Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کیلئے حکومتی اقدامات ۔ تحریر: مختیار احمد

Posted on
شیئر کریں:

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کیلئے حکومتی اقدامات ۔ تحریر: مختیار احمد

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو غیر معمولی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی شدید تباہی کا سامنا ہے، پاکستان میں سیلاب سے قومی و صوبائی سطح پر جانی و مالی تباہ کاریاں ہوئی ہیں جن کی وجہ سے پورے ملک میں غم کا سماں ہے اور نقصانات پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے خیبرپختونخوا میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب نے تباہی مچائی اور وسطی، بالائی اور جنوبی اضلاع میں کافی نقصانات ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور ادارے مکمل فعال انداز میں امدادی سرگرمیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کر رہے ہیں صوبائی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی 2017 میں پہلی صوبائی موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی بنائی اور اب صوبائی موسمیاتی تبدیلی کا عملی منصوبہ 2022 میں تجدید کیا گیا جو قومی موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی 2021 سے مطابقت رکھتا ہے جس کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنا ہے صوبائی موسمیاتی تبدیلی کا یہ عملی منصوبہ 2022 اور موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات سے بچنے کے لئے صوبائی حکومت کی صوبے اور قومی سطح پر کی جانے والی کوششیں انتہائی قابل ذکر ہیں

 

،2022کی پالیسی میں موسم اور ماحولیات پر اثر انداز ہونے والے 129 عوامل کی تخفیف، 172 امور اپنا نے کیلئے ایکشن پلان کو مختلف درجات میں تقسیم کر کے متعدد قلیل و طویل المدتی اقدامات و ترجیحات شامل کئے گئے جس سے ایک پائیدار انفراسٹرکچر وجود میں آئے گا،ماحولیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات میں نمایاں کمی واقع ہو گی، شجرکاری کی حکمت عملی مزید مضبوط ہو گی اور تمام سٹیک ہولڈرز کو مکمل اعتمادحاصل ہوگا اور آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا ماحول میسر آئے گا،گندے پانی کی صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو نافذ کر کے صفائی و ستھرائی اورعام شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی ہو گی، پالیسی کے تحت تمام دریاؤں کے کناروں کی صفائی ستھرائی مہم شروع ہوگی اور دریا کے کنارے تمام ہوٹل مالکان کو باقاعدہ نوٹس جاری کر کے گندا اور استعمال شدہ پانی دریاؤں میں گرانے سے منع کیا جائے گا پالیسی کے تحت خشت بھٹیوں کی آلودگی پر قابو پانے کے لیے زک زیگ ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے،

 

خیبر پختونخوا کے توانائی کے شعبے کی استعداد کار میں اضافہ کرنا اور صنعتی شعبے کی ترقی اور توانائی کے بچت بارے آگاہی و شعور اجاگر کرنا جبکہ خیبر پختونخوا میں زراعت کافروغ اور زرعی پیداواری نظام کو بڑھانا، ایگریکلچر پلان،ماڈلز تیار کرنا اور زرعی تحقیقی اداروں میں موسمیاتی تبدیلی کے یونٹں قائم کرنا، زرعی شعبے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو بھی کم کرنا اور زراعت و لائیوسٹاک بارے میں شعور اجاگر کرنا اور مویشیوں کی پیداوار بڑھانا، لائیو سٹاک سیکٹر میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جنگلات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے پا لیسی میں خیبرپختونخوا کے جنگلات پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لئے جنگلات کو آگ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا، عوام میں شجرکاری و تحفظ کے بارے آگاہی پیدا کرنا، جنگلات کی کٹائی کو کو روکنا،کاربن کے اخراج کو کم کرنا، جنگلی حیات کو فروغ دینا، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ بارے لوگوں کو آگاہ کرنااور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں خیبرپختونخوا میں مقامی لوگوں کے تعاون سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا شامل ہے کیونکہ جنگلات و جنگلی حیات دونوں علاقے کی خوبصورتی ہیں،

 

پرندوں کا غیر قانونی شکار نہیں ہونا چاہیے، پرندوں کو کھلی فضاؤں میں چھوڑنا چاہیے، جنگلات کی بہتات اور پرندوں کے اضافے سے ماحول خوشگوار رہتا ہے، صاف ستھرا ماحول بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے، بدقسمتی سے ماضی میں اس حوالے سے مختلف سطحوں پر غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ ہوا جس کا ثبوت یہ ہے کہ نہ کوئی پالیسی تھی نہ ہی کوئی حکمت عملی مرتب کی گئی تھی،ضروری قانون سازی نہیں ہوئی جس کی بدولت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچا جاسکتا۔ آخر کار پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے پہل کرکے نہ صرف موسمیاتی تبدیلی ایکشن پلان 2022 کی منظوری دی بلکہ اس پر عمل درآمد بھی شروع کر رکھا ہے اور اس مقصد کے لئے صوبہ بھر میں میگا پلانٹیشن شجرکاری مہم کے تحت پودے لگا کر ملک کی معاشی ترقی و ماحولیاتی اور قدرتی حسن میں اضافہ کر رہی ہے۔

 

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کیلئے یہ حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں جن کو کامیاب بنانے کیلئے عوام کا بھر پورتعاون درکار ہے تاکہ ہم اجتماعی کاؤشوں کے ذریعے نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات سے بچ سکیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی حتی المقدور خوشگوار ماحول اور تحفظ فراہم کر سکیں۔ بہتر یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے جدید طریقے اختیار کیے جائیں۔سیلابی پانی کو با مقصد بنانے کے لئے چھوٹے اور درمیانی درجے کے ڈیم بنا کر پانی کو زخیرہ کیا جائے تا کہ ملک کو سیلاب کی تباکاریوں سے بچا یاجا سکے۔مزید براں دریا ؤں نہروں کے کناروں پر بستیاں، ہوٹلز اور عمارتیں تعمیر کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

 


شیئر کریں: