگریزی زبان کا را ج ہے لیکن ویلز میں انگریزی کی جگہ مقا می زبان ویلش رائج ہے جس نے انگریزی کی جگہ لی ہے بر طا نیہ کا ولی عہد ہو یا باد شاہ کوئی بھی ویلش کی جگہ انگریزی رائج نہیں کر سکتا، ویلش Welsh کو یہ در جہ 1707کے معا ہدہ الحاق کی وجہ سے ملا ہے اس معا ہدے کی رو سے ویلز، سکا ٹ لینڈ اور شما لی آئیر لینڈ نے انگلینڈ کے ساتھ مل کر یونا ئٹیڈ کنگڈم (یو کے) بنا نے کا اعلا ن کیا اوراپنے لئے اندرونی خود مختاری کی سند حا صل کی اس سند کی رو سے پرنس آف ویلز کو یہ حق نہیں کہ وہ شا ہی حکم کے ذریعے وہاں ویلش کی جگہ انگریزی رائج کر سکے اقوام و قبا ئل کی زند گی میں ایسے موڑ اور ایسے مقا مات آتے ہیں جب ان کو حا لات کے مطا بق سمجھو تہ کرنا پڑ تا ہے

 

کسی دوسری قوم کے ساتھ اتحاد کی ضرورت پیش آتی ہے یا کسی بڑے مقصد کو حا صل کرنے کے لئے وقتی طورپر جھکنا پڑتا ہے لیکن غیور اور خود دار قوم یا قبیلہ ایسے موڑ پر اپنی شنا خت، اپنی پہچان اور اپنے نا م یا ننگ و نا مو س کو بر قرار رکھتا ہے، اپنی زبان، اپنے لباس، اپنے رسم و رواج کو سینے سے لگا کر رکھتا ہے ویلز کے دار الحکومت کا رڈیف میں کر کٹ میچوں کی بڑی شہرت ہے کا رڈیف کے اندر گھومنے پھر نے والے سیا ح جا نتے ہیں کہ پورے شہر میں سائن بورڈ ویلش زبان میں لکھے ہو تے ہیں، سکولوں میں ویلش پڑ ھا ئی جا تی ہے، دفتری زبان بھی ویلش ہے ویلز کے لو گوں کو انگریزی سے کدورت نہیں، انگریزی بھی انگلینڈ والوں کی طرح بولتے ہیں اور لکھتے ہیں مگر انہوں نے انگریزی کو مقا می زبان پر فو قیت اور تر جیح نہیں دی، انگلینڈ کے ساتھ اتحا د اور الحا ق کر لیا لیکن اپنی شنا خت، اپنی زبان اور اپنی ثقا فت کا سودا نہیں کیا یہ اُس وقت کی بات ہے جب اقوام متحدہ جیسی عالمی تنظیم کا وجود نہیں تھا، عالمی قوانین اور کنو نشن نہیں تھے، مقا می لو گوں کو ایبو ری جینز(Aborigins)یا انڈی جے نس (Indigenous) کا در جہ نہیں دیا گیا تھا، اس کے باو جود یہ لو گ جا نتے تھے کہ اپنی زبان اور ثقا فت کا تحفظ ہمارا پیدائشی حق ہے،

 

انگلینڈ کی محبت میں ہم اپنے حق سے دست بردار نہیں ہو سکتے اور دنیا کی کوئی قوم ہمیں اپنی شنا خت سے دست بردار نہیں کر سکتی، امریکہ کے ایمش اور کینڈا کے مینو نائٹ بھی ایسے لو گ ہیں جو سمندر میں رہتے ہوئے قطرے کی انفرا دیت کو سینے سے لگا ئے بیٹھے ہیں ان کے مقا بلے میں دولت مشترکہ یا کامن ویلتھ میں شا مل مما لک کا حال بہت پتلا ہے ان مما لک کو یہ پٹی پڑ ھا ئی گئی ہے کہ تم سو سال تک بر طا نیہ کے غلا م تھے، غلا می کے دور میں ہم نے تم کو اپنا لبا س دیا، اپنی زبان دی، اپنا کلچر دیا اب تم غلام نہیں رہے مگر زبان اور ثقا فت میں رہن سہن میں ہماری پیروی کرو ہم نے دولت مشترکہ کا پلیٹ فارم اس لئے بنا یا ہے کہ تمہیں تمہا ری غلا می کا زما نہ یا د دلا تے رہیں پس تم انگریز ی پڑھو، انگریزی بولو، ہمارا لباس پہنو، ہمارا کلچر اپناؤ تا کہ غلا می کا وہ زما نہ تمہیں یا د رہے اور تمہا ری نسلوں کو بھی یا د رہے بر طا نیہ کے ولی عہد شہزادے کو پرنس آف ویلز کہا جا تا ہے مگر ویلز میں ان کی زبان نہیں، ان کا لباس نہیں چلتا، ویلز کے لو گوں نے اپنی زبان کو اپنی آزادی اور خود مختاری کا وسیلہ، ذریعہ اور واضح نشا ن بنا یا ہوا ہے علا مہ اقبال نے کہا ؎
غیرت ہے بڑی چیز جہان تک و دو میں
پہنا تی ہے درویش کو تا ج سر دارا


شیئر کریں: