Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیراہتمام طلبا وطالبات کیلیے ای لرننگ پروگرام کا آغازکردیا گیا

شیئر کریں:

ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیراہتمام تمام طلبا وطالبات کیلیے ای لرننگ کے پروگرام کا آغاز کردیا گیا

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے پوھا(POHA) کے نام سے صوبے کے تمام طلباء و طالبات کے لئے ای لرننگ(E-Learing) کے پروگرام کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت موجود اسکول جوکہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاونڈیشن کے تحت مختلف سکیمیں میں قائم کی گئی ہیں ان میں پڑھنے والے تمام طلباء وطالبات کو آن لائن کورس پڑھایا جائے گا GCS اور ESS کے سکولز میں پڑھانے والے اساتذہ کو E-LMS کے تحت لرننگ کے طریقے سکھائے جائیں گے جن علاقوں میں سکولز نہیں ہے وہاں تعلیمی رضاکاروں کے خدمات حاصل کی جا ئیگی اور فاصلاتی تعلیم کے ذریعے کل کو طلباء کو پڑھانے کیلئے مواد پہنچایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی سٹوڈیو قائم کر دیا گیا ہے اور سو سے زیادہ معیاری ویڈیو بنا دی گئی ہے سرکاری اساتذہ خود سٹوڈیو کے ذریعے ویڈیو بنا رہے ہیں تاکہ یہ عام فہم اور مقامی ضروریات کیا مطابق ہو یہ سارا نظام موجودہ وسائل میں تیار کیا جائیگا اور اس کیلیے کسی بیرونی امداد وغیرہ قبول نہیں کیا گیا ہے۔

 

ESEF کے ای گوننس سیل اس کا نگران مقرر کیا گیاہے گزشتہ کئی سالوں سے ای ایس ایف کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے اور بہت سارے مسائل زیر التوا تھے ماضی قریب میں چند اقدامات کے ذریعے فاؤنڈیشن کا احیاء کیا گیا جس میں خصوصاََ ای گورننس سسٹم کا آغاز تمام اساتذہ اور طلبا و طالبات کا digital profiling شامل ہے جس کے نتیجے میں GCS اساتذہ کو تنخواہوں اور بقایاجات کی مد میں 1422ملین روپے کی ادائیگی کی گئی،واچر سکول کے پرانے بقایاجات میں 226سکولوں کو 103ملین کی ادائیگی ہوئی BECSاور NCHDسکولوں کیلیے PC-1بنایاگیا اور منظوری کے بعد 447اساتذہ کو113ملین ادا کئے گئے اور اس میں شفافیت کیلئے کمپیوٹرائزڈ کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے ایجوکیشن سپورٹ سکیم (ESS)کا آغاز کردیا گیا ہے جو کہ اول سے لے کر آخر تک automated اور کمپیوٹرائزڈ نظام ہے یہ ان علاقوں کے لیے ہیں جہاں کوئی سرکاری اسکول موجود نہیں ہے طلباء کا آن لائن فری کیمرہ کے ذریعے software پر ہے اور اسکول کو ادائیگی آن لائن ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے New Schools Initiatives کو دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور رجسٹریشن ہوگئی ہے.

 

یہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ماڈل ہے جس میں معیاری تعلیم ان علاقوں کو مہیا کی جارہی ہیں جہاں پر کسی قسم کا کوئی سرکاری یا پرائیوٹ تعلیمی اداروں موجود نہیں ہیں مانیٹرنگ نظام کو مستحکم کرنے کے لیے تمام ضلع میں مرد و خواتین مانیٹرنگ سٹاف کو ایٹا کے ذریعیبھرتی کیا گیا ہے مردمانیٹرنگ سٹاف کیلیے موٹر سائیکل جبکہ خواتین سٹاف کیلیے ٹرانسپورٹ فراہم کی گئی ہے جس کے نتیجے میں مانیٹرنگ کے visits میں 700 گناہ اضافہ ہوا ہے اور اسکا ریکارڈ اب کمپیوٹرائزڈ ہے ESEF مالیاتی اور انتظامی امور کو مزید بہتر بنانے کے لئے انتظامی ڈھانچہ کو مکمل تبدیل کردیا گیا ہے اور نئے دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہویے شعبہ جات بنائے گئے ہے مالیاتی نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عمل جاری ہے اور دفتری امور کو paperless کیا جا رہا ہے طلبا اساتذہ اور عوام کیلیے نیا ویب سائٹ شروع کیا گیا ہے اور سوشل میڈیا کا موثر استعمال یقینی بنایا جارہا ہے سابقہ فاٹا کے اضلاع بھی ESEF میں ضم کرنے کا قانون بنا کر محکمہ قانون کو بھجوا چکا ہے تاکہ قبائلی طلباوطالبات بھی ان اچھی کاوشوں سے فائدہ اٹھائیں ESEF کو مزید بہتر بنانے کے لئے بنیادی قوانین میں ترمیم کی جا رہی ہے اور اس کے علاوہ اضلاع کو موثر بنانے کے لیے گاڑیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی و دیگر سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔
Chitraltimes shahram khan tarakai eef e learning2


شیئر کریں: