Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اصل کرداروں کو بچانے کی “مخفی” کوشش ۔ عبدالحی چترالی

شیئر کریں:

اصل کرداروں کو بچانے کی “مخفی” کوشش ۔ عبدالحی چترالی

بونی ہسپتال میں چند روز پہلے ایک جوان سال بچی میڈیکل اسٹاف کی مبینہ مجرمانہ لاپرواہی اور بے حسی کے سرد جذبات کی وجہ سے اپنوں سے جدا ہو کر مسافران آخرت میں شامل ہو گئی تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گورنمنٹ آفیشلز اور عوام کی خدمت کے نام پر بھاری بھرکم تنخواہیں اور مراعات وصول کرنے والے شرمندہ ہوتے، واقعے کی مذمت کرتے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔

 

ہمیشہ کی طرح یہی ہوا کہ واقعے کے بعد عوام کی طرف سے حادثے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ ہوا۔ سوشل میڈیا پر کچھ ہل چل ہوئی، نجی مجالس میں چہ مہ گوئیاں ہوئیں اور ہوا درست جانب چل نکلی۔ خدا خدا کر کے ایک ابتدائی نوعیت کی کمیٹی بنائی گئی۔

اور اب کچھ پس پردہ “مخفی” لوگ اپنی کل ذہانت، چرب زبانی، لفاظی اور عقل و شعور کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے اپنی ذاتی انا کی تسکین یا پیشہ ورانہ تربیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں معلوم نہیں۔ متوفیہ کے گھر والوں کو تسلی نہیں دے سکتے، مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے تو کم از کم اتنا تو کرتے کہ خاموش رہتے۔ کسی کی جان چلی گئی اور آپ مشرق و مغرب کے فلاسفہ کو مات دے کر حقائق کو مسخ کرتے ہوئے بس اس کوشش میں لگے ہیں کہ کسی طرح آپ کے “مخفی” ٹولے کی گند صاف ہو جائے۔ اگر یہ غلط فہمی ہے تو ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ خدا را بچی کے والدین سے ملاقات کیجیے، وہاں پر موجود افراد کے انڈیپنڈنٹ سورسز سے بیانات لیجیے اور تمام شواہد انصاف کے ساتھ جمع کیجیے۔ اگر پھر بھی آپ کو لگے کہ”مخفی” ٹولہ حق پر ہے تو آپ اگر چہ مخطی ہوں لیکن مجرم نہ ہوں گے۔ لیکن اگر آپ سچ سمجھتے ہیں اور حق جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنی علمی استعداد کو کسی کی آہ لگوانا چاہتے ہیں تو یاد رکھیے کہ وقت بدلتا ہے، ایام کا الٹ پھیر کوئی اچھنبا نہیں، کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں! وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ.

اس ضمن میں میں پھر عرض کروں گا کہ بعض حضرات کی تحریر سے یہ بات بالکل واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ تحریر ایک فرمائشی تحریر ہے، جس کیلئے قلم کار کو باقاعدہ جھوٹ اور دروغ پر مبنی مواد فراہم کیا گیا ہے۔ جس دیدہ دلیری کے ساتھ متاثرہ والد کے ساتھ پیش آمدہ واقعات کی غلط تشریح اور سراسر من گھڑت تفسیر کی گئی ہے اس انداز بیان کو “تاویل القول ما لا یرضی به القائل” یعنی کسی کی بات کو اس کی مرضی کے خلاف بیان کرنا کہلاتا ہے. مذکورہ تحریر کو سرسری انداز سے دیکھتے ہی اس کے مندرجات کے غلط اور جھوٹ پر مبنی ہونے کا تاثر ملا تھا۔ بعد میں متاثرہ والد کے ویڈیو پیغام کے ذریعے وضاحت سے یہ تاثر یقین میں بدل گیا کہ بعض لوگ پارٹ ٹائم جاب کے طور پر آن لائن فساد پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ کچھ ذمہ دار حضرات اس بے بنیاد اور دروغ گوئی پر مشتمل تحریر کو اپنی فتح کی علامت کے طور پر مختلف فورمز پر وائرل کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کو انصاف دلوانے کی کوشش کرنے کی بجائے اسٹاف بچانے کی شرمناک حرکت کرتے ہیں. ان میں کچھ وہ بھی ہیں کہ جن کی سچائی کی گواہی دینے والے نہ پیدا ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے۔ ابلیس بھی حیران ہے کہ کیسا دور آیا کہ تلبیس میں ہمارے استاد بھی پیدا ہو گئے۔ یا للعجب!

 

قلم کی حرمت اور تقدس کا حق صرف اسی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے جب سچائی اور حقائق کو ذمہ داری کے ساتھ بیان کیا جائے۔ اب بحث برائے بحث مفید نہیں۔ اس سلسلے کی تحریروں کا مقصد نہ نمائش ہے اور نہ تنقید محض۔ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروا کر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے. نہ جانے ہم کب تک اس قسم کے لوگوں کو کمیٹی اور کمیشن کے حوالے کرتے رہیں گے اور خود کو مخفی رکھیں گے۔ نہ جانے کب تک۔۔۔


شیئر کریں: