Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت کسی تعلیمی بورڈ کو ختم نہیں کر رہی بلکہ امتحانی نظام میں اصلاحات لارہے ہیں جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے۔وزیراعلیِ محمود خان

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی حکومت کسی تعلیمی بورڈ کو ختم نہیں کر رہی بلکہ امتحانی نظام میں اصلاحات لارہے ہیں جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے۔وزیراعلیِ محمود خان

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی تعلیمی بورڈ کو ختم نہیں کر رہی بلکہ امتحانی نظام میں اصلاحات لارہے ہیں جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ تعلیمی بورڈز اپنی جگہ موجود رہیں گے اوربورڈ ملازمین کو اس سلسلے میں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے پورے صوبے کیلئے یکساں امتحانی نظام متعارف کرانا ہے جس کا مقصد امتحانات کے متفرق اور امتیازی طریقوں کو ختم کرکے سب کیلئے ایک جیسا نظام وضع کرنا ہے ۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ شعبہ تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا صوبائی حکومت کی شروع دن سے ترجیح رہی ہے اور اس مقصد کیلئے متعدد نئی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں جن کا حتمی مقصد اپنے بچوں کو جدید چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ امتحانی نظام میں اصلاحات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس سے کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے یکساں نصاب تعلیم کو فروغ دینے کیلئے عملی اقدامات کئے ۔ اب ہم جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے پورے صوبے کیلئے یکساں امتحانی نظامبھی متعارف کروانا چاہتے ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ہم تعلیمی بورڈز ختم نہیں کر رہے بلکہ امتحانی نظام میں اصلاحات لا رہے ہیںجو وقت کا تقاضاہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبہ بھر کے تمام بچوں کو ایک جیسا پیپر اور ایک جیسا مارکنگ سسٹم دینا نا گزیر ہے ۔ امتحانی نظام میں اصلاحات کی وجہ سے کسی کو تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارا فوکس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریع امتحانی نظام میں جدت لانا ہے ۔ اُنہوںنے کہا کہ ہم اپنے شعبہ تعلیم کو بتدریج بین الاقوامی میعار کی طرف لے جارہے ہیںجس کیلئے اصلاحات ناگزیرہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ دُنیا تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ،اگر ہم جدیددُنیا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اُنہی خطوط پر اقدامات کرنا ہوں گے ،بصورت دیگر ہم ترقی کی دوڑ میںبہت پیچھے رہ جائیں گے ۔اُنہوںنے مزید واضح کیاکہ زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق جدید نظام اور رجحانات کا فروغ ہمارے لئے ناگزیر ہو چکا ہے ،اس کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبہ بھر کیلئے یکساں امتحانی نظام کے فروغ سے شفاف او ر معیاری امتحانات کا انعقاد ممکن ہو گااور امتحانات کے حوالے سے عوامی تحفظات اور خدشات کو بھی دور کرنے میں مدد ملے گی ۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ کوبورڈز ملازمین کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے وزیر تعلیم شاہرام ترکئی نے بتایا کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا چکے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ بورڈ ملازمین کے تمام تر خدشات کو دور کر دیا گیا ہے اور یقین دلایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت تعلیمی بورڈز کو ختم نہیں کر رہی ۔ یہ بورڈز اپنی جگہ سہولیات کی فراہمی جاری رکھیں گے۔ حکومت کا مقصد صرف امتحانی نظام میں اصلاحات لانا ہے جس کے تحت صوبے کے تمام بچوں کو ایک جیسا پیپر، ایک جیسا مارکنگ سسٹم اور یکساں سہولیات میسر ہوں گی ۔ علاوہ ازیں امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے ڈیجیٹل طریقے سے پیپرز کی تقسیم سمیت دیگر اہم اُمور بھی ڈیجٹیائزڈ کئے جائیں گے ۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ امتحانی نظام میں اصلاحات پر کام شروع کر دیا گیا ہے جسے تیزرفتاری سے مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ امجد علی خان، سیکرٹری تعلیم معتصم بااللہ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
<><><><><><><><>

صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی سے خیبر پختون خوا بورڈز امپلائیز کورڈنیشن کونسل کی ملاقات، ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم شہرام خان ترکئی سے خیبر پختون خوا بورڈز ایمپلائیز کوارڈنیشن کونسل ممبران نے ملاقات کی۔ اس موقع پر ممبران نے صوبائی وزیر کو صوبے کے بورڈز ملازمین مسائل بارے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی نے کہا کہ بچوں کے مستقبل کو کسی صورت داو پر نہیں لگایا جا سکتا۔ کسی تعلیمی بورڈ کو ختم نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی کسی بورڈ کے فنڈزختم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا حکومت بورڈ میں اصلاحات ہر صورت لائے گی انھوں نے واضح کیا کہ کسی کی پروموشن کوٹے کو ختم نہیں کیا جا رہا ہے۔ امتحانات کے طریقہ کار کو مذید بہتر بنایا جا ئے گا۔اس موقع پر خیبر پختون خوا بورڈز ایمپلائیز کوارڈنیشن کونسل کے چیرمین طارق خان اور جنرل سیکرٹری عمر فاروق کے ہمراہ تمام بورڈزکے دیگر عہد یداران بھی موجود تھے،

 

chitraltimes provincial housing employees flood contribution

صوبائی پلاننگ سروس کے ملازمین کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے فنڈز عطیہ, چیک وزیراعلیِ کے حوالے کردیا گیا

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبائی پلاننگ سروس کے ملازمین کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے فنڈز عطیہ کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے پلاننگ سروس کے افسران کا تعاون قابل ستائش ہے جنہوں نے رضاکارانہ طور پر پانچ دنوں کی تنخواہ سیلاب زدگان کے لئے وقف کی ہے۔ واضح رہے کہ منگل کے روز پلاننگ سروس کے گریڈ 17 اور اوپر کے تمام افسران کی جانب سے سیلاب زدگان کے لئے جمع کیے گئے 78 لاکھ روپے کا چیک وزیراعلیٰ محمود خان کے حوالے کیا گیا۔ صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کا تعاون قابل تعریف ہے جس سے یقینا سیلاب متاثرین کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں جن کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی اور ان کی بحالی کے لیے معاشرے کے تمام طبقات خصوصاً مخیر حضرات، سماجی تنظیموں اور متعلقہ اداروں کو بھر پور کردار ادا کرنا ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں نہایت سنجیدہ ہے، مشکل مالی حالات کے باوجود سیلاب متاثرین کیلئے امدادی پیکج میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب زدگان کی تیز رفتار بحالی حکومت کی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔قبل ازیں وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبائی پلاننگ سروس کے افسران نے رضاکارانہ طور پر اپنی پانچ دن کی تنخواہ سیلاب زدگان کے لئے عطیہ کی ہے۔
<><><><><><>


شیئر کریں: