Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نیب قوانین میں ترمیم : شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنسز ختم

Posted on
شیئر کریں:

نیب قوانین میں ترمیم : شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنسز ختم

لاہور(چترال ٹایمز رپورت) قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں ترمیم کے تحت نیب ریفرنسز میں نامور سیاست دانوں کو بڑا ریلیف مل گیا جبکہ نیب ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ عدالتوں سے واپس بھجوائے گئے کیسز کا حتمی فیصلہ ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں ہوگا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران نیب قوانین میں ترمیم کے بعد وزیراعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز، راجا پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف عائد الزامات سمیت 50 کرپشن ریفرنسز احتساب عدالتوں نے واپس کر دیے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس ختم ہوگیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کے 6 کرپشن ریفرنسز واپس لے لیے گئے ہیں۔اسی طرح پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف یو ایس ایف فنڈ میں کرپشن کا ریفرنس واپس لے لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار مہتاب عباسی اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد کے خلاف لوک ورثہ میں مبینہ خرد برد کا ریفرنس بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

 

نیب قوانین میں ترمیم کے بعد مضاربہ اسکینڈل اور کمپنیز فراڈ کے ریفرنسز بھی احتساب عدالتوں سے واپس لے لیے گئے ہیں۔دوسری جانب نیب کے ترجمان کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے کسی عدالت سے کوئی ریفرنس واپس نہیں لیا گیا، نئے قوانین کے تحت مختلف عدالتوں سے واپس بھجوائے گئے کیسز پر حتمی فیصلہ ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں ہوگا۔ذرائع کے مطابق نیب قانون میں ترمیم کے بعد احتساب عدالتوں کی جانب سے 150 کے قریب کیسز واپس بھجوائے گئے،عدالتوں سے واپس بھجوائے گئے کیسز پر نیب فیصلہ کرے گا کہ ایف آئی اے سمیت کسی تحقیقاتی ایجنسی یا متعلقہ محکموں کو بھجوایا جائے یا نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز تاحال عدالت نے واپس نہیں بھجوائے نہ ہی نیب نے واپس لینے کی استدعا کی ہے، نئے احتساب قوانین کے تحت پنڈی اسلام آباد سے 68کیسز، لاہور سے 47، کراچی سے 50 سے زائد کیسز عدالتوں نے واپسی کیے۔عدالتوں کی جانب سے دائرہ اختیار کے تحت واپس بھجوائے جانے والے کیسز پر نیب ہیڈکوارٹر نے تمام بیوروز سے فہرستیں طلب کر لی ہیں لیکن تاحال نیب ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ طلب نہیں کی گئی۔ بیوروز کی جانب سے موصول کیسز پر حتمی منظوری ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں لی جائے گی۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان کے خلاف نیب ریفرنس واپس نہیں ہوئے،وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا کیس نہ ہی عدالت نے واپس نہیں کیا ہے نہ ہی نیب نے کیس واپس لینے کی استدعا کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے چیئرمین نیب نے کوئی کیس واپس لینے کی ہدایات نہیں کی ہے۔

 

5 سے 11 سال تک کے بچوں کو کورونا ویکسین لگانے کا آغاز

اسلام آباد(سی ایم لنکس)ملک بھر میں 5 سے 11 سال کی عمر تک کے بچوں کو کورونا ویکسین لگانے کا آغاز ہوگیا۔قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق ملک بھر میں 5 سے 11 سال کی عمر تک کے بچوں کو کورونا وائرس سے بچانے کیلئے ویکسین تمام مراکز پر بلکل مفت دستیاب ہے۔این آئی ایچ کی جاری کردہ ہدایات میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی دوسری خوراک 21 دن بعد لگوائی جائیں جبکہ دونوں خوراکوں کے درمیان 56 دن سے زیادہ کا وقفہ نہ ہو۔دوسری جانب ملک میں کورونا وائرس کے وار جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 90 مثبت کیسز سامنے آئے جس میں 89 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔قبل ازیں گزشتہ روز راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے کورونا سے بچاؤ کیلئے مہم کے دوران والدین اپیل کی ہے کہ بچوں کو حفاظتی انجکشن لگوائیں تاکہ انہیں موذی مرض سے بچایا جاسکے۔

 

صدر عارف علوی نے مرکزی نظامت برائے قومی بچت کی جانب سے شرح ِمنافع میں ماضی کی نسبت کمی بدانتظامی قرار دے دی

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مرکزی نظامت برائے قومی بچت کی جانب سے شرح ِمنافع میں ماضی کی نسبت کمی بدانتظامی قرار دیتے ہوئے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف خاتون شہری کی درخواست منظور کر لی۔ایوان صدر میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے قومی بچت کو اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس پر خریداری کے وقت کی شرح ِ منافع کے حساب سے شہری کو منافع ادا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قومی بچت نے منافع کی شرح میں مؤثر بہ ماضی کمی کر کے بدانتظامی کی،صرف پارلیمنٹ/قانون ساز ادارے قانون کو منظور ہونے سے پہلے کی تاریخ سے نافذکر سکتے ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ قانون کے برعکس منافع کی شرح میں نظرثانی سے شہری کو 53 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔خاتون شہری نے قومی بچت سے پانچ سرٹیفکیٹس 12.7فیصد،چھٹا سرٹیفکیٹ 13.9فیصد منافع کی شرح سے خریدا،چار دن بعد فنانس ڈویڑن نے منافع کی شرح کو نافذ بہ ماضی کم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا،شہری سرٹیفکیٹ کے اجراء کے وقت کی شرح منافع کے مطابق منافع کی حقدار ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ شرح ِمنافع میں تبدیلی کا اطلاق نوٹیفکیشن سے پہلے کی گئی سرمایہ کاری پر نہیں ہوتا،

 

جاری کردہ نوٹیفکیشن ماتحت یا تفویض شدہ قانون سازی کے زمرے میں آتا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ نوٹیفیکیشن کا اطلاق سرکاری گزٹ میں تاریخ ِ اشاعت سے ہوتا ہے نہ کہ پہلے کی تاریخ سے،حکومت قانون کی طرف سے مجاز نہ ہو تو نافذ بہ ماضی حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتی،کوئی بھی حکم سرکاری گزٹ میں اس کی اشاعت کی تاریخ سے نافذ ہوتا ہے،حکومت کیلئے اپنے عہد سے پیچھے ہٹنا مناسب نہیں،ایفائے عہد نہ کرنے سے حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد ختم ہو سکتا ہے،حکومتی اداروں کا اپنے پیمان سے وفا نہ کرنا حکومتی ساکھ پر منفی اثر ڈالتا ہے،موجودہ قانون طے شدہ قانونی اصولوں اور سورہ المائدہ کی پہلی آیت کے مطابق قرآنی احکامات پر مبنی ہے،معاہدوں کو پورا کرنا منطقی اور منصفانہ ہے بلکہ عالمی طور پر قبول شدہ اصول ہے،دونوں فریق سرٹیفکیٹس کے اجراء کے وقت کیے گئے معاہدے کے پابند ہیں، صدر مملکت نے کہا کہ سرٹیفکیٹس پر 12.7فیصد اور 13.9فیصد کی شرح کے حساب سے وعدے کے مطابق منافع ادا کیا جائے۔شہری نے منافع کی مروجہ شرح دیکھتے ہوئے قومی بچت سے سرٹیفیکیٹ خریدے،خزانہ ڈویڑن کے نوٹیفکیشن نے چار دن پہلے سے نافذ بہ ماضی منافع کی شرح کو کم کردیا،شہری نے اپنی شکایت کے ازالے کے لیے قومی بچت اور بعد میں وفاقی محتسب سے رابطہ کیا۔ریلیف نہ ملنے پر شہری نے صدر مملکت کو درخواست دائر کی، جسے منظور کر لیا گیا۔


شیئر کریں: